Daily Mashriq


جمہوریت و استحکام جمہوریت کے تقاضے

جمہوریت و استحکام جمہوریت کے تقاضے

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں فوج اور سیاستدانوںدونوں نے غلطیاں کی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا کام کریں اور سیاستدان اپنا کام کریں ، انہوں نے کہا کہ فوج کاکام حکومت کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان صرف جمہوری پراسیس کے ذریعے ترقی کرسکتا ہے۔دریں اثناء ائیر چیف مارشل سہیل امان نے بھی کہا ہے کہ کسی بھی ملک میں مرضی کی جمہوریت نہیں لائی جاسکتی۔ پاک فوج اور پاک ائیر فورس کی قیادت کے ملتے جلتے خیالات سے انکار ممکن نہیں۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کا جمہوریت اور فوج کے کردار کے حوالے سے واضح بیان اور جمہوریت پر یقین کااظہار موجودہ حالات میں یقینا ایک واضح پیغام ہے لیکن ماضی میں جمہوریت اور حکومت کے حوالے سے فوج کا جو کردار رہا ہے اور ملک میں مارشل لاء آتے رہے ہیں اگر اس کردار کے دوبارہ مظاہرے کی نوبت نہ آئے تو ملک میں جمہوریت کے استحکام کا دورشروع ہوسکتا ہے۔ اسے بدقسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ ہمارے سیاستدانوں کو جمہوریت کے عدم استحکام اور جمہوریت کو نہ چلنے دینے کا شکوہ شکایت تو بہت رہتا ہے پارلیمنٹ کے بے اختیار ہونے اور حکومت کی مجبوریوں کا بھی رونا بہت رویا جاتاہے۔ جنرل باجوہ نے اس امر کی جانب درست اشارہ کیا ہے کہ مرضی کی جمہوریت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں سیاستدانوں کانظریہ جمہوریت ہی یہ نظر آتاہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت ہو اس سے عدم اتفاق کی کوئی صورت نہیں لیکن جمہوریت کے لئے جمہور کے تقاضوں کو کون پوراکرے گا۔ سیاسی حکومتوں میں بدترین کرپشن کی کہانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ عوامی مسائل کے حل میں ناکامی اور عوام کی اپنے ہی حکمرانوں سے بیزاری کا اظہار بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ کیا اسی کو جمہوریت کہا جائے اس طرح کی جمہوریت مستحکم ہو یا کمزور اس سے عوام کو کوئی سروکار نہیں۔ ہمارے تئیں جمہوریت کے عدم استحکام کی جتنی ذمہ داری جن غیر کرداروں پر عائد کی جاتی ہے اس سے بڑھ کر خود سیاستدان جمہوریت کے قطع کے ذمہ دار ہیں جس جمہوریت میں عوام کے مسائل حل نہ ہو رہے ہوں اور حکمران عوام کے مسائل سمجھنے اور ان کو حل کرنے کو اپنی ذمہ داری ہی نہ سمجھتے ہوں اس جمہوریت کی عوام میں بھی حمایت نہ ملنا فطری امر ہوگا۔ اس ضمن میں ہمارے عوام بھی اس لئے برابر کے ذمہ دار ہیں جب بھی ان کو ووٹ کی صورت میں فیصلے کے مواقع ملتے ہیں تو عوام کا فیصلہ انہی عناصر کے حق میں بار بار آتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتیں عوام کی امنگوں پر پورا اترنے میں بار بار ناکامی کاشکار ہوئی ہیں تو پھر عوام بار بار انہی عناصر کو کامیابی کیوں دلاتے ہیں اور اگر ان کی کارکردگی سے عوام کو اطمینان تھا تو پھر عوام کے مسائل حل کیوں نہیں ہوئے اور وہ غیر مطمئن ہی کیوں رہتے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیاستدانوں اور فوج کو اپنا اپنا کام کرنے کا درست مشورہ دیا ہے۔ اس مشورے کو طرفین اگر پلو سے باندھ لیں اور وقت آنے پر اپنے کردار و عمل کا آئین و قانون کی روشنی میں جائزہ لے کر اس کے مطابق عمل کریں تو ایک دوسرے کے خلاف شکایات کی نوبت نہیں آئے گی۔ فوج کا کام ملکی دفاع اور سول حکومت کی اطاعت ہے لیکن سویلین حکومت کو بھی خود کو اس ذمہ داری کا اہل ثابت کرنا ہوگا۔اس بارے دو رائے نہیں کہ ہمارے ملک میں اب تک معاملات خلط ملط ہی چلے آرہے ہیں۔ اگر ہر ایک اپنے دائرہ کار میں رہے اور کسی طور بھی یہاں تک کہ بلا واسطہ اورغیر محسوس انداز میں یا پھر سہواً بھی مداخلت یا اثر انداز ہونے سے گریز کرنے کی عملی پالیسی اپنائے تبھی ملک میں جمہوریت کے استحکام اور اچھی حکمرانی کی منزل کی توقع ممکن ہوگی۔ وطن عزیز میں ہر سطح پر بدعنوانی کی گنجائش اور بد عنوانی کے بعض برملا انداز سے پیدا شدہ مسائل اور تاثرات کو ایک بڑا مسئلہ قرار دینے اور اس کے انسداد کے لئے متحدہ مساعی کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف کے واضح بیان کے بعد مارشل لاء کے خطرات کے اظہار کاباب اب بند ہونا چاہئے۔ مگر دوسری جانب اس امر کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ عوامی مینڈیٹ کا مطلب جائز حق حکمرانی ہے۔ جمہوری اقتدار عوام کی خدمت اور ملکی ترقی کا متقاضی ہوتا ہے جس پر پورا اترنے میں ناکامی اپنے ہاتھوں جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں عدم مداخلت اور اپنے اپنے دائرہ کار میں چلنے کی ضرورت پر تو زور دیا جاتا ہے مگر اس پر عملدرآمد میں ہونے والی کوتاہی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس قسم کے حالات کا سبب بننے والے جملہ فریقوں کو ملک کے وسیع ترمفاد میں کردار و عمل کااز سر نو جائزہ لینے کااحساس ہوگا اور ملک میں ایسی حقیقی جمہوریت پروان چڑھے گی اور ایسے حکمران آئیں گے اور اداروں کاکردار ایسا ہوگا کہ ملک حقیقی جمہوری ریاست کہلانے کا حقدار بن جائے گا اور ترقی و خوشحالی کی منزل کی جانب گامزن ہو پائے گا۔

متعلقہ خبریں