Daily Mashriq


''تبدیلی'' امتحان گاہ میں

''تبدیلی'' امتحان گاہ میں

تحریک انصاف کے سربراہ اور متوقع وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے ساتھیوں اور ہمنوائوں کے لئے منزل کا تعین یہ کہہ کر کیا ہے کہ عوام تبدیلی کے نام پر تبدیلی کے لئے نکلے ہیں اور انہوں نے دو جماعتی نظام کو شکست دی ہے۔عوام ہم سے روایتی طرز سیاست اور حکومت کی امید نہیں رکھتے اگر روایتی طریقہ اپنایا گیا توعوام ہمیں بھی غضب کا نشانہ بنائیں گے۔انہوں نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام آپ کا طرز ِسیاست دیکھیں گے اور اس کے مطابق ردعمل دیں گے میں خود مثال بنوں گا اور آپ کو مثال بننے کی تلقین کروں گا۔ ایک ایسے معاشرے میںآغاز ِسفر پر عمران خان کے یہ خیالات ناقابل یقین ہیں جہاںتاریخ میں دور تک بہت سی مقدس اور پرکشش اصطلاحات اور نعروں کے کتبے دکھائی دے رہے ہیں۔ملکی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں بہت سی اصطلاحات اور نعرے عوام کے جذبات کو بھڑکانے ،مسندِاقتدار تک پہنچنے ،اقتدار کو دوام بخشنے ،عوام کی توجہ ہٹانے یا بانٹنے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔وقت گزر نے کے بعد جب ان نعروں کو میزان عمل پر پرکھا اور جانچا گیا تو پلڑا کلی طور پر خالی تھا اور معلوم ہورہا تھا کہ گزرے جانے والوں نے یہ نعرہ محض وقت گزارنے کے لئے لگایا تھا ۔وقت گزر گیا اور وقت گزارنے والے خود بھی گزر گئے تو نعرہ اور اصطلاح بھی فراموش کر دی گئی۔جن نعروں اور اصطلاحات سے کبھی عوام کا خون جوش مارنے لگتا تھا جو عوام کے وجود میں کبھی بجلیاں بھر دیتا تھا اور ان پر جان دینے اور لینے کی جذباتی کیفیت طاری ہوا کرتی تھی وقت گزرنے کے بعد اس قدر بے تاثر ہوگیا کہ سماعتوں سے ٹکرانے کے باوجود بھی جذبات میں کوئی ہلچل پیدا کرنے کا باعث نہ بن سکا ۔اسلام ،سوشل ازم ،انصاف ،احتساب ،جمہوریت جیسی کون کون سی اصطلاحات اس ملک ومعاشرے میں''مس یوز ''ہو کر اپنے رومانس سے محروم کی جاتی رہیں۔عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ بھی انہی میں ایک ہے ۔جنرل ضیاء الحق کے بعد پیپلزپارٹی کے مقابلے کے لئے دوجماعتی نظام کو فروغ دینے کی سوچ اُبھری اور اس ضرورت کے تحت پیپلزپارٹی کے مقابلے کے لئے آئی جے آئی کے نام سے اتحاد میدان میں اترا۔دوجماعتی نظام کی ضرورت کے احساس کے ساتھ ہی اس نظام کو رد کرنے کی سوچ بھی پیدا ہوئی ۔1988کے انتخابات میں جہاں پیپلزپارٹی اور آئی جے آئی نے میدان گرمایا وہیں ایئر مارشل اصغر خان اور مولانا شاہ احمد نورانی نے عوامی اتحاد بنا کر دو جماعتی نظام کے فلسفے کو چیلنج کرنے کی ٹھان لی مگر یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ایئر مارشل اصغر خان لاہور میں میاںنوازشریف میں ضمانت ضبط کروا بیٹھے اور مولانا شاہ احمد نورانی بھی ناکام ٹھہرے ۔یوں دو جماعتی نظام کو چیلنج کرنے والی یہ کوشش ناکام ہوئی اور دوجماعتی نظام بدستور فروغ پذیر رہا ۔ نوے کی دہائی کے ہر الیکشن میں اس نظام کو چیلنج کرنے کی کوششیں بھی جا ری ہیں ۔ طاہر القادری کی عوامی تحریک اور قاضی حسین احمد کا اسلامک فرنٹ دوجماعتی نظام کا فسوں توڑنے کی ہی کوششیں تھیں۔یہ کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں۔بااثر اور مالدارسیاسی اشرافیہ اور اس کے خوان نعمت سے فیض یاب ہونے والے اخبارنویسوں نے ''تیسری قوت '' کے نعرے کو تیسری جنس کے مصداق قرار دے کر ایک مذاق بنا ڈالا کہ لوگ اس اصطلاح سے دامن بچانے لگے۔ دو جماعتوں کے ایک ہی سکے کے دورخ قرار دینے والوں کے مقابلے میں چھوٹی اور بڑی برائی اور دائیں اور بائیں بازو کا فلسفہ خوب بیچا گیا ۔یہاں تک کہ دو جماعتی نظام میں دراڑ ڈالنے والوں کو میڈیا میں ''نکو'' اور مجنوں ثابت کر کے معاشرے میں تنہا کیا جاتا رہا ۔کئی ایک اس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دینے پر مجبور کئے جاتے رہے ۔کئی ایک کے لئے اس کا نعرہ اور رومانس ہی تیشۂ فرہاد بنا دیا گیا۔ اس ماحول میں عمران خان نے سیاست کے خارزار میںتیسری قوت کی بجائے تبدیلی کے نام پر قدم رکھا اور گرتے پڑتے اب وہ مسند اقتدار کے قریب پہنچ ہی گئے ہیں۔ اس راہ میں ہر وہ حربہ اختیار کیا جاتا رہا جو ماضی میںدوجماعتی نظام کی دیوار میں دراڑ ڈالنے کی کوششیں کرنے والوں کا مقدر ٹھہر ا تھا ۔یہاں تک کہ ان کے نعرہ ٔ تبدیلی کا مذاق اُڑانے کے لئے انہیں'' تبدیلی خان '' کا نام دیا گیا مگر وہ خاصے سخت جان نکلے ۔وقت کچھ یوں بدل کر رہ گیا ہے کہ اب عمران خان کے نعرے اور دعوے میزان عمل پر تلنے جارہے ہیں ۔اگلے چند ماہ میں ان کا سٹائل گورننس کا آغاز ثابت کر دے گا کہ بائیس برس کا سفر کوچہ نوردی تھا یا واقعی وہ تبدیلی کے لفظ کو حرز جاں بنائے ہوئے تھے ۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کی حرکات وسکنات کی خوردبین سے اسے دیکھتے رہیں گے ۔لوگ مایوس ہوگئے تو ایک اور اصطلاح یعنی تبدیلی بھی بے اثر اور بے توقیر ہونے والی اصطلاحات کے قبرستان میں پہنچ جائے گی ۔ایک اور خواب ٹوٹ کر بکھر جائے گا ۔عمران خان کو اس حقیقت کا ادراک ہے مگر قدم قدم پرمصلحت اورمجبوری کے پہاڑ بھی کھڑے ہیں۔اب تبدیلی اشتہاروں کے ذریعے عوام پر ٹھونسنے کی بجائے چہار سو بکھری ہوئی نظر آنی چاہئے ۔ تبدیلی کو ثابت کرنے کے لئے محققین کے مقالوں،وکلا کے دلائل ،قلم کاروں کے مضامین کی ضرورت نہیں ہوگی ۔تبدیلی آئی تو وہ خود بولتی ہوئی نظر آئے گی کیونکہ تبدیلی انقلابی ہو یا تدریجی بولتی ہے ۔اسے کسی ترجمان ،شارح اور گائیڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

متعلقہ خبریں