Daily Mashriq

وطن کی فکر کر ناداں!

وطن کی فکر کر ناداں!

ہم نے بچپن میں کسی سے سن رکھا تھا کہ اپنی عقل اور دوسروں کی دولت سب کو اچھی لگتی ہے۔زیادہ بولنا اور دوسروں کو اپنی باتیں سننے پر مجبور کر دینا اپنی عقل کو بہتر سمجھنے کا شاخسانہ ہی تو ہے جہاں تک دولت کا تعلق ہے تو اپنی دولت خرچ کرنے کو بہت کم لوگ تیار ہوتے ہیںہمارے ایک مہربان کو اچھے ہوٹلوں میں کھانا کھانے کا بہت شوق ہے اور وہ صاحب استطاعت بھی ہیں لیکن حرام ہے جو صراحی کو منہ لگایا ہو کہ مصداق وہ شادی ہالوں میں کھانا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں خود اعتمادی اس بلا کی ہے کہ شادی ہال میں داخل ہوتے ہی تیر کی طرح دولہا بھائی کی طرف لپکتے ہیں دوران معانقہ اسے اس زور سے دباتے ہیں کہ بیچارے کو چھٹی کا دودھ یاد آجاتا ہے وہ پسلیاں سہلاتے سہلاتے انہیں پہچاننے کی کوشش کر ہی رہا ہوتا ہے کہ یہ لپک کر کسی خالی کرسی پر براجمان ہو جاتے ہیںدولہا دوسرے مہمانوں کے ساتھ ملنے جلنے میں مصروف ہو جاتا ہے ہم اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو اس وادی پرخار میں سفر کرنے کا شوق کیسے چرایا ہم جانتے ہیں کہ اس میں چند نہایت مشکل مقام بھی آتے ہیں دوسرے لفظوں میں ہم ان سے یہ کہنا چاہتے ہیںکہ وہ اس شوق لاحاصل سے کیا کشید کر پائیں گے لذت کام و دہن کے سوا اگر کچھ اور بھی انہیں ملا ہو تو ہمیں بھی بتائیں! صاحب بغلیں جھانک کر رہ جاتے ہیں ویسے بات محفل میں بڑھ چڑھ کر بولنے کی ہو یا کسی شادی میں بن بلائے شرکت کرنے کی دونوں صورتوں میں اپنے حقوق سے تجاوز ہی کیا جاتا ہے اور جہاں بھی ہم اپنی حدود کو پھلانگتے ہوئے دوسروں کے حقوق تلف کرتے ہیںوہاںہمارا دل ایک لطیف احساس سے محروم ہو جاتا ہے اور ہم آہستہ آہستہ بے حسی کے بحر عمیق کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور اگر راہ میں کوئی مرد راہداں نہ ملے تو پھر دنیا وہ منظر بھی دیکھتی ہے کہ روم جل رہا ہوتا ہے اور نیرو بڑے مزے سے بانسری بجا رہا ہوتا ہے ہم سب کے لیے اب بہتر یہی ہے کہ ہم اپنی اپنی بانسریاں بجانا بند کر کے اپنے چاروں طرف لگی آگ کو بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہو جائیں۔ اقبال نے جو کہا تھا کہ وطن کی فکر کر ناداں۔مصیبت آنے والی ہے۔ اور ہم تو مصیبتوں میں بری طرح گھرے ہوئے ہیں وطن عزیز جو نعمت خداداد ہے کی قدر نہ کی تو ہم کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔ دھندلے سیاسی منظرنامے کو صاف شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کے علمبرداروں کو ذاتی مفادات سے آگے بڑھکر وطن عزیز کے حوالے سے سوچنا ہوگا ہمیں اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ بلوچستان میں مشرقی پاکستان کی تاریخ کو تو نہیں دہرایا جا رہا ہے۔ دشمن ہمارے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے اور اسے مصروف ہونا بھی چاہیے دشمن سے اچھائی کی توقع رکھنا عبث ہے احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے !ہمیں تو اپنے بزرگوں سے حاصل کی گئی اس تعلیم پر عمل کرنا ہے کہ مومن کسی کو دھوکا دیتا ہے اور نہ کسی سے دھوکا کھاتا ہے۔ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ اور ہم ہیں کہ ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جارہے ہیں لیکن ہماری خواب غفلت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنے جارہے ہیں سازشوں کی مثال شروع شروع میں مکڑی کے جال جیسی ہوتی ہے جسے ایک پھونک سے ختم کیا جا سکتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہماری غفلت سے یہی کمزور جال بعد میں لوہے کے تاروں جیسے مضبوط ہو جاتا ہے یہ گلے کا وہ پھندا بن جاتاہے جس سے چھٹکارا پانا پھر ہمارے بس میں نہیں ہوتا پھر وقت گزر چکا ہوتا ہے ہم اس مصیبت سے پھر نجات حاصل کرنا چاہیں بھی تو نہیں کرسکتے !وطن عزیز کو اللہ پاک نے ہر قسم کی نعمت سے مالا مال کررکھا ہے۔یہاں کس چیز کی کمی ہے؟ رب کریم کا دیا ہوا سب کچھ ہمارے پاس موجود ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ہم سے بہت زیادہ مشکل حالات میں زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں انہیں دنیا کے نقشے پر اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس زمین کی فراوانی ہے معدنیات کے خزانے موجود ہیں۔ اللہ پاک نے ہمیں ہرقسم کا موسم عطا کررکھا ہے۔ ملکی پیداوار اتنی زیادہ ہے کہ ہم خود بھی کھائیں اور باہر بھی بھجوائیں۔ بڑی سہولتیں بڑی مہربانیاں ہمیں حاصل ہیں۔ صرف اور صرف وطن کے بیٹوں کو ان نعمتوں کی قدر کرنی ہے اپنے آپ کو پہچاننا ہے اپنے آس پاس ہر لمحہ بدلتی صورتحال کو سمجھنا ہے دشمن کے عزائم پر نظر رکھنی ہے کفران نعمت سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ورنہ بصورت دیگر نعمتیں چھن جایا کرتی ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کے پاس اللہ پاک کا دیا ہواسب کچھ موجود ہے۔۔اب انہیں اپنی ساری توانائیاں پاکستان کی بقا اس کی فلاح و بہبودپر مرکوز کرنی ہیں۔ آپس کے اختلافات کو بھلا کر ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر آگے کا سوچنا ہے۔ اتحاد و اتفاق وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ سب کو اپنی اپنی حدود میں رہنا ہوگا۔اگر ہوس اقتدار سے ہم اپنا پیچھا چھڑا سکیں تو یقین کیجیے ہمارے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اگر خلوص نیت اورسچائی سے ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے سوچا جائے تو ہم دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیںپاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے ہمارے عوام بڑے مخلص اور دل والے ہیںبس دلوں سے جاہ و مال اور ہوس اقتدار کی خواہش کو دیس نکالا دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں