Daily Mashriq

عمران خان کو موقع دو

عمران خان کو موقع دو

اب تک وطن عزیز میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 11 عام انتخابات ہوچکے ہیں۔ 1970 کے انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے نو وارد پاکستان پیپلز پا رٹی اور دوسری کئی چھوٹی بڑی سیاسی پا رٹیاں میدان میں تھیں۔ مجیب الرحمان کاکہنا تھا کہ مغربی پاکستان ، مشرقی پاکستان کے وسائل پر قابض ہے۔یہی وجہ ہے کہ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں قومی اسمبلی کی 162 نشستوں میں سے 160اور مغربی پاکستان سے پاکستان پیپلز پا رٹی نے 138 نشستوں میںسے 81 نشستیں جیتیں اور اکثریتی پا رٹی کے طور پر اُبھری ۔پاکستانی تا ریخ میں صرف اس الیکشن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ غیر جانبدار ، شفا ف اور دھاندلی سے پاک تھا باقی سارے عام انتخابات دھاندلی زدہ قرار دیئے گئے۔ دوسرے عام انتخابات 1977میں ہوئے۔ پیپلزپا رٹی کا خیال تھا کہ وہ اپنی سابقہ کار کر دگی کی بنا پر انتخابات جیتے گی۔ اسکے بر عکس 9 ستاروں کے اتحاد پاکستان جمہو ری اتحاد نے بھٹو کی پالیسیوں کو رد کیا اور کہا کہ انکے دور حکومت میں قومی تحویل میں لئی گئی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کی حالت ابتر تھی۔ 1977 کے الیکشن میں پی پی پی نے قومی اسمبلی میں 151 نشستیں اور قومی اتحاد نے 38 نشستیں جیتیں۔اپوزیشن نے الیکشن نتائج کو رد کیا اور بھٹو کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ۔دونوں پا رٹیوں میں کشیدگی بڑھی ۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا نے آئین معطل کرکے مار شل لاء لگا دیا۔ بھٹو کو قتل کیس میں پھانسی دی گئی۔ تیسرا الیکشن 1985 میں ہوا۔ جس میں ضیا نے سیاسی پا رٹیوں پر انتخا بات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔1985 کے عام انتخابات میں ایکسپورٹ امپورٹ والوں، پراپرٹی ڈیلروں ، گو رنمنٹ کنٹریکٹر اور تاجروں نے حصہ لیا۔ضیاء الحق نے جونیجو کی حکومت جنوری 1988 کواس بنا پر ختم کر دی کہ جونیجو نے اسلامی نظام نافذ کرنے کا ایجنڈا جا ری نہ رکھا۔ ۔ضیاء الحق کے جہاز حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد غلام اسحق نے قائم مقام صدر کے عہدے کا حلف اُٹھاتے ہی 1988 کے عام انتخا بات کا اعلان کیا۔ 1988 کے انتخابات میں پی پی پی نے قومی اسمبلی میں 93 اور اسلامی جمہو ری اتحاد نے 54 نشستیں جیتیں۔ اگست 1990 کو بینظیر بھٹو حکومت کرپشن بد عنوانی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث ختم کر دی گئی ۔ بی بی کی حکومت ختم ہونے کے بعد پی پی پی ، پی ایم ایل (ق)، تحریک استقلال ، اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے پی ڈی ایف کی شکل میں ایک اتحاد بنایا۔ اور 1990 کے عام انتخابات کرائے گئے۔اس الیکشن میں اسلامی جمہو ری اتحاد 107 نشستیں اور پی ڈی ایف نے 44 نشستیں جیتیں۔ میاں نواز شریف کو وزیراعظم بنایا گیا۔1992 میں نواز شریف اور غلام اسحق خان کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر اختلافات بڑھ گئے ۔ غلا م اسحق خان نے کرپشن بد عنوانی کی بنا پر نواز شریف کی حکومت ختم کر دی۔پھر اسکے بعد 1993 کے انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔ اس الیکشن میں پی پی پی نے 86 اور پاکستان مسلم لیگ نے 73نشستیں حاصل کیں جس کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹووزیر اعظم بن گئیں۔ اسکے بعد پانچویں الیکشن 1997 کو ہوئے۔ اس میں مسلم لیگ(ن) نے 207 نشستوں میں 136، پی پی پی نے 18 نشستیں جیتیں اور میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم مُنتخب ہوئے ۔ چھٹا الیکشن2002 میں ہوا ۔ یہ ا لیکشن مشرف دور میں ہوا۔جب نواز شریف جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اس میں جو بڑی سیاسی پا رٹیاں تھیں ان میں ایک پا رٹی پاکستان مسلم لیگ(ق) اور دوسری سیاسی پا رٹی متحدہ مجلس عمل اور پی پی پی تھی۔ قومی اسمبلی کی 342نشستوں میں مسلم لیگ (ق) نے 122، پی پی پی نے80اور متحدہ مجلس عمل نے45 نشستیں جیتیں۔ پہلے میر ظفراللہ جمالی اور بعد میں شوکت عزیز وزیر اعظم بنا ئے گئے۔ساتواں الیکشن2008 میں ہوا ۔ اس میں پی پی پی، پی ایم یل(ن) و (ق) نے حصہ لیا۔تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اس الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔یہ الیکشن پی پی پی نے جیتا۔جسکے نتیجے میں یو سف رضا گیلانی اور بعد میں راجہ پر ویز اشرف وزیر اعظم بن گئے۔2013 کے عام انتخابا ت میں پاکستان مسلم لیگ نے ایک کروڑ 14لاکھ ووٹ لئے جسکے نتیجے میں نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔اس الیکشن پر یہ الزام لگا یا جا رہا ہے کہ اس میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔اب جبکہ25جولائی 2018 کو عام انتخابات ہوئے اور اس میں اکثریتی پا رٹی پی ٹی آئی رہی۔ اب عمران خان کو 5سال کے لئے موقع دینا چاہئے کیونکہ باقی ساری سیاسی پا رٹیاں اقتدار کے مزے لوٹ چکی ہیں ۔ تعلیمی معیار کے حساب سے جتنی مضبوط ٹیم عمران خان کے پاس ہے وہ کسی کے پاس نہیں تھی اب یہ عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ٹیم سے کتنا کام لے سکتے ہیں ۔ اب یہ کپتان کی قیادت کا امتحان ہے۔

متعلقہ خبریں