Daily Mashriq


پشاور کے ثقافتی رنگوں کو محفوظ کرنے کی اچھی کوشش

پشاور کے ثقافتی رنگوں کو محفوظ کرنے کی اچھی کوشش

شہر پشاور، ،جو شاہد ہے گزشتہ صدیوں میں گزرے کئی حکمرانوں کے طویل ادوار کا اور ان کے عروج وزوال کا۔ہمارے اس شہر گل کا شمار دنیا کے ان چند تاریخی زندہ شہروں میں ہوتا ہے جس کا ماضی ہزاروں سال پر مبنی ہے اور جہاں بھاگتی دوڑتی زندگی کی نبض کبھی تھمی نہیں بلکہ ہر دور حکمرانی میں یہ شہر قائم و آباد رہا اور ان ادوار کی تاریخ و یادگاریں سمیٹتارہا۔وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے مابین آمدورفت کے لیے گزرگاہ ہونے کے باعث یہ شہر ہردور میں اہمیت کا حامل رہا اور اسی لیے ہر جنگجو بادشاہ اور حکمران اس شہر کو فتح کرنا بھی ضروری سمجھتا تھا۔پشاور کی تاریخ ماضی کے کئی دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے اسی لیے کسی کی توجہ سمیٹنا اس شہر کے لیے کوئی مشکل بات نہیں ۔

گزرتے وقت کے ساتھ ماضی کے یہ رنگ ماند تو ضرور ہوئے لیکن گردش ایام کی دھول نے اسے مکمل طور پر معدوم نہیں کیا ۔شہر پشاور کی گلیوں کوچے بازار سے گزرتے ہوئے کوئی نہ کوئی بیتے وقت کا شاہکار زد نگاہ میں آجاتا ہے۔ نوے کی دہائی تک ہی اس شہر میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد بنا کسی خوف وخطر اور پریشانی کے ہوا کرتی تھی۔اس شہر میں سیاحوں کی دلچسپی کے بہت سے پہلو ہیں جن کو دیکھنے کی چاہ میں وہ بلا خوف و خطر آتے لیکن پھر جب خطے میں امن وامان کی صورتحال بگڑی ، تو ہر چیز کی طرح سیاحت کا شعبہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔گزشتہ چند برسوں میں چونکہ دہشت گردی کے ناسور پر بہت حد تک قابو پالیا گیا ہے اس لیے سیاحت کے پھر سے بھرپور انداز میں جینے کی امنگ بھی پیدا ہوگئی ہے۔ بیتے ان چند برسوں میں شہر پشاور میں کئی تاریخی مقامات عمارات گردش زمانہ کی بھینٹ بھی چڑھ چکے ہیں۔کہیں پر جدید دور کی تعمیرکردہ بلندوبالا عمارات نے ماضی کے دلکش فن تعمیر کو نگل لیا لیکن اب بھی کچھ چیدہ چیدہ نشانیاں عظمت رفتہ کی حکایتیں سنانے کے لیے موجود ہیں جن کو وقت کی دھول کی نذر ہونے سے بچانے کی ضرورت ناگزیر ہے۔پشاور کی پہچان جہاں دیگر عوامل ہیں وہاں یہ تاریخی آثار،عہد رفتہ کی یادگاریں بھی اسے جداگانہ تشخص دیتی ہیں ،،پشاور کی قدیم تاریخی شناخت کو اجاگر کرتے اندرون شہر کے بعض مقامات کے لیے خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ نے کلچرل ہیری ٹیج ٹریل کے نام سے منصوبہ بندی کی ہے جس کو عملی صورت دینے کے لیے کام بھی چل پڑا ہے۔یہ منصوبہ پشاور کے قدیم ترین گور گٹھڑی کے مقام سے سے ہوتا ہوا گھنٹہ گھر تک کے علاقے پر مشتمل ہے۔ گور گٹھڑی کا مقام صدیوں پرانی تاریخ کے کئی نقوش آج بھی خود میں سموئے ہوئے موجود ہے،اگر پشاور پر گزرے قدیم حکمرانوں کے طرز تمدن سے واقفیت لینی ہو تو اس ایک مقام پر ہی ہمیں ان مختلف ادوار کی پرچھائیں نظر آجاتی ہیں۔وسیع رقبے پر پھیلی یہ عمارت آنے والے کو ماضی کی بھول بھلیوں میں لے جانے پر مجبور کردیتی ہے اور ایک ہی جگہ تاریخ کے کئی اوراق پلٹتے پلٹتے ہم پشاور کاقدیم ماضی جان جاتے ہیں۔گو رگٹھڑی کے مقام کو اس شہر کے کئی فاتحین اور حکمرانوں کے مسکن کا اعزاز ملا ہے۔ قوی ہیکل دروازوں اور بلند چوڑی دیواروں والے اس مقام سے جڑی کئی داستانیں مئورخین نے اپنی حکایات میں بھی درج کی ہیں۔قدیم ترین تہذیب گندھارا کے آثار اس مقام کی طویل العمری کو بیان کرتی ہے،کئی صدیوں پہلے کشان عہد حکمرانی میں یہ جگہ بدھ مت کی عبادت گاہ تھی اور بدھ پیروکاروں کے لیے مذہبی عقیدت کا باعث تھی ۔ گور گٹھڑی کے قدیم ہونے کا ثبوت مغل حکمران بابر کی سوانح حیات تزک بابری میں بھی ملتا ہے جس نے پشاور میں اپنے قیام کے دوران اس مقام کو شرف میزبانی بخشا ،بادشاہ شاہجہان کی بیٹی شہزادی نورجہاں کی نظروں کو یہ جگہ ایسی بھائی کہ یہاں اس نے سرائے تعمیر کروائی جسے سرائے جہان آباد کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ سکھ راج میں بھی یہ جگہ خصوصی اہمیت کی حامل رہی اور اس دور کے اطالوی گورنر ابو طبیلہ کی رہائش گاہ کے طور پر زیر استعمال رہی ۔اس کے علاوہ بھی ماضی سے جڑی کئی یادیں یہاں بکھری پڑی ہیں۔مغلوں کے بعد انگریز سامراج کو بھلا یہ عالیشان جگہ کیوں نہ بھاتی اس دور میں یہاں ہوئی تبدیلیوں کی نشانیاں بھی اس مقام پر موجود ہیں انگریز دور کی فائر بریگیڈ گاڑیاں آج بھی بیتے وقتوں کا حال بتاتی نظر آتی ہیں۔یہاں صوبے کی تمام تر ثقافت سے روشناس ہونے کا بھی موقع ملتا ہے کیونکہ محکمہ آثا ر قدیمہ نے صوبے کے قدیم فن و ہنر اور ثقافت کے حوالے سے میوزیم بنایا ہوا ہے ۔گور گٹھڑی سے گھنٹہ گھر تک کلچرل ہیری ٹیج ٹریل میں شہر کی ٹریفک کے دھویں دھول اور بلندو بالا پلازوں اور تعمیرات میں کھوتی ہوئی خوبصورتی لوٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ساڑھے 31کروڑ روپے کی لاگت سے گورگٹھڑی تا گھنٹہ گھر450میٹر کے ایریا کو پشاور کی تاریخ کا ترجمان بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ساڑھے چار سو میٹر کے اس علاقے میں 75عمارات کا حلیہ بھی قدیم فن تعمیر کے مطابق ڈھالا جائے گا جبکہ گلیوں کی پختگی کے ساتھ ساتھ نکاسی آب اور بجلی کی تاروں اور پولز کے لیے زیر زمین انتظام کیا جائے گا۔اپنی تاریخ و ثقافت کو معدوم ہونے سے بچانا اور انہیں اگلی نسلوں تک منتقل کرنا زندہ قوموں کی نشانی ہے کیونکہ تہذیب تمدن اور ثقافت ہر قوم کو دوسرے سے ممتاز بنانے میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔

متعلقہ خبریں