Daily Mashriq

ظرف پیدا کر سمندر کی طرح

ظرف پیدا کر سمندر کی طرح

مانو نہ مانو جان جہاں اختیار ہے،ہم نیک وبدحضور کو سمجھائے دیتے ہیں،بڑی مدت کے بعد تازہ ہوا کا ایک جھونکا مشام جاں کو معطر کرنے کا باعث بنا ہے اور بالآخرپشاور کے فنکاروں کی وہ مساعی رنگ لے ہی آئی ہے جس کیلئے مسلسل جدوجہد کی جارہی تھی،یعنی محکمہ ثقافت نے نشتر ہال کو ثقافتی سرگرمیوں کے لئے کھول کر عید کے موقع پر ایک رنگا رنگ تقریب کے انعقاد کی اجازت دے کر فنکاروں کے دیرینہ مطالبے کو پذیرائی بخش دی ہے اور اب پشاور کے عوام جو سٹیج شوز کیلئے ایک عرصے سے ترس رہے تھے وہ عید قربان کے دوسرے روز سے مزاحیہ خاکوں اور موسیقی پر مبنی ملے جلے پروگرام سے محظوظ ہوسکیں گے ۔اصولی طور پر اس قسم کی ثقافتی سرگرمیوں کی اشد ضرور تھی تو ضرور مگر۔۔۔؟ اور یہ لفظ''مگر'' اپنے اندرایک جہان معنی بسائے ہوئے ہے،جس کی کئی پرتیں ہو سکتی ہیں۔اس سے پہلے کہ اس لفظ مگر کی توجیح کی جائے ،پہلے تو اس بات پر افسوس کا اظہارکرنے دیجئے کہ نشترل ہال میں عید شو کے نام پر دو آرگنائزر آپس میں الجھ پڑتے تھے اور دونوں کی یہی خواہش تھی کہ شو کرنے کی اجازت اسے دی جائے،ظاہر ہے اس کے پیچھے اقتصادی معاملات تھے اور اس سے پہلے کہ بڑی مشکل سے ایک طویل عرصے کے بعد عید کے موقع پر نشترہال میں ایک شو کے انعقاد کی اجازت دی گئی تھی اس کو آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے ختم کرنے کی غلطی کی جاتی،بعض افراد نے ثالث کا کردار نبھاتے ہوئے معاملات کو کسی حتمی بگاڑ کا شکار ہونے سے بچالیا،جس پر تمام متعلقہ افراد کی تحسین کرنی چاہئے،

ظرف پیدا کر سمندر کی طرح

وسعتیں، خاموشیاں، گہرائیاں

اب آتے ہیں اس بڑے''مگر'' کی جانب ،جس پر توجہ دینا بہت لازمی ہے،یعنی اتنی مدت اور طویل جدوجہد کے بعدفنکار برادری کو نشترہال میں شو کرنے کی اجازت مل تو گئی ہے مگر انہیں ایک بات ذہن نشین ضرور رکھنی چاہیئے کہ شو کے دوران ان سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہ ہو کہ ان کے Conductیعنی رویئے پر کسی کو انگلی اُٹھانے کا موقع مل جائے اور پھر الیکٹرانک،پرنٹ یا سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو جائے جس کے بعد آئندہ محکمہ ثقافت کے ذمہ دار حلقے بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں اور آئندہ اس قسم کے شوز پر مکمل پابندی عاید کردیں۔یہ گزارشات اس لیئے کی جارہی ہیں کہ جو لوگ بطور آرگنائزر اس شو کا انعقاد کر رہے ہیں وہ اکثر وبیشتر خلیجی ممالک میں جاکر اپنے فن کا مظاہرہ کر کے لاکھوں روپے کما کر لاتے ہیں ،مگر ان ممالک میں اس قسم کے شوز پر کوئی قد غن نہیں ہے،وہاں پاکستانی کمیونٹی شوز میں ہونے والے رقص اور گانوں سے لطف اندوز ہونے کیلئے(بصد احترام) ہر قسم کی مادرپدر آزادی کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ ان شوز کے اندر،غیر اخلاقی حرکات وسکنات ،ذومعنی مکالموں اورخصوصاً ڈانسروں کے بیہودہ ڈانسوں سے خط اٹھاتے ہیں، اس لئے باوجود اس کے کہ کلچر ڈیپارٹمنٹ نے ابھی تک سنسر شپ پالیسی بنائی ہے نہ ہی ان شوز پر چیک رکھنے کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہے،آرگنائزروں کو خود ہی اپنے اوپر ایک اخلاقی ضابطہ لاگو کرتے ہوئے معاشرتی اقدار کو ملحوظ رکھنا پڑے گا وہ جو عزیز حامد مدنی نے کہا تھا کہ

طلسم خواب زلیخا ودام بردہ فروش

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

یادش بخیر،جب نشتر ہال کا انتظام کئی برس پہلے اباسین آرٹس کونسل کے پاس ہوا کرتا تھا تو امجد عزیز ملک اور ناصر علی سید نے اپنی ثقافتی تنظیم فرنٹیرآرٹ پروموٹرز کے بینر تلے سٹیج ڈراموں کا ایک ہفتہ(میلہ) سجایا تھا، اس حوالے سے جتنے مسودے بھیجے گئے تھے،اباسین آرٹس کونسل پشاور نے اسے راقم کی ڈیوٹی لگا کر ان ڈراموں کی سکروٹنی کے علاوہ دوران سٹیج اور اس سے پہلے ریہرسلوں کے دوران فنکاروں پر کڑی نگاہ رکھنے کیلئے دو رکنی کمیٹی بھی بنائی تھی جس کا ایک ممبر راقم بھی تھاہم تمام ڈائیلاگ اور فنکاروں کے حرکات وسکنات پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے تھے ،جبکہ آرگنائزیشن نے بھی مجھے بطور جج مقرر کیا تھا،اتنے بڑے پروگرام کو جس خوبصورتی سے امجد عزیز ملک اور ناصر علی سید کی ذاتی نگرانی میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا وہ بھی پشاور کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،مقصد کہنے کا یہ ہے کہ ہر کام کے پیچھے اگر ایک سلیقہ مند ٹیم موجود ہو تو اس پر کوئی اعتراض کیا جا سکتا ہے ،اس کے نتائج غلط نکلتے ہیں،ممکن ہے راقم کی یہ گزارشات کسی کے ماتھے پر بل لانے کا باعث بنیں،تاہم زیادہ احتیاط محکمہ ثقافت کے کار پردازان کو کرنی چاہئے،اور وہ اگر شو کا سکرپٹ ہو تو اس کی جانچ پڑتال پر توجہ دیں ساتھ ہی ذومعنی مکالمات کو خارج کرنے کا اہتمام کریں اور فنکاروں کو ایسی حرکات سے منع کریں جن سے کسی بھی طور صوبے کی ثقافتی روایات پر آنچ آتی ہو۔یہ سب اس لئے عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ جن ثقافتی سرگرمیوں کی بمشکل اجازت دی گئی ہے ان کو بعض عاقبت نا اندیش افراد کی غلط حرکتوں کی وجہ سے بندش کا سامنا کرنا پڑ جائے ،اسی لئے تو گزارش کی ہے کہ

مانو نہ مانو جان جہاں اختیار ہے

ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

متعلقہ خبریں