Daily Mashriq


بیت المقدس بارے اقوام متحدہ کی قرار داد پر عملدرآمد کیا جائے

بیت المقدس بارے اقوام متحدہ کی قرار داد پر عملدرآمد کیا جائے

قومی اسمبلی میں بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو امت مسلمہ پر امریکی حملہ قرار دینا وطن عزیز کے عوام کے جذبات کی ترجمانی ضرور ہے لیکن یہ کافی نہیں کیونکہ امت مسلمہ نے جتنا اپنے آپ کو ضعف اور کمزوری کا حامل بنایا ہوا ہے صورتحال اس قدر بھی نازک نہیں۔ یہ ہماری شیرازہ بندی نہ ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل القدس الشریف پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی کشیدگی و مخاصمت نہ ہوتی تو امریکہ و اسرائیل اس قدر بھی جری کردار کے حامل نہ ہوتے۔ امت مسلمہ کے وسائل و قوت اتنے بھی کمزور نہیں کہ اگر ان کو مجتمع کیا جائے تو امت مسلمہ کے خلاف عالمی دبائو کا مقابلہ نہ کیا جاسکے۔ آج اگر پوری امت مسلمہ اس بات کا متفقہ اعلان کرے کہ وہ امریکہ سے کسی قسم کے سفارتی و تجارتی روابط نہیں رکھے گی۔ امریکی مصنوعات کا دنیا بھر میں بائیکاٹ کیاجائے گا نہ امریکہ میں مسلم سرمایہ کاری ہوگی اور نہ ہی امریکی کمپنیوں کو مسلمان ممالک میں کاروبار کرنے دیا جائے گا۔ اگر اتنی جرأت و ہمت امت مسلمہ میں ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ بیت المقدس کو اگر اہل کتاب اور اہل قرآن کے لئے یکساں مقدس شہر تسلیم کیا جائے تو بھی اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر کسی ایک گروہ کا تسلط نہ ہو۔ اقوام متحدہ کی اس حوالے سے قرار داد کی موجودگی کے باوجود خبطی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کی امت مسلمہ کے پاس قوت مجتمعہ کی طرح مخالفت و مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جسے اختیار کرنے کے علاوہ اب کوئی چارہ کار باقی دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی فیصلے کے بعد بیت المقدس پر اسرائیلی تسلط کے خلاف عالم اسلام میں جذبات کا منجدھار فطری امر ہوگا جس کے نتیجے میں انتہا پسندی کے واقعات بھی غیر متوقع نہیں ۔ ٹرمپ کے فیصلے نے خود امریکہ اور امریکی عوام کو بھی خطرات میں ڈال دیا ہے۔ شدت پسندی و انتہا پسندی کے اس فیصلے کا ردعمل بھی اسی طرح سامنے آسکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو عالمی امن پر امریکی وار کا نوٹس لینا چاہئے۔ اقوام متحدہ کی قرار داد کو بے وقعت ہونے سے بچانا ہی مسئلے کاموزوں حل ہوگا۔

ائیر چیف کا حوصلہ افزاء اعلان

پاکستان ائیر فورس کے سربراہ ائیر مارشل سہیل امان کی جانب سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرون طیارے مار گرائے جانے کاواضح اعلان پوری قوم کے دلوں کی آواز اور ان کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ امریکی ڈرون طیاروں کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملہ ہماری سرحدوں کی بے حرمتی ہی نہیں ہماری ملکی سا لمیت و استحکام پر بھی حملہ تھا جس کے خلاف عوام اور بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیاجاتا رہا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس ضمن میں حکومت اور امریکہ کے درمیان کوئی غیر اعلانیہ اور خاموش معاہدہ تھا۔ ائیر چیف کے تازہ بیان سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اب پہلے والی صورتحال نہیں رہی اور پاک ائیر فورس ان طیاروں کو گرانے کی پوری صلاحیت بھی رکھتی ہے اور اس کے لئے تیار بھی ہے۔ پاکستانی سرحدوں کے اندر کسی صورت بھی امریکی حملے کا کوئی جواز نہیں البتہ اگر سرحدی علاقوں میں کسی مطلوب کارروائی عناصر کی نشاندہی ہو تو امریکی اطلاع پر پاکستانی سیکورٹی فورسز ان کے خلاف خود ہی کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ بامر مجبوری مشترکہ کارروائی کی گنجائش ہے۔ امریکہ کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ آرمی چیف کے واضح اعلان کا احترام کرے اور آئندہ ڈرون حملے سے گریز کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر ائیر چیف کے واضح اعلان پر عملدرآمد میں کسی مصلحت کا شکار نہ ہوا جائے اور خلاف ورزی کے مرتکب ڈرون مار گرائے جائیں۔

تہذیب و ثقافت کے تحفظ کا احسن اقدام

خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے کلچرل ہیری ٹیج کے نام سے جو منصوبہ تیار کیاگیا ہے پشاور کی مٹتی اور باقی ماندہ ثقافت کو محفوظ کرنے کی یہ ایک اچھی کوشش ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک کا اس منصوبے کے تحت ہونے والے اقدامات کا ذاتی طور پر ایک سے زائد مرتبہ دورہ اس امر پر دال ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو پشاور کی قدیم تہذیب و ثقافت کے تحفظ میں خصوصی دلچسپی ہے۔ پشاور کے تاریخی مقامات کی سیاحت سے قدیم دور کی طرز حکمرانی اور بود و باش سے بڑی حد تک واقفیت فطری امر ہے۔ ہمارے تئیں صوبائی دارالحکومت پشاور میں ثقافتی و تاریخی آثار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر میں قدیم تاریخ و ثقافت پر مبنی مقامات اور آثار کے تحفظ کے لئے بھی اسی طرح دلچسپی کے اظہار کی ضرورت ہے تاکہ صوبے میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو پوری طرح خطے کی سیاحت کے لئے متوجہ کیاجاسکے۔

متعلقہ خبریں