Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حافظ ابن طاہر مقدسی فرماتے ہیں :

''میں 'تنیس'' ابو محمد بن حداد اور ان کے ساتھیوں کے پاس ایک مدت تک رہا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میرے پاس ایک درہم کے علاوہ کچھ بھی نہ بچا اور مجھے کھانے کے لیے طعام اور لکھنے کے لیے کاغذدونوں کی ضرورت بیک وقت پڑگئی ۔

دونوں چیزیں ایک ہی وقت میں خریدی نہیں جا سکتی تھیں ۔ میں پریشان ہوگیاکہ کون سی چیز زیادہ ضروری ہے اور کیا خریدنا چاہیئے ؟

اسی حال میں تین دن گزر گئے اور دونوں میں سے ایک بھی چیز نہ خرید سکا اور فاقے میں تینوں دن گزر گئے ۔

چوتھے دن میں نے اپنے جی میں کہا:''اب اگر میں کاغذ خرید لوں تب بھی بھوک کی وجہ سے لکھنا مشکل ہو جائے گا''۔

میں نے درہم اپنے منہ میں رکھا اور روٹی خریدنے کے لیے بازار کی طرف چل پڑا ، مگر مقدرسے وہ درہم پیٹ کے اندر چلا گیا ، مجھے اپنے آپ پر ہنسی آگئی ، راستے میں مجھے اپنا ایک پرانا دوست مل گیا ، اس نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔

کہنے لگا : کس بات پر ہنسی آرہی ہے ؟''

میں نے کہا:''کوئی بات نہیں ہے ''۔

وہ اصرار کرنے لگا اور قسم کھا کر کہنے لگا:

''میں ضر وراسے اصل حقیقت سے آگاہ کروں ''۔

میں نے اس کے کافی اصرار پر ساری بات بتا دی ۔ وہ مجھے اپنے گھر لے گیا اور پر تکلف کھانے کھلائے ۔ نماز ظہر کی ادائیگی کے لیے جب ہم نکلے تو راستے میں ''تنیس '' کے گورنر کا کوئی وکیل ہمارے ساتھ شامل ہوگیا ۔ اس نے میرے دوست سے میرے بارے میں پوچھا ۔ دوست نے کہا: ''جن کا تم پوچھ رہے ہو ، وہ یہ ہیں ''۔

یہ کہہ کر اس نے میری طرف اشارہ کردیا ۔

یہ خدا تعالیٰ کا قرآنی فیصلہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے کاموں میں لگارہتا ہے ، دینی خدمات سر انجام دیتا ہے ، اس کے سارے کام غیب سے بنتے چلے جاتے ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہے: ترجمہ:''اے ایمان والوں ! اگر تم خدا (کے دین) کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا''۔ (سورة محمد:7)

کہنے لگا :''گورنر نے مجھے تقریباً ایک ماہ سے حکم دیا ہوا ہے کہ درہم آپ تک پہنچائوں ،مگر میں بھول گیا اور آپ کو پہنچانہ سکا ۔ ایک مہینے کے تین سو درہم لے کے میںآپ ہی کی تلاش میں نکلاہوں ۔ اچھا ہوا کہ آپ مجھے مل گئے ، یہ لے لیجئے !''۔

یہ کہہ کر اس نے وہ تین سو درہم کی تھیلی میرے حوالے کردی ۔ حافظ مقدسی فرماتے ہیں : ''حق تعالیٰ نے میرے ساتھ بڑی خیر اور بھلائی کا معاملہ کیا اور اتنا رزق دیا ، جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ پھر صرف اتنی بات نہیں کہ تین سو درہم پر بات ختم کردی ، بلکہ آئندہ بلاناغہ دس درہم پہنچتے رہے ، جب تک میںوہاں رہا ۔ یہاں تک کہ میں شام واپس چلا آیا''۔

(راحت پانے والے )

متعلقہ خبریں