Daily Mashriq


پاک ا مریکہ تعلقات کی اُلجھتی گتھیاں

پاک ا مریکہ تعلقات کی اُلجھتی گتھیاں

پاک ا مریکہ تعلقات میں بہتری یا تبدیلی ہمیشہ سے عارضی رہی ہے اور کسی بھی وقت حالات کیا کروٹ لیں یہ کوئی ماہر تجزیہ کار بھی نہیں بتا سکتا۔اس بات کا صحیح معنوں میں اندازہ لگانے کے لئے پاک امریکہ تعلقات میں جاری حالیہ پیش رفتوں کا جائزہ لینا ہوگا ۔ امریکی انتظامیہ کا ایک اور اعلیٰ عہدیدار پاکستان میں اترتا ہے اور پاکستان کو سخت لہجے میں حکم صادر کرتا ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے جو سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہیں اور افغان اتحادی حکومت سمیت امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان احکامات کے جواب میں دہشت گردوں کو پناہ گاہیں دینے سمیت ہم امریکہ کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کو بے بنیاد الزامات قرار دینے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے سامنے اپنے مطالبات پیش کردیتے ہیں۔اگر پاک امریکہ تعلقات معمول پر بھی ہوں اور پاکستان امریکہ کی ’گڈبکس‘ میں شامل ہو تب بھی ہمیں امریکی ایوانوں سے پاکستان کے خلاف شکایات سننے کو ملتی رہتی ہیں۔اس وقت جب پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں تو امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس کی جانب سے پاکستان کا دورہ انتہائی معنی خیز ہے جس میں انہوں نے مطالبات کا ایک انبار پیش کیا ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے ان مطالبات کا جائزہ لینے کے بعد صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کر ے جس میں سفارتی امور کی مہارت ضروری ہے۔ امریکہ کے ایوانِ اقتدار میں موجود ٹرمپ انتظامیہ نہ تو افغانستان میں قیام ِ امن کے لئے سفارت کاری میں دلچسپی لے رہی ہے اور نہ ہی اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری سے کوئی غرض ہے۔ ٹرمپ کے سیکورٹی ایڈوائزر ز ٹرمپ کو جلد از جلد نتائج کے حصول کے لئے اُکسا رہے ہیں جس کے لئے جنوبی ایشیاء میں مختلف ممالک کے درمیان پائے جانے والے تنازعات اور تعلقات کی نزاکتوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ خطے میںاپنے ایک کمزور اتحادی پر دبائو بڑھانے اور معاشی مفادات کے لئے اس کے دشمن ملک کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی پر عمل پیرا ہے لیکن شاید ٹرمپ انتظامیہ اس حقیقت کا صحیح معنوں میں ادراک نہیں کرسکی کہ افغانستان میں امن کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں دیرپا قیام ِ امن کے لئے بھارت کی بجائے پاکستان کو زیادہ اہمیت دینی ہوگی۔ امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس کی جانب سے پاکستان کو پیش کئے جانے والے مطالبات میں پاکستان کی سرزمین سے ایسے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ سرِ فہرست ہوگا جو افغانستان میں دہشت گردی کا سبب بن رہے ہیں اور امریکہ اور افغان اتحادی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں۔اس کے علاوہ جیمز میٹس کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر کے نتائج کے بارے میں بتایا گیا ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی ایک واضح گائیڈ لائن وضع کرے اور امریکہ کو بتائے کہ مستقبل میں ان شرائط پر دونوں ممالک کے تعلقات قائم رہ سکیں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے بھی پاکستا ن کو ایک واضح پالیسی اپنانی ہوگی کیونکہ اگر واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہمارے لئے انتہائی اہم ہے تو ہمیں بھی ایک واضح لائحہ عمل اپنانا ہوگا اور ثابت قدمی سے اس پر قائم رہنا ہوگا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سول قیادت ایک ہی صفحے پر ہو اور یہ فیصلہ کرے کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کس سطح پر لے کر جانا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی خرابی کی وجہ صرف افغانستان نہیں ہے بلکہ ہمارے تعلقات کی خرابی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک امریکہ کو اپنی شرائط اور مطالبات ایک واضح اور جامع انداز میں پیش نہیں کئے۔ دوسری جانب ہم نے اندرونی طور پر بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں اپنائی جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ِ پاکستان کو امریکہ کے لئے الگ اور اپنے عوام کو دکھانے کے لئے ایک الگ پالیسی پیش کرنی پڑتی ہے۔ یہاں پر ڈورن پالیسی کی مثال لیتے ہیں جس کے تحت امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملے کرنے کی کھلی آزادی دی گئی تھی لیکن عوام کو اصل حقائق سے بے خبر رکھا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کی خود مختاری پر بہت سے سوال اٹھے اور اپنے عوام کی نظروں میں بھی حکومت کی ساکھ خراب ہوئی۔امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کبھی پارلیمنٹ کو مکمل اعتماد میں نہیں لیا گیا اور اگر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے سچ بولا بھی گیا تو وہ مکمل سچ نہیںتھا ۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک ہم اپنی دوہری پالیسیوں کا مکمل خاتمہ نہیں کردیتے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں