Daily Mashriq

پاک افغان تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولاجائے،ایمل ولی خان

پاک افغان تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولاجائے،ایمل ولی خان

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پاک افغان تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تجارت کو سیاست سے الگ کر دیا جائے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی وجہ سے تجارت کو شدید دھچکا لگا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں تجارت کا حجم 2.7ارب ڈالر سے کم ہو کرتقریباً 1.2ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستے کھول کر تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ غلط فہمیوں اور بداعتمادی نے دونوں ممالک کے مابین تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ مشکلات کی وجہ سے جہاں پاکستانی تاجر اپنا سامان دیگر ممالک لے جانے پر مجبور ہیں وہاں افغان تاجر بھی دیگر ممالک میں اپنے لیے منڈیاں تلاش کررہے ہیں، دونوں ممالک کے مابین تجارت میں کمی کی وجہ سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ٹرانسپورٹ،کلیرنس ایجنٹس اور مزدوری کرنے والے افراد کو بے روزگاری کا سامنا ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر حکومتی پالیساں اسی طرح برقرار رہیں تو دونوں ممالک کے مابین تجارت بالکل ختم ہو جائے گی، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت میں بہتری لانے کے حوالے سے بات چیت میں ڈیڈ لاک ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین یہ تجارت اب چارسو ملین ڈالر تک محدود ہوگئی ہے، انہوں نے کہا کہ کشمیر پر موجودہ صورتحال کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان تجارتی راستوں کی بندش کے فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے اور انہیں فوری طور پر کھول کر تجارتی حجم سمیت ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس امر کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ افغانستان پاکستان کیلئے ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جس کے پیش نظر افغانستان کو پاکستان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ بھی کر نا چاہیے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھتی ہے تو اس کا امن عمل کیلئے اقدامات پر مثبت اثر پڑے گا،انہوں نے کہا کہ پاک افغانتعلقات میں اگر سنجیدگی کے ساتھ بہتری مطلوب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم و بحال کرنا ہے تو ہمیں ان تمام امور اور حالات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا جو رفتہ رفتہ دونوں ممالک کے درمیان دوریوںکا سبب بنے۔

متعلقہ خبریں