Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

عباسی خلیفہ مقتدر نے ایک مرتبہ کسی جائیداد کو وقف کرنے کا ارادہ کیا لیکن وہ چاہتا تھا کہ وقف نامہ اس طرح مرتب کیاجائے کہ وقف کی شرائط تمام فقہاء کے مذہب کے مطابق درست ہوجائیں اور اس میں کوئی اختلاف کی گنجائش نہ رہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ کام صرف علامہ ابن جریر طبریؒ ہی انجام دے سکتے ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن جریرؒ نے وقف نامہ مرتب کردیا۔ اس سے خلیفہ کو ان کے مقام بلند کا اندازہ ہوا اور اس کے بعد انہیں اپنے دربار میں اونچا مرتبہ عطا کیا اور ان کی صحبت سے مستفید ہونے لگا۔ خلیفہ ان سے بار بار کہتا کہ آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے طلب کرلیا کیجئے۔ حافظ ابن جریرؒ نے یہ اصرار دیکھا تو فرمایا کہ ’’ میری صرف ایک ضرورت ہے اور وہ یہ کہ جمعہ کے دن جامع مسجد میں گدا گر بہت گھس آتے ہیں اور اس سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ امیر المومنین سے میرا صرف یہ سوال ہے کہ وہ شرطہ( پولیس) کے لوگوں کو اس بات کا حکم جاری کریں کہ وہ گدا گروں کو اندر نہ جانے دیا کریں‘‘۔ خلیفہ نے یہ حکم جاری کردیا۔ (البدایہ والنہایہ ص 146 ج11)

یحییٰ بن جعفرؒ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے مجھے اپنا ایک واقعہ سنایا۔ فرمایا کہ ایک مرتبہ بیابان میں مجھے پانی کی شدید ضرورت لاحق ہوئی۔ میرے پاس ایک اعرابی آیا۔ اس کے پاس پانی کاایک مشکیزہ تھا۔ میں نے اس سے پانی مانگا‘ اس نے انکار کیا اور کہا کہ پانچ درہم میں دوں گا۔ میں نے پانچ درہم دے کر وہ مشکیزہ لے لیا۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ ’’ ستو کی طرف کچھ رغبت ہے؟‘‘ اس نے کہا کہ’’ لائو‘‘ میں نے اس کو ستو دے دیا جو روغن زیتون سے چرب کیاگیا تھا۔ وہ خوب پیٹ بھر کر کھا گیا‘ اب اس کو پیاس لگی تو اس نے کہا کہ ایک پیالہ پانی دے دیجئے۔ میں نے کہا کہ پانچ درہم میں ملے گا‘ اس سے کم میں نہیں اور اس طرح اس کو وہ پانچ درہم دینے پڑے۔ (لطائف علمیہ‘ ترجمہ اردو کتاب الاذکیاء ابن جوزی ص110)

ایک مرتبہ ہارون الرشید کو ایک بے دین‘ ملحد‘ زندیق شخص کی موجودگی کے متعلق معلوم ہوا۔ہارون اس قسم کے فتنہ پرور لوگوں سے خوب واقف تھا۔ اس نے حکم دیا کہ اس زندیق کا سر قلم کردیا جائے۔زندیق کو معلوم ہوا تو اس نے ہارون سے کہا: چلئے‘ میں تو قتل ہو جائوں گا مگر آپ ان ایک ہزار جھوٹی احادیث کا کیا کریں گے جو میں نے خود بنا کر احادیث نبویہ میں شامل کردی ہیں۔ ان میں ایک لفظ بھی رسول اکرمؐ کا بتایا ہوا نہیں ہے۔ ہارون نے برجستہ کہا: او خدا کے دشمن! کوئی فکر کی بات نہیں! ہمارے پاس ابو اسحاق فزاری اور ابن المبارک جیسے لوگ موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مکمل چھان پھٹک کرکے ایک ایک حدیث سے جعلی اور من گھڑت الفاظ نکال باہر کریں گے۔ حق تعالیٰ اس نیک دل خلیفہ ہارون الرشید کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہوں نے حدیث کی عزت اور عظمت کا بہت خیال رکھا اور علمائے حدیث کی بڑی قدر کی۔

(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں