Daily Mashriq


کون تنہائی کا شکا ر ہے

کون تنہائی کا شکا ر ہے

سوویت یو نین کا شیر ازہ بکھر جا نے سے دنیا کی سیکو لر ، سوشلسٹ اور کمیو نسٹ تنظیمیں یتیم ہو کر رہ گئیں ، جب تک سو ویت یو نین سپر پا ور رہا اس وقت تک امریکا کی روس کے ساتھ کھٹ پٹ تورہی مگر یہ سب زبانی کلا می تھی جس کو سرد جنگ کا نا م دیا جا تا رہا اور امریکا سرکار اس مکر میں رہی کہ سوویت یو نین سے براہ راست جنجال کر نے کی بجا ئے دوسرو ں کے کند ھے پر ہا تھ رکھ کر مطلب پو را کیا جا تا رہے۔ چنا نچہ دنیا کو انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا مگر جب چین تیزی کے ساتھ ایک ترقی یا فتہ ملک کے طورپر ابھر نے لگا تو امریکا نے روس کا گھیر اؤ کر نے کی غر ض سے چین پر ڈورے ڈالے مگر چین ایک واضح پا لیسی رکھتا تھا اس کا مو قف رہا ہے کہ کسی کے اند رونی معاملا ت میں دخل اند ازی نہ کی جا ئے اور نہ کسی کے ہاتھ میں اپنے معاملات دئیے جا ئیں جب چین کے روس سے اختلافات رونما ہوئے تو ا س نے کسی تیسری قوت کا سہار انہیںلیا ۔ جب کہ امریکا صیہو نیو ں کے عالمی ایجنڈے کے تحت پنگا لیے رہتا ہے۔ نا ئن الیون کے واقعہ کے بعد اس کا جو حسن سلوک پاکستان کے ساتھ رہا وہ اپنی جگہ کر ب نا ک ہے مگر اس سے انداز ہ ہو جا تا ہے کہ سیا سی شطرنج پر اس کی چالیں کس قدر بے ڈھب ہیں ، اب چین عالمی سیا ست میں طمطراق کے ساتھ داخل ہو ا ہے اور رو س نے بھی دوبارہ سپر پاور کی طر ح قدم جما نے کی مساعی کی ہے ۔امریکا اب تک سرما یہ دارانہ نظام کی نمائند گی کر تا رہا ہے اور دنیا کو سوشلزم کے عفریت سے ڈراتا رہا ہے ، اب خود کو سرمایہ داری سے تاب کر چکا ہے اور ایک پر انی اصطلا ح کو نیا جا مہ پہنا کر اپنے لیے سیا سی قوت مجتمع کر رہا ہے ، اور یہ سارا کھیل سیکو لر ازم کے نا م پر ہو رہا ہے ۔ اس وقت دنیا میں عالمگیر جنگ کا آغا ز ہو چکا ہے جس کو تیسری عالمی جنگ ہی کہا جا سکتا ہے ، اور یہ جنگ عملی طورپر اسلا می ممالک میں لڑی جا رہی ہے جس کا آغا ز تو روس کے ہاتھو ں ہواکہ اس نے ایک معاشی واقتصادی منفعت کی غرض سے افغانستان پر حملہ کیا تاکہ گر م پانی کا مالک بن جا ئے ، مگر یہ جنگ مذہبی جنگ میں تبدیل ہو کر رہ گئی تھی اور یہ بھی اللہ بزرگ برتر کی حکمت ہے کہ آج روس کو گر م پانی تک رسائی مل رہی ہے مگر اس انداز میںنہیں بلکہ پر امن طور پر راستہ میسر ہے۔ بہر حا ل اس وقت جنگ اسلا می ممالک میں ہے جو امریکا نے نائن الیو ن کے بعد مسلم ممالک میں شروع کی جو نہ سیکولر ازم کے لیے ہے نہ سوشلز م کے نا م پر ہے اور نہ سرمایہ داری کے لیے ہے وہ اب مذہب کی بنیا د پاگئی ہے ، ترکی صدر نے اپنے دورہ پا کستان کے دوران مغرب کے بارے میں جن خیا لا ت کا اظہا ر کیا اس میں یہ واضح کر دیا کہ مغرب مسلم دنیا کے خلا ف اٹھ کھڑا ہوا ہے ، مگر اس کو کیا کہا جا ئے کہ پا کستا ن میںایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو ان قوتو ں کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے دن رات پاکستان کی اچھائیوں پر بھی تبّر ا پڑھتے رہتے ہیں ۔یہ ٹھیک ہے کہ بھارت تو برملا کہتا ہے کہ پا کستان کو عالمی سطح پر تنہا ئی کا شکا ر کر دے گا۔پاکستا ن میں ان کی نما ئندگی کر نے والے عنا صر یہ راگ الا پ رہے ہیںکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نا کام ہوچکی ہے اور اس سلسلے میں جو مثالیں دے رہے ہیں ان میں ہا رٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھا رت کے وزیر اعظم مو دی اور افغان صدر اشرف غنی کی تقاریر کو بنیا د بنا رہے ہیں کہ ان کے مقابلے میں پا کستان کے مشیر خار جہ سرتاج عزیز کی تقریر پھس پھسی رہی ہے۔ ایسا ہر گز نہیں رہا ، سرتاج عزیز نے جس اند از میں کا نفرنس میں شرکت کی اس سے پا کستان کا قد عالمی سطح پر بلند ہو ا ہے کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان جس کے بارے میں یہ تا ثر پھیلا یا جارہا ہے کہ وہ دہشت گرد ملک ہے اور دہشت گر دو ں کو پنا ہ دیتا ہے وہ کا نفرنس میںدہشت گردی کے خلاف کس میسر انداز میں شرکت کر رہا ہے جو موقف پیش کیا وہ کس حد تک مثبت تھا جہا ں تک بھا رت کے وزیر اعظم اور افغان صدر کے بے تکے الزا ما ت کاجواب دینے کا تعلق ہے ۔سرتاج عزیز کی خامو شی نے ان کی بات خود ان کے منہ پر ما ردی ، اس سے زیادہ مئو ثر بات کوئی دوسری نہیں ہو سکتی تھی کہ پا کستان کی نما ئند گی ایک تیسر ے ملک روس نے کی۔ یہ وہی روس ہے جس نے پچا س سال تک بھارت کو پا لا پوسا ، آج وہ بھار ت کو پاکستان کی طرف سے جو اب دیا جب بھارت روس کا لے پالک بنا ہو ا تھا۔اس زما نے میں بھی روس نے بھارت کی اس طرح کی حما یت کی جس طر ح اس نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو نے کا مظاہر ہ کیا ہے ۔پھر کو ن ہے جو یہ کہتا ہے کہ پا کستان تنہا ہو کر رہ گیا ہے کیا بھا رت اور افغانستا ن کے الزامات کی کسی نے تائید کی ، پاکستان کی نا کامی کی ڈونڈی پیٹنے والو ں کو معلو م ہو نا چاہیے کہ جلد ہی ایک اور ہارٹ آف افغانستان کا نفرنس ہو نے جا رہی ہے جس میںچین ، روس ، افغانستان ، ایر ان اور پاکستان شامل ہیں۔بھارت کا اس میں کوئی وجود نہیںہے اور وہ یہ بھی جا نتے ہوںگے کہ پاکستان کو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے باہر رکھنے کی کتنی تگ ودو ہو چکی مگر ا س میں بھی نا کامی رہی ہے ۔امر یکا کے سیکو لر ازم کے سحر میں مبتلا عنا صر کو اپنی آنکھیں کھولینا چاہئیں کہ دنیا میں مذہب کا ہی کر دار رہ گیا ہے ، امریکا کا سیکو لر ازم کا ڈھونگ اس کے حالیہ انتخابات میں عیا ں ہو چکا ہے کہ امر یکا اب نظریا تی طور پر کیتھو لک ، اورپروٹسٹنٹ میں بٹ گیا ہے ، سیکولر از م دیش نکالا ہو ا ، اسی طر ح اب روس نہ تو سو شلسٹ اور نہ کمیونسٹ ملک ہے نہ ہی مغربی جمہوریت کا چربہ ہے بلکہ اس نے جیسے اعلا ن کر رکھا ہے کہ روس اب ایک آرتھوڈکس عیسائی ریا ست بن گیا ہے چنا نچہ اب امریکا دنیا کو مسلم ممالک کے خلاف جمع کر نے کے مشن پر لگا ہو ا ہے مگر اس کو خود اند رون خانہ اور بیر ون دنیا میں اپنے فرقوں کی کشید گی کا سامنا ہے ۔

متعلقہ خبریں