Daily Mashriq

وزیر اعظم کا انٹرویو پالیسی بیان نہیں

وزیر اعظم کا انٹرویو پالیسی بیان نہیں

وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی ایسے ملک کے ساتھ تعلق قائم رکھنا نہیں چاہیں گے جو پاکستان کو کرائے کے قاتل کے طور پر استعمال کرے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم خود کو کبھی بھی دوبارہ اس صورتحال میں نہیں ڈالیں گے۔ اس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور ہمارے قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی، بلکہ ہمارا وقار بھی مجروح ہوا۔ ہم امریکہ کے ساتھ حقیقی تعلقات چاہتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بارے جو انٹرویو دیا یا پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے جو توہین آمیز ٹویٹ کی یہ ان ممالک کے حکمرانوں اور سیاسی شخصیات کے خیالات تو ہوسکتے ہیں لیکن اصل بات تب ہوگی جب ان خیالات کے تناظر میں خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے اور عملی طور پر ایسا ممکن بنایا جائے۔ صدر ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن جب بھی ٹرمپ پاکستان کے بارے میں بلا سوچے سمجھے کوئی بیان دیتے ہیں اس سے اگلے ہی روز پینٹا گان پاکستان کی فوج کی خدمات کے اعتراف اور پاکستان سے تعلقات کی اہمیت کے حوالے سے بیان جاری کرکے وہ سارا تاثر زائل کردیتا ہے جو صدر ٹرمپ کے اظہار خیال سے پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے برعکس پاکستان میں ایسا اس لئے ممکن نہیں کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی اور معاملات پر مشاورت کے بعد ہی اظہار خیال کی روایت ہے جس میں اس امر کی رعایت رکھی جاتی ہے کہ حکومت اور عسکری اداروں کے ایک صفحے پر ہونے کا تاثر رہے یا نازک معاملات سیاسی حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان بعد اور بعض اوقات درون خانہ کشیدگی کی صورتحال تک کا باعث رہے ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں دنیا کے تمام ممالک میں سیاسی و فوجی قیادت کے درمیان اہم معاملات پر مشاورت ہوتی ہے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ جتنے بھی صدور گزرے ہیں ان کا لب و لہجہ سفارتی آداب اور سفارتی زبان و بیان سے متصادم نہیں رہا۔ پاکستانی قیادت نے خواہ وہ فوجی آمروں کا دور ہو یا پھر سیاسی حکومتوں کا کبھی بھی اس قسم کا اظہار خیال نہیں کیا جس میں کھل کر اور عوامی سطح کی ترجمانی کی گئی ہو۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو وزیر اعظم کا تازہ بیان صدر ٹرمپ کے نہلے پہ دہلہ مارنے ہی کے مترادف ہے۔ جہاں تک پاک امریکہ تعلقات کی بات ہے ہم سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کے بیانات سے قطع نظر سفارتی طور پر ان کے تعلقات اس نہج تک نہیں جائیں گے جس کا تاثر ٹرمپ اور عمران خان دے رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو وزیر اعظم نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس کا عندیہ پاکستان نے پہلی بار دیا ہے۔ امریکہ کے ڈو مور کے جواب میں نو مور کا جو نعرہ نما جواب ہماری وزارت خارجہ اور پاک فوج کی قیادت دونوں دیتے آئے ہیں اس کا ایک غیر سفارتی زبان میں اظہار ہی سامنے آیا ہے جو عوام کے لئے عام فہم ہونے کے باعث میڈیا کی توجہ کا بھی باعث بن گیا ہے۔ امریکہ کو جو دست تعاون مطلوب رہا ہے اسے ہم نے ہر دور حکومت میں گرم جوشی سے آگے بڑھایا ہے اور مصافحہ و معانقہ سے گریز نہیں کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ابتدائی طور پر اور بظاہر دبائو کے عالم میں ڈھیر ہونے کا ثبوت ضرور دیا لیکن وقت اور حالات اس فیصلے کی کوکھ سے افغانستان میں امریکہ کی شکست ثابت کر رہے ہیں۔ کیا کھویا یا کیا پایا اس سے قطع نظر اس وقت افغانستان میں امریکہ پاکستان کے تعاون اور مدد کا محتاج ہے اور پاکستان کو اس امر کا احساس ہے کہ افغانستان میں ہاتھی کی طرح چنگاڑتا ہوا داخل ہونے والے ملک کی حالت اب اس مویشی کے دم کی طرح ہے جو کسی طاقتور گڈریے کی گرفت میں آگئی ہو۔ اس کے باوجود کہ وزیر اعظم کے تئیں پاکستان امریکہ سے اب مزید اعانت کا متمنی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اب بھی امریکہ کو افغانستان میں موجودگی اور حرکت پذیری کے لئے زمینی اور فضائی دونوں قسم کی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ جہاں تک اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکہ کا پاکستان کو لا علم رکھنے کا وزیر اعظم کا استدلال ہے اس بارے میں حال ہی میں خود امریکی عہدیدار اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اسامہ کے لئے آپریشن سے پاکستانی حکام بالکل بھی بے خبر نہیں تھے۔ جن امریکی طیاروں کے ریڈار میں نہ آنے کی کہانی گھڑی گئی اس کہانی کے کئی کمزور پہلو ہیں۔ بہر حال نگرانی کا عمل صرف ریڈار تک محدود نہیں ہوتا بلکہ انسانی ریڈار بھی جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوتے ہیں جن کو کوئی ٹیکنالوجی مات نہیں دے سکتی۔ بہر حال امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد آپریشن میں کیسے کامیاب ہوئے یہ ایک حساس معاملہ ہے جس کا اس بحث سے براہ راست تعلق نہیں البتہ اہل وطن کی تشفی قلب کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ ہمارے دفاع میں اس قدر بھی خدانخواستہ خامیاں نہیں کہ کوئی طیارہ اتنی آسانی سے ہماری سرحدوں کے اندر آئے' طیارہ تو کیا طیور بھی نگرانی کے عمل سے گزرے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔ حکمرانوں کی اس قسم کی مصلحت آمیزی ان کی مجبوری ضرور ہوگی لیکن قوم کو اس بارے مشوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے تئیں ٹرمپ اور عمران خان کے بیانات کی روشنی میں خارجہ پالیسی کے خدوخال تلاش کرنے میں تعجیل کا مظاہرہ نہیں کیاجانا چاہئے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھائو' مد و جزر اور وقت و حالات کے مطابق تبدیلی اور طوطا چشمی جیسے معاملات نئے نہیں، بنا بریں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کسی بڑی اور واضح تبدیلی کا رونما ہونا اتفاق کے علاوہ کچھ اور ہونا ممکن نہیں۔ پاکستان اس ضمن میں کسی حد تک سنجیدگی کے ساتھ پالیسی میں تبدیلی لانے کی سعی کرتا ہے اور امریکہ کا رد عمل کیا ہوتا ہے اس کی حقیقت کھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

متعلقہ خبریں