Daily Mashriq

ایک دن، ثقافت کے زندہ امینوں کا

ایک دن، ثقافت کے زندہ امینوں کا

اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں سودیشیوں کا عالمی دن منایاجارہا ہے۔سودیشی ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ، کسی ملک وطن یا دیش میں جدی پشتی بودو باش رکھنے والے ، اس کے ادب ، ثقافت اور روایات کے امین ۔ مثال کے طور پر ہم میں سے بہت سارے لوگ اپنے آپ کو جدی پشتی پشاوری کہتے ہیں۔ اگر ان کی یہ بات یا دعویٰ درست مان لیا جائے تو ہم انہیں پشاور کے سودیشی لوگ کہیں گے۔ پکا پشاوری بھی کہہ سکتے ہیں۔ جدی اور پشتی پشاوری بھی کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ پشاور کے باسی بھی کہلائے جاسکتے ہیں ایسے لوگ ۔ اور جن لوگوں کے آباؤ اجداد پشاور سے تعلق نہیں رکھتے وہ حال ہی میں یا ماضی قریب میں کسی دور دیس سے تشریف لاکر یا ہجرت کرکے پشاور میں آباد ہوگئے ہیں تو انہیں ہم سودیشی کی بجائے بدیشی کے نام سے یاد کریں گے۔ بڑا تعصب بھر ی اصطلاح ہے ، سودیشی اور بدیشی کی سنسکرتی صفت دریافت کرنے والے سرزمین ہند کے متعصب یا انتہا پسند ہندو تھے ، لغت نگاروںکی تحقیق کی روشنی میں یہ اصطلاح اردو زبان میں بذریعہ خوبصورت بلا 1909 میں در آئی تھی ، برصغیر ہندوپاک کی سیاسی تاریخ میں پہلے پہل یہ اصطلاح 'سودیشی تحریک' کے نام سے اگست 1905 میں متعارف ہوئی تھی ، جب برصغیر ہند پر قابض انگریز سامراج نے تقسیم بنگال کا منصوبہ بنایا جس کو ناکام کرنے کی غرض سے انتہا پسند ہندو اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے خود کو' سودیشی 'اور انگریزوں کو' بدیشی 'کہہ کر ان کا حقہ پانی بند کردیا۔ ان کی مصنوعات کا با ئیکاٹ کرنے کے علاوہ ان سے قطع تعلق کا ہر وہ حربہ استعمال کیا جس نے ان کو ناکوں چنے چبوا دئیے اور یوں انہوں نے برطانوی سامراج کے ناک میں دم کرکے تقسیم بنگال کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ سودیشی تحریک کے بعد برصغیر ہندو پاک میں یکے بعد دیگرے متعدد تحریکوں نے سر اٹھایا جن میں سے ایک' تحریک پاکستان' کے نام سے مشہور ہوئی۔ تحریک پاکستان جس کے جھنڈے کے سائے میں 23 مارچ 1940 کو اقبال پارک لاہور میں منعقد ہونے والے مسلمانوں کے تاریخ ساز اجتماع کے جم غفیر میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کے اہل قلب و نظر نے اس بات کی چشم دید گواہی دی کہ اس قرارداد کی منظوری کے صرف اور صرف سات سال کے مختصر ترین عرصے کے بعد مسلمانوں کو ان کی منزل مراد مل گئی ، 14 اگست 1947 کو مملکت خداداد پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر کر اہل دانش کی آنکھوں کو خیرہ کرنے لگی اور یوں ہم سب اس آزاد ملک پاکستان کے باشندے کہلانے لگے۔ ہمیں اپنے پیارے ملک پاکستان کے شہری ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور اس ہی حوالہ سے ہم پاکستانی کہلا ئے۔ پاکستان ہمارے پرکھوں کی نشانی ہے، اس کے حصول کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جان اور مال کے نذرانے پیش کئے ۔

آج اگست کے مہینے کی 9 تاریخ ہے اور دنیا بھر میں بین الاقوامی سطح پر اس دن کو 'انڈی جینس انٹر نیشنل ڈے ' یا سودیشیوں کے دن کے عنوان سے منایا جارہا ، اور اسے ہم حسن اتفاق کہہ لیں یا رحیل کارواں کی سبق آموز باز گشت کہ آج سے دو چار روز کے فاصلے پر ہے وہ دن جس کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے پوری قوم جشن آزادی پاکستان ملی جوش اور جذبے سے منا رہی ہوگی ۔ بقعہ نو ر بن جاتے ہیں ہمارے شہروں اور گاؤں کی گلیاں اور بازار، ہرجانب سے پاکستان کے ملی نغموں اور قومی ترانوں کی دھنیں، گونج اٹھتی ہے، مہک اٹھتا ہے ہمارا اجتماعی شعور، دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے کیا جاتا ہے مادر وطن کی سلامتی کی دعائیں دلوں سے نکل کر لبوں پر آجاتی ہیں ، فضا میں پاکستان کا قومی پرچم لہرا کر جشن آزادی کی تقریبات کا آغاز ہوتا ہے،

یہ وطن تمہارا ہے

تم ہو پاسباں اس کے

ہمارے کانوں میں پاکستان بنا کر ہم کو تحفہ کرنے والوں کی آواز گونجتی ہے، مگر ہم اس آوازکو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال باہر کرتے ہیں ، اور آزادی کے دن کی چھٹی گزار نے کے بعد ایک دفعہ پھر جت جاتے ہیں اپنے معمول کے دھندوں میں ، وہی چور بازاری، چوری چکاری ، لوٹ مار ، زیادتی ، منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، اللہ اللہ ، کتنی قباحتیں ہیں جو ہماری اجتماعی زندگی کا روگ بن کر ہماری رگ و پے میں پلتی بڑھتی رہتی ہیں ، ہم غربت کے مارے لوگ ، جو ووٹ کے بدلے نوٹ بنانے کے عادی ہوچکے ہیں بھلا کب اور کیسے ایسی قیادت چن پاتے جو ہمارا مقدر سنوار سکتی ، رہزن کے چہروں پر رہنماؤں کا سہر ا سجا کر ان کے براتی بنتے رہے ،

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

چودہ اگست کا تاریخ ساز دن دھیرے دھیرے قریب سے قریب تر آرہا ہے،اگر ہم جو وارث کہلاتے ہیں اس متاع کارواں کے، ہم جو امین کہلاتے ہیں اپنی ثقافت کے ۔ ہم سب سودیشیوں کے عالمی دن کے موقع پراس عہد کی تجدید کرلیں تو کتنا اچھا ہو کہ ہم اپنے آپ کو اس دیش کے سچے وارث ثابت کرنے میں کوئی کسر روا نہ رکھیں گے ،اور مصور پاکستان کی اس نصیحت پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے جس میں انہوں نے ہم سب کو مخاطب ہوکر کہہ دیا تھا کہ

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن

متعلقہ خبریں