Daily Mashriq


پی کے 661 کی نا مکمل پرواز

پی کے 661 کی نا مکمل پرواز

چترال ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ سردیوں میں چھ ماہ سے رابطہ منقطع رہنے اور سفری مشکلات کے لئے ہمیشہ سے شہرت کا حامل علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ چترال اور پشاور کے درمیان متر وک فوکر طیاروں کاسخت نا موافق موسمی حالات اور دشوار ترین روٹ پر طویل عرصے تک کوئی حادثہ پیش نہ آیا اور ملتان میں فوکر طیارے کے حادثے کے بعد فوکر پروازوں کو مکمل طور پر ختم کردیاگیا۔ ایک فوکر طیارہ چترال ائیر پورٹ پر پھسل کر چترال ہی کا ہو کر رہ گیا جس سے آج بھی فوکر طیاروں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ فوکر طیاروں سے نسبتاً بہتر اور جدید اے ٹی آر طیارے کا حادثہ دیگر حادثات کی طرح ایک حادثہ ہی ہے۔ اس میں موسم کی خرابی کا کوئی عمل دخل نہیں جو اس روٹ پر کسی ممکنہ حادثے کی ہمیشہ سے بڑی وجہ ہو جانے کا خدشہ رہا ہے۔ چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 بھی بخیریت لواری ٹاپ کے موسمی شدائد اور دشوار گزار روٹ سے بحفاظت گزری جس کے بعد طیارے میں خرابی کی اطلاع دی گئی۔ مکمل تحقیقات سے قبل کوئی بھی بات قیاس آرائی ہی ہوگی لیکن اس کے باوجود ایک واضح نقص کی طرف ہر جانب سے اشارہ ملتا ہے کہ طیارے کاایک انجن پہلے سے محفوظ پرواز کے قابل شاید نہ تھا ۔ حالات و واقعات اور شواہد کی روشنی میں بھی یہی قیاس قرین حقیقت دکھائی دیتا ہے کہ طیارے کے انجن میں خرابی کی اطلاع ملنے کے چند ہی منٹوں کے بعد طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ ہر مسافر طیارے میں دو انجن ہوتے ہیں جن میں سے ہر انجن کی صلاحیت اتنی ہوتی ہے کہ اگر ایک انجن مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دے تو پائلٹ دوسرا انجن چلا کر بحفاظت کسی ائیر پورٹ پر پرواز اتار سکتا ہے۔ اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک انجن میں خرابی پیدا ہونا کسی ہنگامی صورتحال کا باعث ہر گز نہیں بنتا اور نہ ہی یہ کوئی غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے۔ اسی صورت میں احتیاط کے تقاضے کیا ہونے چاہئیں اس کا فیصلہ کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کی مشاورت سے ہوتا ہے۔ چترال سے اسلام آباد آنے والی بد قسمت پرواز کا پائلٹ مکمل مہارت اور تجربے کا حامل تھا اس بناء پر اسے کسی انسانی غلطی کا نتیجہ بھی قرار دینا درست نہ ہوگا بلکہ پائلٹ نے کمال مہارت کے ساتھ آبادی کو بچانے کے لئے طیارے کا رخ موڑ کر پہاڑوں کی طرف کردیا۔ وہ کیا حالات تھے کیا خرابیاں تھیںکیا غلطی تھی اس کی تفصیلات تو جامع رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئیں۔ ماہرین بھی مختلف رائے اور انداز فکر کااظہار کرتے ہیں۔پی آئی اے کے چیئرمین اعظم سہگل کا کہنا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے)کے چترال سے اسلام آباد آنے والے مسافر طیارے کے حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہونے کے حادثے میں انسانی غلطی کا امکان نہیں۔ حادثے کے وقت طیارے سے اطلاع ملی کہ ایک انجن فیل ہوگیا، مگر امید تھی کہ ایک انجن کے ساتھ جہاز بحفاظت اترنے میں کامیاب ہوجائے گا، ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کریں گے کہ ایک انجن کے فیل ہونے پر حادثہ کیسے ہوا؟ان کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کا اکتوبر میں چیک اپ ہوا تھا اور وہ مکمل طور پر ٹھیک تھا، اس کا بلیک باکس بھی مل گیا ہے جسے ایس آئی بی کو بھجوائیں گے،تحقیقات کے بعد حادثے کی وجوہات آئندہ چند دنوں میں سامنے لائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ یہ طیارہ2007 ء میں بنا اور اسی سال پی آئی اے میں شامل ہوا ۔جہازوں میں خرابیاں ہوتی رہتی ہیں اور انہیں دور بھی کیا جاتا ہے مگر پی آئی اے سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ خراب طیاروں کو استعمال کیا جائے گا۔ایوی ایشن کے عالمی نگران ادارے ایوی ایشن ہیرالڈ کے مطابق پی کے661ایبٹ آباد کے قریب انجن میں خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا جبکہ ائیر مارشل(ر)شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ ابھی یہ تصدیق ہونا باقی ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا۔ائیرلائن سیفٹی کے صفِ اول کے ماہر پروفیسر آرنلڈ بارنیٹ کے خیالات اور سوالات خاص طور پر قابل توجہ ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نجی ائیرلائنز بین الاقوامی ائیر لائن سیفٹی رینکنگ کا حصہ بننے کے لیے بہت چھوٹی ہیں، مگر پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے اکثر اس لسٹ میں رہتی ہے، ہر غلط وجہ کے لیے۔ یہ اپنے خراب سیفٹی ریکارڈ کی وجہ سے دوسری ائیرلائنز سے ممتاز ہے۔ماہرین کے مطابق حکومت، خاص طور پر سول ایوی ایشن اتھارٹی میں موجود ریگولیٹری حکام پاکستان میں موجود ائیر لائنز کے خراب سیفٹی ریکارڈز پر غفلت کی حد تک خاموش رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم پاکستان میںائیرلائن سیفٹی کی حالتِ زار پر سنجیدگی سے غور کریں۔اس افسوسناک حادثے سے ملک بھر میں گہرے غم کے جو بادل ہیں اس سوگوار فضا میں اب یہی ممکن دکھائی دیتا ہے کہ آئندہ احتیاط کے تقاضوں اور تکنیکی معائنہ و فلائٹ سیفٹی کے جملہ امور کو یقینی بنایا جائے۔ طیارے کے حادثے کی عبوری رپورٹ جلد سے جلد جاری کی جائے اور مکمل رپورٹ جتنا جلد ممکن ہو سکے مکمل کرکے قوم کے سامنے لائی جائے۔

متعلقہ خبریں