Daily Mashriq


سیاست کے میدان کی رونقیں

سیاست کے میدان کی رونقیں

ٹوٹتے بنتے ارادوں اور ہفتہ بھر کی غیر حاضری کا مختصر قصہ یہ ہے کہ دنیا کے سارے والدین کی طرح اولاد کے لئے امتحان اور ہجرت کا موسم لازم ہوا ، ایکشہر سے دوسرے شہرنقل مکانی کے مرحلہ میں جو بیتی وہ ایک لمبی داستان ہے چلو یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر تعصب ونفرت اور کج روی کے بیو پاری دندناتے پھرتے ہیں تو انسان دوستی کا جذبہ بھی موجود ہے ۔یہی جذبہ ہمارے سماج کا اصل حسن ہے ۔ ہجرت مکمل ہوئی ۔ کرائے آسمان کو چھوتے ہیں قلم مزدور ہو یا عام محنت کش یا پھر لگی بندھی ملازمت پر گزر بسر کرنے والا زندگی سب پر بوجھ بنی ہوئی ہے ۔ سوشل ڈیموکریٹ ریاست کا خواب آنکھوں میں بسائے کئی نسلیں کھیت ہوئیں ۔ ہم ستر بر س بعد بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں 15اگست 1947ء کو کھڑے تھے ۔ سماجی اتفاق ، تحقیق ، جدید علوم ، عوامی جمہوریت ، انصاف اور مساوات ہر ٹوٹنے والے خواب کی کرچیوں نے روح کے زخموں کو گہرا کیا ۔ سو پیارے قارئین اس قلم مزدور کی غیر حاضری پر معذرت قبول کیجئے ۔ پچھلے ہفتہ بھر کے دوران جن قارئین نے ٹیلیفون ، ای میلز اور رابطوں کی دوسری سائٹس کے ذریعے خیریت دریافت کرتے ہوئے کالم نہ لکھنے کی وجہ دریافت کی اور جواب کے بعد دعائوں سے نوازا ان کے لئے شکریہ بھرے جذبات ۔ لکھنے والے کا اصل رشتہ اپنی زمین اور پڑھنے والوں سے ہوتا ہے چند مختصر اور ایک طویل وقفے کے باوجود مشرق کے قارئین سے سال 1991ء سے رشتہ ہے ۔ ہم جہاں بھی گئے لوٹے پھر اس ادارے میں ، یہ تعلق ابھی استوار ہے ۔ طالب علم پر کسیفرد یا ادارے اور سیاسی جماعت کی طرف سے فی الوقت لکھنے یا نہ لکھنے کے لئے کوئی دبائو نہیں ۔ محض ذاتی بلکہ گھریلومصروفیات و مجبوریاں تھیں۔ بالائی سطور میں اس حوالے سے عرض کر چکا مکرر عرض ہے کہ اپنی صاحبزادی کی تعلیمی سرگرمیوں میں تسلی کے لئے ایک سے دوسرے شہر منتقل ہونے میں جو مشکلات و مصروفیات آڑے آتی ہیں اس کا اندازہ صاحبان اولاد کر سکتے ہیں ۔ دعائوں کی درخواست ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے ہفتہ بھر کے دوران سوشل میڈیا کی سائٹس کے علاوہ معروضی حالات جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ نئے گھر میں اخبار آنا شروع نہیں ہوا۔ ٹی وی بہت کم دیکھتا ہوں ، اردو کی ٹانگ توڑنے اورسیاسی تاریخ پر چاند ماری کرنے والے چھاتہ برداروں کے پروگرام دیکھنے کو جی نہیں کرتا ۔ بہر طور پچھلے ہفتے کے دوران سیاسی محاذگرم رہے یہ وہی گرما گرمی ہے جو پاکستان جیسے ملک میں ہر الیکشن کے بعد ہوتی ہے 1988ء سے 2013ء تک کے انتخابات ماسوائے 2002ء کے انتخابات کے ہر بارتماشے ہوئے ڈی پی اوز اور ڈپٹی کمشنروں نے پنجاب سے آزاد حیثیت میں جیتنے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کا ماڈل ٹائون ایچ بلاک اور پھر جاتی امراء کی طرف ہانکا کیا مگر اب کی بار جہانگیر ترین کا جہاز دوڑا اور خوب دوڑا۔ نمبر گیم کی سیاست اور دعوے جاری ہیں کے پی کے میں تحریک انصاف ، سندھ میں پی پی پی مشکل میں پڑے بغیر حکومت سازی کریں گی ۔ پنجاب میں جہانگیر ترین کا م آئے امکان یہی ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب اور مرکز میں حکومت بنائے گی ۔ بلوچستان میں وہ بی اے پی کی اتحادی بن گئی ہے ۔ تحریک انصاف کے مجاہدین نواں پاکستان ان دنوں بھٹوز کے غم میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔ سو شل میڈیا پر طوفان برپا ہے بلاول کو نانا کی پھانسی اور ماں کا قتل یاد کروایا جارہا ہے اور چپکے سے ایم کیو ایم سے سیاسی عقد فرمالیا ۔ سادہ سا سوال یہ ہے کہ کیا حزب اختلاف کی جماعتوں کو مشترکہ اپوزیشن کے تقاضے پورے نہیں کرنے چاہئیں ؟ ۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے سیاسی اشتراک پر اس طالب علم کو بھی رنج ہے اس رنج کی وجہ نون لیگ کے ادوار میں بھٹو خاندان سے ہوا سلوک ہے ۔ لیکن پیپلز پارٹی یا کوئی اور سیاسی جماعت ہمدردوں اور غم گساروں کی مرضی سے نہیں اپنی سیاسی ضرورتوں کے پیش نظر فیصلے کرتی ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ نون لیگ ہو تحریک انصاف یا کوئی اور سیاسی جماعت مخالفت میں اوئے توئے اور بد زبانی کے ساتھ گھٹیا الزامات تک کا سفر نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہاں کچھ پتہ نہیں کل کس کے دروازے پر دامن مراد بھر وانے کے لئے حاضری واجب ہو جائے ۔ اسی طرح ہمارے وہ دوست جو سیاستدانوں کو گالی دیئے بغیر بات نہیں کرتے ان سے آسان سوال ہے ۔ کیا شاہ محمود قریشی دولت گیٹ ملتان پر گول گپے ۔ جہانگیر ترین لودھراں میں فالودہ، پرویز خٹک نوشہرہ میں شن واری ہوٹل میں کاروبار کرتے ہیں ؟ ارے پیارو یہ بس سیاست دان ہیں اور نصف درجن پارٹیاں اوڑھ بچھوڑ نچوڑ چکے ۔

یہ جو محدود سیاست ہے نا یہ عوامی جمہوریت کی تعریف پر نہیں کنٹرولڈ سیاست کی تعریف پر پورا اترتی ہے ۔ عوامی جمہوریت سے ابھی ہم نصف صدی کی مسافت پر ہیں کنٹرولڈ جمہوریت ہے مزے لیں پگڑیاں اچھالنے ، طعنے دینے اور الزامات لگانے سے قبل اپنی ادائوں پر بھی غور کر لیجئے ۔ اللہ کرے کہ کرپشن زدہ سیاسی مسافروں کے لشکر کے ساتھ نواں پاکستان بنا لیں عمران خان ۔ فیض آبادی پنجابی میں کہتے ہیں ''لگداتے نئیں خورے ''(لگتا تو نہیں شاید) ہمارے محب مکرم حضرت مولانا فضل الرحمن کا غصہ دیدنی بھی ہے اور فطری بھی ۔ مناسب ہوگا وہ اپنے صاحبزادے والی نشست خالی کروا کے ضمنی الیکشن لڑیں ۔ فقیر راحموں کی دلی خواہش تھی کہ وزیراعظم مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن لیڈر قبلہ مولانا خادم حسین رضوی ہوتے پر افسوس دوسری بہت ساری خواہشوں کی طرح یہ بھی پوری نہ ہوئی ۔ آج کے لئے اتنا ہی باقی باتیں کل ۔ سکھ سلامتی کے ساتھ شاد وآباد رہیں پیارے قارئین ۔

متعلقہ خبریں