Daily Mashriq

بھارتی حماقت

بھارتی حماقت

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بہت خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔یہ عمل بھارت کی جانب سے کشمیر پر مکمل قبضہ کرلینے کے مترادف ہے۔گو کہ اس حماقت نے کشمیریوں کو ایسے متحدکر دیا ہے کہ جس کی نظیر اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی البتہ یہ بھی سچ ہے کہ اس بھارتی فیصلے نے پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر آن کھڑا کیا ہے۔ خطرہ ہے کہ اب یہ اقدام کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت کے اس اقدام نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ مودی کی جانب سے آرٹیکل370 منسوخ کرنے کا وعدہ کافی پرانا ہے مگراس معاملے میں اس قدر سبک رفتاری اور پھرتی بھاری اکثریت کے بعد جیت کے آنے والے مودی کے مذموم مقاصد کا عکاس ہے۔ بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس اقدام کو جمہوریت کی تاریخ کا بدترین باب گردانتے ہوئے ، آرڈیننس کے ذریعے اسے منظور کرنے کی قانونی حیثیت چیلنج کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے یہ بل پاس کرانے سے کچھ دن قبل کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کر دیے تھے تا کہ کشمیریوں کے ممکنہ رد عمل کو دبایا جا سکے۔ اور اب کشمیر میں کر فیو نافذ کرکے اسے مکمل طور پر بند اور تمام کشمیری قیادت نظر بند ہو چکی ہے۔ محبوبہ مفتی کے مطابق:'' حکومت کا واحد مقصد ہماری زمین پر قبضہ کرنا اور مسلم اکثریت کو بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح ایک اقلیت میں تبدیل کر کے ہمارے تمام اختیارات اور حقوق سلب کرنا ہے۔''اس کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ کشمیر عمر عبداللہ کے خیالات بھی کچھ مختلف نہیں۔ مودی اپنے اس اقدام کے بعد کشمیر میں موجود اپنی حکومت کے لیے پائی جانے والی محددو حمایت بھی کلی طور پر کھو چکے ہیں۔

بھارت کویہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ اب فوجی قوت سے کشمیریوں کے رد عمل کو دبا دے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام پچھلی سات دہائیوں سے بھارتی غیض و غضب کے خلاف جد و جہد کر رہے ہیں اور اب بھی اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے ذریعے کشمیریوں کی مزاحمت ختم کرنے کا خواب کسی طور پورا نہ ہو پائے گا۔ بھارت کشمیر کو فلسطین طرز پر بدلنے کے ناپاک ارادے میں کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتا اور وہ نوجوان جنہوں نے بھارتی مظالم کے بیچ ہی آنکھ کھولی ہے، اب کسی طور بھی یہ فیصلہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے جد و جہد آزادی کو مزید تیز کر دیا ہے اور اب کی بار حالات نے جو موڑ لیا ہے ان میں اتنی گھمبیرتا پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت کا یہ اقدام کشمیر کے حالات کو سنگین ترین صورتحال کی جانب لے جا چکا ہے۔ نہ صرف کشمیر بلکہ اس اقدام نے دہلی اور اسلام آباد کے مابین بھی حالات کشیدہ کر دیے ہیں۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں، بڑھتی شیلنگ اور کلسٹر بموں کا استعمال کئی شہریوں کی ہلاکت کا سبب بن چکا ہے۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ مودی حکومت کشمیر میں کیے جانے والی اپنی غیر انسانی اور مجرمانہ کارروائیوں سے عالمی دنیا کا دھیان ہٹانے کی خاطر ایل او سی کے اس طرف کوئی شر انگیز حرکت بھی کر بیٹھے ،ٹھیک اسی طرح جیسے اس نے رواں سال فروری میں کیا تھا۔ خطے پر جنگ کے باد ل پھر سے منڈلانے لگے ہیں اور بھارت کی اس حماقت کا نتیجہ خطے کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کو بھی دو ایٹمی ہمسایوں کے بیچ بڑھتی کشیدگی پر تحفظات ہیں البتہ اس کے باوجود ہمیں بھارت کے کشمیر میں کیے جانے والے اقدام کے خلاف کوئی آواز اُٹھتی سنائی نہیں دے رہی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت نے اس سے قبل ہی اس بات کا بندوبست کر رکھا تھا۔ عالمی برادری اور مغربی طاقتوں کی اس خاموشی نے ہی بھارت کو یہ جرات فراہم کی ہے کہ وہ کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کا ٹھانے بیٹھے ہیں۔ کچھ ماہرین کی جانب سے یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ مودی حکومت اپنے ان عزائم کے بارے واشنگٹن حکومت کو کئی ماہ قبل ہی آگاہ کر چکی تھی۔

خبریں ہیں کہ رواں سال فروری میںبھارتی نیشنل سکیورٹی کے مشیراجیت دول نے اپنے امریکی ہم منصب جان بولٹن کو بھارتی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق عزائم سے مطلع کر دیا تھا۔ اور یہ بھی شنید ہے کہ چند ہفتے قبل بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی امریکی سیکرٹری مائیک پامپیو کو اس مسئلے سے متعلق بھارتی ارادوں سے آگاہ کر چکے تھے۔اگرچہ امریکہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایسی کسی بھی قسم کی معلومات کے تبادلے کی خبروں کو رد کیا ہے البتہ اس حوالے سے بھارتی دعوے کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔یاد رہے کہ عمران خان کے حالیہ دورے میںصدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کر چکے ہیںاور پاکستان نے اس پیشکش کا بہت گرم جوشی سے خیر مقدم بھی کیا تھا مگر یہ پیشکش تب آئی تھی جب بھارت کشمیر میں صف بندی کرنے میں مصروف تھا۔کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی بھارتی منصوبے کے بارے میں جانتے تھے؟ عالمی برادری کی خاموشی پاکستان کے لیے تشویش ناک ہے اور یہ بھارت کو شہ دینے کے مترادف ہے۔ نریندر مودی کو بھارت میں ایک نہایت طاقتور اور فیصلہ ساز لیڈر ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں