Daily Mashriq


سوال کیجئے تاکہ مکالمے کا دروازہ کھلے

سوال کیجئے تاکہ مکالمے کا دروازہ کھلے

دو اڑھائی برسوں سے کچھ اوپر کے دن مشرق کے قارئین سے دور گزر گئے۔ وقت گزرتا ہے ایک اڑان سے یا بند مٹی سے جیسے ریت پھسلتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے۔ اہمیت تعلق خاطر اور یاد آوری کی ہوتی ہے۔ گزرے اڑھائی برسوں سے کچھ اوپر کے وقت میں بہت کچھ تبدیل ہوگیا' منظر بدلے۔ در منظر بدلتے گئے۔ بیانیہ بھی تبدیل ہوگیا۔ نہیں بدلا تو محکوم و مظلوم زمین زادوں کا نصیب۔ پہلے سے سخت بلکہ سخت تر حالات ہیں۔ پرائی جنگ میں کودنے کا جو فیصلہ لگ بھگ چالیس سال قبل ہوا تھا اس نے کیا دیا' کھویا کیا اور پایا کیا۔ راز ہائے درون سینہ کچھ نہیں حساب سارا سامنے دیوار پر لکھا ہے۔ ہمارے پالیسی ساز پڑھنا نہیں چاہتے یا بینائی میں کچھ مسئلہ ہے۔ اب اس پر سر کھپانے کی ضرورت نہیں۔ فی الوقت حساب یہ ہے کہ چالیس سال پہلے کا پاکستان ساڑھے تین ہزار روپے فی کس کے حساب سے مقروض تھا اور بائیس کروڑ کی آبادی والا 2016ء کا پاکستان سوا لاکھ روپے فی کس کے حساب سے مقروض ہے۔ چالیس برسوں میں بس تین سو سینتالیس ارب ڈالر کا نقصان ملکی معیشت کو ہوا۔ اس کا بوجھ عام آدمی پر پڑا۔ 5جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو لگ بھگ 12فیصد لوگ خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرتے تھے۔ 2016ء میں بائیس کروڑ میں سے 59 یا 60فیصد خط غربت کے نیجچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیا آبادی میں اضافے کو حد میں نہ رکھ سکنے والی فکر سے تہی دست ہونے کا نتیجہ ہے۔ انفرادی شعورکی کمی ہے یا پھر وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا؟۔ تین حصوں پر مشتمل اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اپنی اپنی جگہ تینوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن فہمیدہ جواب یہ ہے کہ پالیسی ساز ذمہ دار ہیں۔ مگر اس سے پہلے کا بنیادی سوال بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ یہ کہ پہلے چالیس برسوں کے دوران پرائی جنگ میں خدمات سر انجام دینے کے نتیجے میں جو کچھ بھی حاصل ہوا وہ کہاں گیا؟ حاصل ہوئی رقم کہاں گئی' تلخ اور کھردرا سا سوال ہے۔ سوال کرنے کی اجازت نہیں بلکہ یوں کہہ لیجئے سوال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آ پ میں بغاوت کے جراثیم موجود ہیں۔ سوال سے سب بھاگتے ہیں۔ وجہ صاف ہے سوال کا جواب مکالمے کا د روازہ کھولتا ہے اور مکالمہ آگہی کا۔ ایک زندہ و تابندہ سماج کس کو برداشت ہوتا ہے۔ کسی کو نہیں حضور۔ عدم برداشت کی دکان چلتی ہے کاروبار بڑھتا ہے' آگہی تو تقاضہ کرتی ہے کہ حصہ بقدرے جثہ نہیں بلکہ مساوات کے اصول پر وسائل تقسیم ہوں۔ ہمارے یہاں مساوات کا اصول زہر سمجھا جاتا ہے۔ دو قسم کے زہر ہوتے ہیں ایک زندگی کو حرف غلط کی طرح مٹا دینے والا اور دوسرا ( طبیبوں سے پوچھ لیجئے) زندگی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ کسی نے زندگی کی ضمانت بننے والے زہر کو شعور کا نام دیا ہے۔ یہ سماج کو تو مستحکم کرتا اور لوگوں کے حالات کو بہتر کرتا ہے مگر اس کی وجہ سے بالا ست طبقات کی گرفت کم پڑتی ہے۔ اس لئے بالا دست طبقات کے بھائی بند اور ساجھے دار دونوں شعور کو زہر کا نام دیتے ہیں۔ نصف صدی سے آٹھ برس اوپر کے سفر حیات میں انگنت لوگ ایسے دیکھے سنے جو فرماتے تھے ۔ تعلیم علم کا دروازہ کھولتی ہے علم شعور کا اور شعور سماجی ارتقا کے سفر کو سہل بناتا ہے۔ اس امید بھری مثبت سوچ کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی رہے اور ہیں جو شعور کو سارے فسادکی جڑ قرار دے کر علم کے دروازے بند رکھنا چا ہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ تعلیمی نصابوں سے صرف نوکری کرنے والے بابو اور اطاعت گزار رعایا کی تعداد میں تو اضافہ ہوا مگر رعایا عوام نہ بننے پائے کیونکہ عوام حق مانگنے لگتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جو داخلی' تعلیمی' طبی' خارجی اور دیگر شعبوں میں دوراس تبدیلی لانے والی پالیسیاں وضع نہیں ہونے دیتی اور نتیجہ یہ ہے کہ 70 سال بعد بھی ہم سماجی و معاشی اور سیاسی طور پر وہیں کھڑے ہیں جہاں 14اگست 1947ء کو کھڑے تھے۔ )

آپ کہہ سکتے ہیں ملک ایٹمی طاقت ہے' عظیم میزائل پروگرام کا حامل' کچھ مقامات پر میٹرو بس چلتی ہے''لاہور شریف'' میں مالٹا ٹرین (اورنج ٹرین) کے منصوبے پر دھڑا دھڑ کام ہورہا ہے ۔ سی پیک کا عظیم الشان پاک چین منصوبہ روبہ تعمیر ہے۔ لیکن اس کا کیا کریں صاحب! میٹرو بس سے چاول کاشت نہیں ہوتے۔ مالٹا ٹرین سے کچلے ہوئے طبقات کے بے نوا لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت نہیں مل سکتی۔ میزائلوں سے گندم نہیں اگائی جاتی۔ ایٹم بموں سے علم کا نور نہیں پھیلتا۔ معاف کیجئے گا یہ سب بھرے پیٹ کے چونچلے ہیں۔ یہاں میں اور آپ جس سماج میں رہ رہے ہیں اس میں حبیب جالب مرحوم کے بقول

ہر بلاول ہے دیس کامقروض

پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کبھی کسی نے اس امر پر توجہ دی ہے کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور طبقاتی بالادستی کا نتیجہ کیا نکلا؟ غور کرنے والوں کے پاس وقت نہیں ہے کار جہاں دراز نہیں بلکہ جہاں مختلف ہے۔ بندہ مزدور کا جہان اور ہے۔ وہی مسائل اور محرومیوں سے عبارت جہان جہاں دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوا۔ مکر ر عرض ہے پھروہ سارا مال کہاں گیا جوپچھلے چالیس برسوں میں حاصل وصول ہوا' خدمات کے عوض؟ اندرونی و بیرونی قرضوں کا حجم بڑھتا جا رہا ہے۔ ضمنی طور پر بالائی سطور میں اس حوالے سے معروضات پیش کرچکا۔ عجیب سی بات ہے دیا سلائی کی ڈبیہ خریدنے سے لے کر کپڑے جوتے خریدنے ' ادویات سے لے کر دیگر ضرورت کی اشیاء خریدنے تک ہم سب مساوی ٹیکس دیتے ہیں مگر جب پالیسیاں بنتی ہیں تو وہ مساوات سے خالی ہوتی ہیں۔ کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ اس عدم مساوات کی وجہ سے آبادی کے مختلف طبقات میں جو دوریاں بڑھ رہی ہیں ان کا اختتام کیا کہا پر اور کن حالات پر ہوگا؟ کامل یقین ہے کہ کوئی بھی اس بارے نہیں سوچتا۔ بالخصوص وہ لوگ تو بالکل نہیں ہیں جن کا فرض ہے۔

متعلقہ خبریں