جان نکلسن !!! تو بھی تو دلدار نہیں

جان نکلسن !!! تو بھی تو دلدار نہیں

امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے پنٹاگون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اب بھی سب سے بڑا خطرہ ہے اور پاکستان حقانی نیٹ ورک کے لئے مقدس مقام ہے جہاں و لطف اندوز ہورہے ہیں۔حقانی نیٹ ورک نے اب بھی پانچ امریکی شہریوں کا یرغمال بنا رکھا ہے ۔پاکستان پر الزام تراشی کے ساتھ ہی جنرل نکلسن نے افغانستان کے فوجی جرنیلوں پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ افغان فوج میں کرپشن ہے ۔چوکیوں پر تعینات فوجیوں کے پاس گولہ بارود ہے نہ کھانے پینے کا سامان ۔کابل کو بدعنوان فوجی قیادت کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے ۔نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کا فیصلہ کیا تھا تو ان کا نعرہ اس ملک اور پوری دنیا کو محفوظ بنانا تھا ۔اس ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا ۔امریکہ نے اس نعرے کی تائید اقوام متحدہ سے بھی حاصل کی اور پھر اس مقصد کی تکمیل کے لئے دنیا بھر کی فوجی امداد بھی حاصل کی ۔ افغانستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے فضا سے دنیا کا جدید اور مہلک اسلحہ برسایا گیا مگریہ بارود بیج کا کام دیتا رہا اور اس سے باغیوں کی فصلیں اُگتی اور نمو پاتی چلی گئیں ۔افغانستان میں امریکہ کے سب اتحادی جب برسہا برس کی محنت کے بعد بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے تو وہ اُکتا کرایک ایک کرکے اس جنگ سے الگ ہوتے چلے گئے ۔جوں جوں امریکہ افغانستان میں کمزور ہوتا چلا گیا اسی رفتار سے بھارت امریکہ کی چھتری تلے آگے بڑھتا چلا گیا جس سے مسئلے کی ڈور مزید الجھتی چلی گئی ۔ اب امریکی فوج کے کمانڈر کی باتوں سے لگتا ہے کہ سولہ برس بعد بھی افغانستان اتنا ہی خطرناک ،غیر محفوظ اور غیر مستحکم ہے کہ جس قدر یہ ملک امریکی حملے کے پہلے دن تھا ۔انہیں بخوبی علم ہے افغانستان ان کا جدید'' ویت نام'' بن چکا ہے مگر وہ اس کے اعتراف سے گریزاں ہیں ۔وہ اسی کی دہائی کے سوویت صدر گورباچوف جتنی عالی ظرفی کا مظاہرے کرنے سے قاصر ہیں کہ جس کا مظاہرہ انہوں نے افغانستان میں سوویت فوج کی ناکامی کا اشارہ دیتے ہوئے یوں کیا تھا کہ ''افغانستان رستا ہوا زخم بن چکا ہے '' ۔یہ سوویت صدر کی طرف سے اپنی فوجی حکمت عملی کی ناکامی کا اعتراف ہی تھا۔یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ آنجہانی سوویت صدربرژنیف کی جارحانہ افغان پالیسی کا ٹرننگ پوائنٹ تھااس کے بعد ایک ترتیب اور تسلسل کے ساتھ سوویت یونین افغانستان سے اپنا بستر سمیٹنے میں مصروف ہوگیا ۔امریکی حکمران اور جنرل ابھی عالی ظرفی کے اس مقام اور معیار تک نہیں پہنچے ۔وہ اپنی ناکامی کو اپنی حکمت عملی میں تلاش کرنے کی بجائے پاکستان اور افغان فوجی قیادت میں تلاش کرنے لگے ہیں ۔امریکہ کا یہی رویہ اسے افغانستان میں سرخ روئی اور فتح مندی کی منزل سے دور رکھے ہوئے ہے ۔افغانستان میں ناکامی کے باوجود امریکہ اس ملک سے اس بنا پر رخت سفر باندھنے کو تیار نہیں کہ چین یہاں اپنا اثر رسوخ بڑھا لے گا۔ اس شوق میں امریکہ سو جوتے بھی کھا رہا ہے اور سو پیاز بھی ۔پوست کی کاشت کی صورت میں سی آئی اے دنیا بھر میں جاری اپنے کورڈ آپریشنز کے لئے افغانستان سے وسائل بھی سمیٹ رہی ہے اورنقصان بھی برداشت کر رہی ہے ۔سولہ برس سے دنیا کے مضبوط فوجی اتحادوں کی حمایت سے امریکی جو فتح حاصل نہ کر سکے ان کی فرمائش ہے کہ پاکستان فتح کا وہ سندور امریکیوں کی مانگ میں بھردے ۔پاکستان کے پاس ایسی کوئی جادوئی چھڑی نہیں کہ جسے ہلاتے ہی افغانستان میں امن اور استحکام کے چشمے پھوٹ پڑیں ۔حقانی نیٹ ورک ماضی کے معروف افغان جہادی لیڈر جلال الدین حقانی کے خانوادے کی تنظیم ہے ۔

ماضی کے کئی جہادی کردار پروفیسر سیاف اور ربانی کے خانوادوںکی صورت میں کابل کے حکومتی نظام کا حصہ ہیں ۔کابل کے حکمران ماضی کے ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کو آمادہ مفاہمت کرے تو پاکستان انہیں روکنے والا کون ہوسکتا ہے ؟گل بدین حکمت یار ماضی میں پاکستان کے سب سے قریب اور سب سے پسندیدہ افغان لیڈر سمجھے جاتے تھے ۔پاکستان کے اداروں اور شخصیات کے ساتھ ان کی تلخی کی وجہ ہمیشہ یہ رہتی کہ وہ آزادمنش ہونے کی بنا پر ڈکٹیشن نہیں لیتے تھے ۔حکمت یار نے کابل حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا تو پاکستان نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے خیرمقدم ہی کیا ۔اسی طرح ملا عمر کے جانشین یا حقانی فیملی بھی کابل حکومت کے ساتھ اپنے طور پر مذاکرات کرکے کابل کے سسٹم کاحصہ بنیں تو اس میں پاکستان کا کیا نقصان ہے ؟ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق امریکہ اور کابل کے حکمرانوں میں خوئی دلنوازی اور دلداری نہ ہو تو اس میں پاکستان کی وفاداری پر شک کیسا؟ حالات یہ ہیں کہ پاکستان کو مسئلے کے حل کی جگہ مسئلہ بنا دیا گیا ہے اور اس کے لئے افغانستان میں قیام امن میں کردار ادا کرنے کے آپشنز محدود کر دئیے گئے ہیں تو ایسے میں گلہ گزاری کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا ۔امریکہ اور کابل دونوں کو اپنی ادائوں پر غور کرنا چاہئے۔ جان نکلسن جب آنے والے دنوں میں پاکستان کی فوجی قیادت سے ملیں گے جس کا انہوں نے پریس کانفرنس میں ہی اعلان کیا توجنرل عاصم باجوہ کا ایک ٹویٹ تو یوں بنتا ہی ہے
ہم اگر وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں

اداریہ