Daily Mashriq


خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را

خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را

میرا چھوٹا بیٹا کل پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ فرخ مشتاق جو جسمانی طور پر کمزور ہے اس کی زبان بھی بہت حد تک لکنت کی شکار ہے۔ بایاں ہاتھ اور پائوں درست کام نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے وہ تعلیم کے میدان میں بھی ہماری بسیار کوششوں کے واجبی سے آگے نہیں بڑھ سکا مگر اللہ جل شانہ نے اس کا رخ تبلیغ کی جانب موڑ رکھا ہے اور وہ محلے کی دو مساجد میں بدھ اور اتوار کے روز عصر کے بعدجمع ہونے والے اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی صحبت میں تبلیغ کے کام میں مقدور بھر سرگرمی دکھاتا ہے۔ اسی ناتے جب کل اسے معلوم ہوا کہ جنید جمشید فضائی حادثے میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوگیاہے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا حالانکہ جنید جمشید سے ہمارا کیا رشتہ؟ کیا تعلق؟ میرے گھر میں تو ایک طرف ملک بھر میں عمومی طور پر اس سانحے کے بعد فضا سوگوار رہی اور ہر شخص غمزدہ دکھائی دے رہا تھا۔ جنید جمشید تب سے لوگوں کی آنکھ کا تارہ تھا جب اس نے دل دل پاکستان گا کر شہرت کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے تیزی سے بلندی کی جانب سفر اختیار کیا۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اب تک صرف موسیقی کے شعبے سے وابستہ رہتا تو اس کی شہرت میں اضافہ تو یقینا ہوتا مگر اس صورت میں گزشتہ روز کے فضائی حادثے کے بعد ملکی فضا اتنی سوگوار ہوتی نہ ہی یہ صورتحال طوالت کا باعث بنتی۔ بس ایک دو روز تک افسوس کا اظہار ہوتا اور پھر لوگ بھول جاتے جیسا کہ ہمارا قومی وتیرہ ہے مگر جب سے اس نے موسیقی کی دنیا کو خیر باد کہہ کر نعت خوانی کے شعبے سے تعلق جوڑا ہے اور تبلیغ کے کام سے وابستہ رہ کر اپنے رب کو خوش کیا ہے اس کی یادیں کبھی بھلائی نہیں جا سکیں گی بلکہ خاص طور پر رمضان المبارک کے دنوں میں ایک نجی ٹی وی چینل پر چلنے والے ان کے پروگرام کو جس میں اینکر وسیم بادامی ان کا ساتھ دیتے تھے' ہمیشہ یاد رکھا جاتا رہے گا۔ بقول منیر نیازی

میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے

دیر تک اسم محمدۖ شاد رکھتا ہے مجھے

یہی وہ ناتا تھا جو میرے صاحبزادے فرخ مشتاق اور جنید جمشید کے درمیان نشریات کے ذریعے قائم تھا۔ پروگرام میں حصہ لینے والے علمائے دین کے خیالات سے مستفید ہوتے۔ مختلف مقابلوں میں دلچسپی لیتے۔ خاص طور پر جب پروگرام کے دوران غریب' نادار اور مختلف عوارض میں مبتلا لوگوں جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی سکرین پر لا کر ان کے دلدر دور کرنے کے لئے صاحبان استطاعت سے مالی امداد طلب کرتے اور اس کے جواب میں امداد ملنے کے بعد بچوں اور ان کے والدین کے چہروں پر خوشی کی لہریں دکھائی دیتیں تو پاکستان کے دوسرے عوام کی طرح فرخ کا چہرہ بھی تمتما اٹھتا۔ اس پر یہ شعر یاد آجاتا ہے کہ

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کرلیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

جنید جمشید نے جب گانا ترک کیا تو خود ان کے بقول انہیں ایک کمپنی کی جانب سے بہت پر کشش ترغیبات مل رہی تھیں اور لاکھوں روپے کے معاہدے کی پیشکش ہوئی جبکہ دوسری جانب اللہ جل شانہ ، اور ان کے حبیب ۖ کی محبت تھی اور وقتی طور پر تنگی سے وہ پریشان ہو گئے تھے ، اس دوران میں ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ موسیقی کی دنیا سے علیحدگی پر وہ تاسف میں مبتلا ہوگئے تھے مگر پھر انہوں نے ان شیطانی وسوسوں سے جان چھڑائی اور اللہ پر توکل کر کے صبر کا دامن تھا ما اور پھر رب ذوالجلال نے ایسا وسیلہ کیا کہ انہوں نے جے ڈاٹ کے نام سے لباس بنانے کا منصوبہ بنا کر تبلیغ سے وابستہ لوگوں کے لئے کپڑے ڈیزائن کروا کر کام کا آغاز کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا م میں ایسی برکت ڈالی کہ آج وہ ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی اپنا کاروبار کامیابی سے پھیلا کر نہایت مطمئن زندگی گزار رہے تھے ۔

من کی دنیا ، من کی دنیا ، سوز و مستی جذب و شوق

تن کی دنیا ، تن کی دنیا ، سود و سودامکر و فن

تبلیغ کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد ایک خاص طبقے نے ہر قدم پر ان کی مخالفت کی یہاں تک کہ ان کی ایک بات کو لیکر ان کے خلاف فتوے تک جاری کئے گئے اور ان کی جان کو خطرات لا حق ہوئے تو انہیں اپنے بہی خواہوں کی ہدایت پر رمضان ہی کے مہینے میں ٹی وی پروگرام چھوڑ کر ملک بدری اختیار کرنا پڑی۔ اگلے برس بھی وہ اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے بعد ہی رمضان کے اواخر میں ہی دوبارہ پروگرام میں شرکت کے لئے آئے مگران کے خلاف مخالفانہ فضا بہت حد تک بر قرار رہی تھی ، اور پھر یہ واقعہ بھی ہوا کہ کچھ عرصے بعد اسلام آباد ایئر پورٹ پر بعض افراد نے ان پر حملہ کر کے زدو کوب بھی کیا ، اگرچہ انہوں نے اس واقعے کی رپورٹ پولیس میں درج کرو ادی تھی لیکن شنید ہے کہ مولانا طارق جمیل کی ہدایت پر جنید جمشید نے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ کرنے والوں کو معاف کر کے مقدمہ واپس لے لیا تھا ، بقول ڈاکٹر جواد جعفری

گل کئے گردوں نے کیسے کیسے چہروں کے چراغ

آنکھ بھر آتی ہے ذکر خال و خد کرتے ہوئے

بزرگوں سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے حبیب سے محبت کرنے والوں کو جلد واپس بلا لیتا ہے ۔ چونکہ اللہ کے ساتھ لو لگانے اور اس کے حبیب ۖ اوراسلام کی محبت میں جنید جمشید مبتلا ہو گیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ربیع الاول کے مبارک ایام ہی میں اسے اپنے پاس بلا لیا ۔ اگرچہ ابھی وہ جوانی کی دہلیز پر ہی محو سفر تھا ۔

خدا رحمت کندایںعاشقان پاک طینت را

متعلقہ خبریں