Daily Mashriq

ناقابل یقین تاخیر

ناقابل یقین تاخیر

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میںآٹھ سو بستروں پر مشتمل اضافی وارڈز کی تعمیر کا منصوبہ11سال بعد بھی مکمل نہ ہونا کوئی الف لیلیٰ کی کہانی نہیں حقیقت ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ محکمہ صحت نے منصوبے کو اے ڈی پی سے بھی نکال دیا ہے ہمارے نمائندے کے مطابق سولہ بستروں پر مشتمل ایل آر ایچ میں ایڈیشنل وارڈز کھولنے کی وجہ سے بستروں کی تعداد24سو ہوجائیگی اور آپریشن تھیٹرز کی تعداد16سے بڑھ کر48ہوجائیگی جس سے ہسپتال کے پرانے نظام پر بوجھ کم ہوگا مگر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاخیر کے باعث یہ عوامی منصوبہ مکمل نہیں ہورہا۔یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال میں توسیع اور مریضوں کی گنجائش پیدا کرنے کے منصوبے میں تاخیر کس بناء پر ہورہی ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے ۔ تدریسی ہسپتالوں کی خود مختاری کے بعد اس امر کو بھی سمجھنا مشکل ہوگیا ہے کہ محکمہ صحت ان ہسپتالوں کے معاملات میں کس حد تک مداخلت کرسکتی ہے۔ ان ہسپتالوں کا نظام اس طرح سے چوںچوں کا مربہ بن گیا ہے کہ عوام کے مسائل ومشکلات میں اضافہ کے باوجود ان کو حل کرنے کی سبیل دکھائی نہیں دیتی ۔بہر حال انتظامی معاملات سے قطع نظر یہ حکومت ہی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تعمیراتی کاموں کی تکمیل کرائے اس کیلئے فنڈز اور وسائل فراہم کرے اور منصوبے کی تکمیل کرکے عوام کو علاج کی سہولتوں میں اضافہ کرنے کی ذمہ داری نبھائے۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے گا اور اضافی وارڈوں کی تکمیل میں مزید وقت کا ضیاع نہیں ہوگا۔توقع کی جانی چاہیئے کہ اس ضمن میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گااور جلد ہی عملی اقدامات دیکھنے کو ملیں گے۔

متعلقہ خبریں