Daily Mashriq

مقبوضہ کشمیر کا مناقشہ اور مریم نواز کی گرفتاری

مقبوضہ کشمیر کا مناقشہ اور مریم نواز کی گرفتاری

قومی احتساب بیورو (نیب)نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز کو تحویل میں لے لیا۔نیب ذرائع کے مطابق لیگی نائب صدر کو نیب کے لاہور میں دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔مریم نواز کو نیب کے دفتر میں پیش ہونا تھا، تاہم انہیں اس سے قبل ہی تحویل میں لے لیا گیا۔مریم نواز 15اگست کو مظفر آباد میں بھارت مخالف جلسہ کرنے جارہی تھیںایسے وقت میں اُن کی گرفتاری باعث حیرت امر ہے ۔پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے ہماری خفتگی وغفلت اور ناکام خارجہ پالیسی کافائدہ اٹھا کر جس طرح سے مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان میں ضم کردیا وہ ہر محب وطن شخص کے دل کا روگ اور قومی المیہ ہے لیکن اس فضاء میں بجائے اس کے کہ پوری قوم یک آواز ہوتی پارلیمنٹ میں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سینیٹر مشاہداللہ کے درمیان جملوں اور الفاظ کا تبادلہ سے سر جھک جاتا ہے۔ کشمیر کا نازک ترین موضوع ہو تو نام پورا لینے اور بھارت میں حزب اختلاف کے کردار پر بات ہوتی ہے اور جواب شکوہ کے طور پر مکالمہ بازی ہوتی ہے ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم کو یکسو اور متحد ہو کر بھارتی اقدام کا مسکت جواب دینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت تھی سیاسی مخاصمت کو بھلا نے کی بجائے اس کا مزید مظاہرہ کیا جا تا ہے ۔مسلم لیگ(ن) کی متحرک لیڈر مریم نواز اپنے معمول کے سیاسی دبائو بڑھانے والے احتجاج کوجاری رکھنے کیلئے اسے کشمیر کے متنازعہ مسئلے کو حکومت کی طرف سے درست طور پر حل کرنے میں ناکامی کاموضوع بنا کر مقبوضہ کشمیر کے بھارت سے اتصال کی مذمت میں عوام کو متحرک کر رہی تھیں یہ درست ہے کہ ان کی سیاسی حکمت عملی کا ہدف حکومت پر تنقید ہی تھی لیکن ایسا سوچنا نیت پر شک کے زمرے میں آتا ہے اس لئے ہمیں اس کا کوئی حق نہیں کہ ہم اس کے ظاہر پر باطن اور گمان کو درست ٹھہرائیں کشمیر کے مسئلے پر تنازعہ ایک بار پہلے بھی ملک کو نئی قیادت اور سیاسی جماعت کا تحفہ دے چکی ہے یہاں تو پہلے سے موجود جماعت کے تحرک کا معاملہ ہے بہرحال معاملات جو بھی ہوں اس وقت نیب کی یکے بعد دیگرے مسلم لیگ(ن) کے دورہنمائوں کی گرفتاری قانونی طور پر سو فیصد درست بھی ہو تب بھی سیاسی قیادت کی صفوں میں اتحاد اورحزب اختلاف کو اعتماد میں لینے اور مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر اس کی تائید وحمایت کے حصول کیلئے اس سے گریز کی ضرورت تھی اس گرفتاری کے بعد حکومت مخالف جلسوں کا زور تو ٹوٹ سکتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کردار سے لوگوں کی توجہ ہٹ سکتی ہے جس کی اس وقت قوم متحمل نہیں ہوسکتی وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری سابق وزیراعظم نواز شریف ،شاہد خاقان عباسی شعلہ بیان خواجہ سعد رفیق جیسے رہنمائوں کو وقتی طور پر قانون میں گنجائش پیدا کر کے عارضی طور پر رہا کر کے مشاورت اور مشترکہ قومی بیانیہ تیار کر کے اس پر عملدرآمدکیا جائے یہ وقت سیاست اور گرفتاریوں کا نہیں یہ وقت بھارت کی طرف سے بر صغیرپاک وہند کی تاریخ مسخ کرنے اورپاکستان سے الحاق کے متمنی اکثریتی کشمیری مسلمانوں کی مدداور بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا ہے بھارت کے اس اقدام کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور سلامتی کو نسل کی قراردادوں کی بد ترین توہین ثابت کرنا کوئی مشکل نہیں پوری دنیا قرار دے رہی ہے کہ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی پامالی کر کے مقبوضہ کشمیر اور تبت اور لداخ کے مستقبل کا فیصلہ کیا جس کا اسے کوئی حق نہیں اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین میں اس کی ذرا بھی گنجائش ہے لیکن جہاں ہم خود دست وگریباں ہوں آپس کی مخاصمت ملکی مفاد پر اور ذاتی توہین اور مخالفین کالب ولہجہ مقدم ہو اس ملک وقوم اس حکومت وحکمران اور اس پارلیمنٹ سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ مکاروچالبازبھارت کا مقابلہ کرے جس کا وزیراعظم ایک جانب امریکی صدر ٹرمپ سے ثالثی کی درخواست کرتے ہیں اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں بھارتی فوج لا کر عوام کی آزادی سلب کر کے ان کے رابطے منقطع کر کے دنیا کو بالعموم اور پاکستان اور اس کی قیادت کو بالخصوص دھوکہ دیتا ہے ایسے چالباز اور مکار کی قیادت کا مقابلہ جن حالات کا متقاضی ہے بد قسمتی سے ہم خود اپنے ہی اقدامات اور فیصلوں سے ان کو دانستہ ونادانستہ ایسی فضا فراہم کرتے ہیں جو ان کو موافق ہومورخ نے جس طرح تاریخ میں رو م جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا لکھا ہے عراق میں مسلمانوں کا عظیم علمی ذخیرہ تباہ ہورہا تھا اور لٹ رہا تھا اس کی نوادرکتب اغیار اٹھا کر لے جارہے تھے اور ان سے استفادہ کر کے علم وحکمت اور سائنس کی دنیا پر حکمرانی کی تیاری کررہے تھے مسلمان باہم دست وگریباں تھے ہلاکو خان اور چنگیز خان جب سروں کے مینار بنارہے تھے پھر بھی مسلمان متحد نہیں ہوئے اسی طرح خدشہ ہے کہ ایک بار مورخ لکھے گا کہ جب بھارت مقبوضہ کشمیر پر جارحانہ تسلط مضبوط بنا رہا تھا تو پاکستان میں سطحی وسیاسی مصلحتوں کا دور دورہ تھا۔تاریخ میں خود کو کیا کہلوانا ہے اور کس طرح سے زندہ رہنا ہے اس کا فیصلہ آج کرنا ہے جو فیصلہ آج ہوگا اور اس کے جو اثرات ونتائج سامنے آئیں گے مورخ وہی رقم کرے گا۔

متعلقہ خبریں