Daily Mashriq

سوات کی رونقیں بحال ہوگئیں

سوات کی رونقیں بحال ہوگئیں

عزیز میں ایک بار پھرجمہوریت کی بہار ہے ہر شہر ہر قصبہ ہر گائوں میں ان کے اپنے منتخب کردہ نمائندے اپنے اپنے علاقوں کی تعمیر وترقی کے گن گا رہا ہے۔اس سے پہلے ہر کوئی بغیر سوچے سمجھے بغیر غور کئے کچھ نہ کچھ لکھ اور کہہ رہاتھا۔ لیکن کسی نے نہیں سوچا کہ آخر کیا وجہ رہی ہوگی جس سے سوات کے باسی کل تک ساری دنیا کے سیاحوں کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہنے والے اچانک اتنے خونخوار ہوگئے، کل تک پورے پاکستان کے ہر گوشے ہر شہر ہر کونے سے لوگ جوق در جوق پورے کے پورے خاندان' عورتیں' بچے 'بوڑھے اور جوان بے خوف و خطر اس عظیم خوبصورت وادی کو دیکھنے اس کے حسن سے محظوظ ہونے آتے تھے اور یہاں کی یادوں کو اپنے دوست احباب کو بڑی خوشی سے بتاتے نہیں تھکتے تھے۔کل تک یہ علاقہ ہر قسم کے کاروبار کے لئے موزوں تھا ہر طرف ریل پیل تھی ہر کوئی اپنے کاروبار سے جڑا تھا کوئی دہشت گرد نہ تھا کوئی طالبان نہ تھا کوئی کسی کو بلا وجہ زچ نہیں پہنچاتا تھا اور تو اور وطن عزیز کے ہر کونے سے آنے والے پنچابی، پختون، سندھی اور بلوچی کے لئے بالکل ایسا ہی تھا کہ جیسا کہ پاکستان کا کوئی بھی اور علاقہ، یہاں کے خوبصورت نظارے ہر عمر' مزاج اور طبقہ فکر کے لوگوں کے دلوں پر نقش ہوجاتے تھے، مگر چند شرپسند عناصر کی وجہ سے لوگ سوات کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتے تھے ۔

گزشتہ دنوں وزیر ستان کے واقعہ پر وزیر مواصلات اور سوات کے سپوت مراد سعید نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں اپنے علاقہ سوات کا کیا خوب حوالہ دیا کہ کیسے سوات میں امن خراب کیا گیا اور پھر فوج اور قوم نے مل کر امن بحال کیا۔ ان کی اردو اور پھر پشتو کی تقریر تو یہاں دہرانا نہیں چاہتا تاہم ان کے باتیں سچ ہیں اور نہ صرف وہ بلکہ پی ٹی آئی کی صوبائی اور وفاقی حکومت بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ کیونکہ چاہے وہ دہشت گرد ' طالبان یا امن و امان کے دشمن ہوں نہ تو وطن عزیز کے باسی تھے اور نہ ہی سوات کی یہ دلفریب بستی انہیں اپنا سپوت مانتی رہی ہے ہم اور ہمارے یہ علاقے ان سب کو عاق کرچکے ہیں کہ جواس کی خوبصورتی کو گہن کی طرح کھارہے تھے ۔یہ علاقہ تو امن کا پجاری تھاہے اور رہے گا۔ یہاں کے خوبصورت نظاروں کا تو ہر کوئی دلدادہ تھا ہی اس علاقہ کے امن و سکون اور سب سے بڑھ کر مہمان نوازی کا چرچہ تو پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی رہا ہے ۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے کسی بھی بے گناہ کی جان لی ہواور پھر پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ تو انکا سلوک دیدنی تھا مگر شرپسندوں اور مٹھی بھر جاہل لوگوں نے بیرونی طاقتوں کے کہنے پر اس وادی کو خوف کی وادی بنانے پر مجبورکیے رکھا ، نہ جانے یہ کھیل کس کے ایما پر اور کیوں کھیلا جاتارہا یہ خون کی ہولی کس کو خوش کرنے کے لئے کھیلی گئی اور کون سا ہاتھ ہے کہ جو اس سارے تانے بانے کوبنتا رہا۔لیکن یہ جو کوئی بھی ہے اور جس کے ایما پر بھی کررہا تھاوہ اپنے مزموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پایا کیونکہ اس خطہ کو صرف پختون ہی نہیں پورا پاکستان محبت کرتا ہے اور جس سے محبت کی جاتی ہے پھر اس کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹانا ہماری ریت رہی ہے، ہمارا طرہ امتیاز رہا ہے ہمارا طور رہاہے۔ امن کی بحالی میں جہاں فوج نے اپنا کردار ادا کیا وہاں پر حکومتوں نے بھی امن کی بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھانہ رکھی، بالخصوص پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی گزشتہ پانچ برس سے زائد کی محنت رنگ لے آئی اور سوات ایک بار پھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ابھی عیدالفطر پر ملک بھر کے باسیوں نے عید کی چھٹیاں دوبالا کرنے کے لئے یہاں کا ر خ کیا سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے خواتین اور مرد سوات کی وادی کی سیر کے لئے آئے ۔ یہ علاقہ اب بھی امن کا گہورا ہے اور رہے گا صرف اور صرف خلوص دل سے وہاں کے رہائشیوں نے پاک فوج کے ساتھ مل کر پھر کوشش کی، سب سے زیادہ کام سوات کے لوگوں نے کیا، وہاں کے مشران نے کیا وہاں کے جوانوں نے کیا کہ وہ اس خطہ کو پھر سے امن لوٹادیں اور پورے پاکستان اور دنیا بھر کے سیاحوں کو ان کی خوشیاں لوٹانے میں مدد دیں ، گائوں گائوں ، قصبہ قصبہ امن کمیٹیاں بنیں جو لوگ وہاں کاامن برباد کررہے ہیں ان سے بھی بات ہوئی اور جن کی زندگیاں اجیرن بنائی جارہی تھیں ان کو بھی شامل کر لیاگیا یوں مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا درست اور مناسب حل نکل ہی آیا۔ سوات میں زندگی ایک بار پھر معمول پر آچکی ہے ۔میری طرح درجنوں لوگوں نے قلم کا جہادبھی کیا، لوگ پھر جوق در جوق اس مشن میں شامل ہوتے چلے گئے اب تک ہونے والی مثبت تبدیلی پر اور امن کی بحالی پر ہم سوات کے مقامی لوگوں کو بالعموم اور سوات کے چاہنے والے سیاحوں و دیگر پاکستانیوں کو بالخصوص مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔یہاں پی ٹی آئی کے ہر ایک کارکن اور ان سوات و گردونواح کے رہنما اور سب سے بڑھ کر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خاص طور پر داد کی مستحق ہے ۔ سوات کے حالات خراب کرکے دراصل پختونوں کی ترقی اور روزگار پر لات مارنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی اور جلد یا بدیر بے نقاب ہوجائے گی لیکن ان کے منہ پر طمانچہ تب پڑاجب لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سیر وتفریخ کے لئے پھرسوات کا رخ کیا اور امید ہے کہ اس میں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں