Daily Mashriq

یونین باز اساتذہ کو لگام دینے کی ضرورت

یونین باز اساتذہ کو لگام دینے کی ضرورت

ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی جانب سے بچوں کی تعلیم وتربیت پر توجہ دینے کے بجائے دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہونا تعلیمی انحطاط کی وہ وجہ ہے جو معلوم ہونے کے باوجود ہنوزلاینحل ہے۔ سرکاری سکولوں کا معیار روز بروز گررہا ہے محکمے میں22سے زائد رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ ٹیچرز اور دوسرے ملازمین کی یونینز کام کررہی ہیں جن کے عہدیدار وںنے سکولوں میں بچوں کو پڑھانے کی ڈیوٹی چھوڑ کر ڈائریکٹوریٹ اور سیکرٹریٹ میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ حکومت کے معاملات میں مسلسل مداخلت کے علاوہ سکولوں کا عملہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ہمارے نمائندے کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں صرف تعلیمی ملازمین کے مسائل حل کئے گئے جبکہ نئے سکولوں کے قیام اور تعلیمی شرح میں بہتری کیلئے پانچ فیصد کام بھی نہیں ہوا ہے۔جس قسم کی صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے اس قسم کی صورتحال صرف موجودہ دور حکومت میں نہیں بلکہ تقریباً ہر ادوار میں رہی ہے اساتذہ معلم کم اور سیاستدان وٹریڈ یونینسٹ زیادہ ہوتے ہیں محکمہ تعلیم کے مختلف قسم کے ملازمین کی اپنی اپنی انجمنیں ہیں جن میں مطالبات منوانے کی دوڑلگی ہوتی ہے سرکاری سکولوں کا نظام گروپ بندی والے ان اساتذہ کے رحم وکرم پر ہوتا ہے حکومت بھی ان گروہوں کی ایما پر ٹرانسفر پوسٹنگ کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اساتذہ کی انجمن سازی اور مطالبات کیلئے دبائو ڈالنا اپنے فرائض منصبی کی دلجمعی کے ساتھ ادائیگی کے ساتھ ہو تو اس کی گنجائش ہونی چاہیئے علاوہ ازیں کے پریشرگروپس اور ہر وقت تبادلے اور تقرریوں میں ملوث اساتذہ بلا امتیاز دور دراز کے سکولوں میں تبادلہ کرکے ان کو وہاں ڈیوٹی کا پابند بنا دینے سے تطہیر اور دبائوکم کرنے کا آغاز ہو نا چاہیئے جو محکمہ اساتذہ کے دبائو کے سامنے جھک جائے وہ ان اساتذہ کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں منتقل کرنے کی پالیسی پر عملدر آمد کیسے کر پائے گا۔

متعلقہ خبریں