Daily Mashriq

پاک بھارت سفارتی تعلقات خطرے میں

پاک بھارت سفارتی تعلقات خطرے میں

پاکستان نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا لے ہائی کمشنر کو واپس بلانے کا یہ مطلب نہیں کہ سفارتی تعلقات مکمل منقطع ہو جائیں گے۔اس اقدام کا مقصد انڈیا اور بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم ان کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے مابین حالات پہلے ہی کشیدہ چل رہے ہیں اور یہ اقدام کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔ حالیہ پیش رفت کے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات پر براہِ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی پہلے ہی اسلام آباد کو اس بحران میں کھینچ چکی ہے۔اس بات کا خطرہ بھی ہے کہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی ایل او سی پر حملوں میں اضافہ کردے۔ فروری میں بھارتی دراندازی کے باعث پیدا ہونے والی فوجی کشمکش ابھی پوری طرح تھمی ہی نہیں تھی کہ جنگ کے بادل دوبارہ منڈلانے لگے ہیں۔ یہ نہایت بدشگونی سے بھرپور صورتحال ہے۔ بھارتی اشتعال انگیزی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔اگرچہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے تنا ئو پر تو بین الاقوامی سطح پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا لیکن کشمیر میں بھارت کی لگائی گئی آگ پر دنیا بڑی حد تک چپ سادھے بیٹھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے کی طرف بڑھنے سے قبل بھارتی جنتا پارٹی نے پورا حساب کتاب کر رکھا تھا۔نام نہاد انسدادِ دہشتگردی کی کارروائی کی بنیاد پر بالاکوٹ میں بھارتی فضائی حملے پر امریکا سمیت مغربی طاقتوں کی چشم پوشی کے بعد لگتا ہے کہ ہندو قوم پرست حکومت کو کشمیری شناخت کی تباہی کے اپنے ایجنڈا پر عمل درآمد کے لیے حوصلہ ملا ہے۔ اگرچہ امریکی سرکاری نمائندگان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اس قسم کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی، مگر اس کے باوجود واشنگٹن کا موقف جاننے کی کوشش کا بھارتی دعویٰ یہاں سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پھر جب ہم گزشتہ ماہ عمران خان کے ساتھ گفتگو کے دوران کشمیر تنازع پر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی ثالثی کی پیش کش کو یاد کرتے ہیں تو یہ معاملہ اور بھی متجسس بن جاتا ہے۔کیا امریکی صدر اس وقت بھارتی منصوبوں سے آگاہ تھے؟ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ان کی ثالثی کو ایسے وقت میں کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے لیا جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی اضافی تعیناتی کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ بھارت کے شدید اقدام پر دنیا میں مکمل خاموشی پاکستان کے لیے باعثِ فکر ہونی چاہیے کیونکہ اس طرح بھارت کی جارحیت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔بھارتی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں پاکستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ، ہمیں حقِ خودارادیت کے لیے کشمیر کی جدوجہد کو زیادہ سے زیادہ سیاسی اور اخلاقی مدد فراہم کرنا ہوگی اور ہر بین الاقوامی فورم پر بھارت کے سفاک عزائم کا انکشاف کرنا ہوگا۔ تاہم ہمیں 1990 کی دہائی کی اس تباہ کن پالیسی اختیار کرنے سے خود کو باز رکھنا ہوگا جس نے کشمیر کی مقامی تحریک کو فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا نقصان پہنچایا تھا۔کشمیری عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت طاقت کا چاہے جتنا بھی استعمال کرلے مگر وہ ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔ مودی کے حالیہ اقدام نے ان کے عزم کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔ بھارتی اقدام نے یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیر دنیا کا خطرناک ترین مقام ہے اور ایٹمی جنگ کا میدان بھی بن سکتا ہے۔وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس معاملے کی سنجیدگی کو محسوس کرے۔

زرعی اراضی کی تباہی

زرعی اراضی پر تعمیرات روکنے کے لئے حکومتی اقدامات تسلی بخش نہیںاس ضمن میں پہلے ہی اتنی تاخیر ہوچکی ہے کہ قیمتی زرعی اراضی پر عمارتیں کھڑ ی ہوچکی ہیں۔ انفرادی' اجتماعی تعمیرات ہو چکی ہیں۔ بہر حال مزید زرعی اراضی اور باغات کو تعمیرات کی زد میں لانے سے بچانے کیلئے جتنا جلد ممکن ہوسکے اقدامات کی ضرورت ہے۔ نفاذ قانون میں روایتی سستی اور کاہلی نہیں ہونی چاہئے۔ مروجہ قوانین اور طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے تو بھی تعمیرات کی روک تھام ناممکن نہیں۔ اس ضمن میں انتظامی قوانین کا بھی سہارا لیاجاسکتا ہے شرط یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ زرعی اراضی اور باغات کی تباہی کی روک تھام کا قصد کیا جائے اور اس ضمن میں کسی مصلحت اور دبائو کو خاطر میں نہ لایا جائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوگا اور ایسے اقدامات یقینی بنائے جائینگے جس کے نتیجے میں زرعی اراضی کی مزید کمی اور زرعی اراضی پر مکانات تعمیر کرنے کی روک تھام ممکن ہوسکے ۔

متعلقہ خبریں