Daily Mashriq


مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام‘ عجیب حالات

مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام‘ عجیب حالات

یمن پر 37برس حکومت کرنے والے علی عبداللہ صالح نے اس دنیا سے جاتے جاتے کیا خوب کہا کہ ’’صحرائے عرب پر حکمرانی سانپ کے پھن سے کھیلنے کے مترادف ہے‘‘۔ خلفائے راشدین کی تین چار عشروں کی منہاج نبوت کے مطابق حکومت کے بعد بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان اسلامی تاریخ کے جو تلخ ابواب مرتب ہوئے وہ آج بھی حساس طبیعت کے حامل لوگوں کو مغموم کردیتے ہیں۔ بنی امیہ کے زوال اور صحرائے عرب پر عباسیوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد ایک عرصہ تک اگرچہ حالات پر سکون رہے لیکن عباسیوں نے بنی امیہ کو تخت و تاج سے معزول و محروم کرنے کے لئے امویوں پر جو مظالم ڈھائے اس کے اثرات ما بعد کی تاریخ کے صفحات پر صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں امت مسلمہ کا شیرازہ مرحلہ وار بکھرتا رہا۔ یہاں تک کہ سپین میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت بھی قبائلی تفاخر اور اقتدار پر براجمان رہنے کی لالچ و حرص نے منتشر کر کے رکھ دی اور پھر خدا خدا کرکے عثمانیوں نے ایک زمانے تک اسلام اور مسلمانوں کی لاج و حرمت کو سنبھالے رکھا۔ لیکن پھر جب یورپ کی سپین کے ذریعے نشاۃ ثانیہ ہوئی تو ایک شخص (لارنس آف عربیا) نے عثمانیہ سلطنت و خلافت کے خلاف عرب و عجم کے نام پر وہ کردار ادا کیا کہ اس نے نہ صرف چار سو برسوں سے تین براعظموں پر حکومت کرنے والی خلافت کے بخیے ادھیڑ دئیے بلکہ امت مسلمہ کے نقشے اور حدود اربعہ کو بھی تبدیل کرکے رکھ دیا۔

بیسویں صدی میں ان مسلمان ممالک کو امریکہ نے جس طرح دوست اور دشمن یا مخالف کے خانوں میں تقسیم کئے رکھا اس نے بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا۔ لیکن گزشتہ دو عشروں بالخصوص 9/11 کے بعد تو ایک ایسی صورت حال شروع ہوئی کہ امریکہ کو عالم اسلام کی ستاون ممالک میں منتشر و ابتر تقسیم بھی قبول نہیں۔ کیونکہ یہ ممالک کبھی کبھی بہر حال بعض معاملات کے سلسلے میں بعض مردان قلندر کے ذریعے مختصر سی مدت کے لئے صحیح اکٹھے ہو ہی جاتے ہیں جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے لاڈلے اسرائیل کو خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی بناء پر اسرائیل کے مستحکم و مستقل تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کو دائمی بنانے کے لئے ہر اس ملک کو انتشار سے دو چار کرکے کمزور سے کمزور تر کر دیا جس سے اسرائیل کو موہوم خطرہ محسوس ہوسکتا ہے۔ شام‘ عراق اور لیبیا تین ایسے عرب ممالک تھے جن سے اسرائیل کی آنکھوں میں جلن محسوس ہوتی تھی بلکہ یہ تینوں عسکری لحاظ کے علاوہ فلسطینی حریت پسندوں کی دامے درمے سخنے مدد کرتے تھے ۔ صدام‘ قذافی اور بشار سے لاکھ اختلافات سہی کیا ان کو ہٹانے کے بعد ان ملکوں کے عوام کو پہلے کی نسبت کوئی سکھ ملا؟

اب بھی عالم اسلام کے چار اہم مسلم ممالک سعودی عرب‘ مصر‘ ترکی اور پاکستان نے اگر نوشتہ دیوار صحیح طور پر نہیں پڑھا تو بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایران بھی اسلامی ملک ہے اور بہت بڑی صلاحیت کا حامل ہے لیکن اس کی جو تاریخی مجبوریاں ہیں وہ اسے وہ کردار ادا نہیں کرنے دے رہیں جو اس وقت ضرورت ہے لہٰذا ان چار ملکوں کو اتحاد کرنا پڑے گا اور دیگر اسلامی ملکوں کو او آئی سی کے بینر تلے نئے جذبہ تعمیر و اتحاد کے ساتھ جمع کرکے امت کے مسائل پر سوچنا اور عمل کرنا ہوگا۔ سعودی عرب کے اکیاسی سالہ بوڑھے بادشاہ نے اپنے بیٹے کی جانشینی کو مستحکم بنانے اور سپر پاور کو خوش کرنے کے لئے اپنے ہی محلات میں انتشار کی ایسی روایت پہلی دفعہ متعارف کرائی کہ اس عظیم اور مقدسات کے حامل ملک کی سلامتی کے لئے دعائیں ہی کی جاسکتی ہیں کیونکہ سعودی ولی عہد کی بد عنوانی اور کرپشن کے خلاف شروع کردہ اس مہم کو اہل بصیرت اقتدار و اختیار کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے خطرناک کھیل کے سوا کوئی دوسرا نام دینے کو تیار نہیں۔اگر امت مسلمہ کے ان چار ملکوں نے بالخصوص ہوش کے ناخن نہیں لئے اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان زبانی اور پراکسی طور پر جنگ جاری رہی تو اس خطے کو نفرتوں اور عدم استحکام کی صورت میں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

مشرق وسطیٰ اور پاکستان‘ ترکی اور ایران کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لئے امریکہ اور مغرب کو بلوچوں اور کردوں سے بڑی ہمدردی پیدا ہوگئی ہے۔ کردستان کے قیام کے لئے اسرائیل اور بلوچستان میں گڑ بڑ پیدا کرنے کے لئے بھارت کو تھانیداری سونپی گئی ہے۔ کردستان کی صورت میں ترکی‘ شام ‘ ایران اور بلوچستان سے پاکستان‘ ایران اور افغانستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ سعودی عرب تیل کی دولت ہاتھ لگنے کے بعد سے پہلی دفعہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے ‘ اپنے اثاثے (Assets) بیچنے اور اپنا محفوظ زر استعمال کرنے پر مجبور ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر تشویش ناک بات یہ ہے کہ نیوم (NEOM) کے نام پر اسرائیلی سرحد کے قریب ایک بہت بڑا پراجیکٹ شروع ہونے والا ہے جو ہزاروں مربع میل پر مشتمل ہوگا اور وہاں سعودی معاشرے کی قدامت پرست روایات و اقدار اور شرعی قوانین کا داخلہ ممنو ع ہوگا‘‘۔ ایسے ہی اگر امریکہ کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ شنید بد یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کئی عرب مسلم ملک اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں