Daily Mashriq

کرپشن روکنے کیلئے شفافیت

کرپشن روکنے کیلئے شفافیت

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابات میں شفافیت کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ کے فروغ پر زور دیا ہے۔ وہ ووٹرز کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی ذاتی زندگی سے ایک حیران کن انکشاف کیا اور کہا کہ جب ستر کی دہائی میں وہ ڈینٹسٹ بنے تو انہیں ٹیلی فون کنکشن حاصل کرنے کے لیے 50ہزار روپے رشوت دینا پڑی۔ ستر کی دہائی میں ان کی عمر بیس سے تیس سال کے درمیان ہو گی۔ اس عمر میں اور پچاس سال پہلے کے ماحول میں اعتراف جرم کو قابلِ مواخذہ سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں 'اس بحث سے صرف نظر کرتے ہوئے البتہ ایک بات انہیں ملحوظ رکھنی چاہیے تھی کہ عذر گناہ توبد تر از گناہ ہوتا ہی ہے تاہم انکشاف گناہ بھی کوئی اچھی بات نہیں ہوتی۔ جس بات کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کر دی ہو اس کا اظہار بھی اچھی بات نہیں ہے۔ کہ گناہ کا ذکر بھی گناہ کو فروغ دینے کی طرف جاتا ہے اور پھر ہمارا دین تو رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو گنہگار قرار دیتا ہے۔ لیکن یہ تو کم و بیش پچاس سال پہلے کی بات ہے' امید کی جانی چاہیے کہ اب انہیں رشوت دہی سے توبہ کیے ہوئے بھی عرصہ گزر گیا ہو گا جس کا اندازہ ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن صدر مملکت سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا آج وہ مطمئن ہیںکہ اپنا کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوںکو کسی کو رشوت دینے کی مجبوری لاحق نہیں ہوتی جیسے انہیں پیش آئی تھی؟انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ کو فروغ دینے کا جو مشورہ دیا ہے اس میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ بے قاعدگیوں سے پاک انتخابات کو فروغ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ سے ریکارڈ درست رہے گا اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ شفافیت اور درست ریکارڈ کو یقینی بنانا ہر قسم کی کرپشن کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ کرپشن کو روکنے کے لیے ایک اور بات جس کی طرف توجہ کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے وہ اختیارات یا عہدے کا کسی ایک شخص کے پاس مرکوز ہونا ہے۔ اگر اختیارات کی مرکزیت ختم کر دی جائے' اگر ایک عہدیدار کی بجائے کئی عہدیداروں کی منظوری ضروری ہو تو شاید شرم کے مارے میں ہی رشوت کے مطالبے میں کمی آ جائے گی۔ دوسرے اہل کاروں کی ترقی اور ملازمت کو اگر ان کی کارکردگی سے منسلک کر دیا جائے تو کارکردگی بہتر اور شفاف ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ریکارڈ کا محفوظ رکھا جانا ضروری ہو گا۔ انہی کالموں میں کئی بار یہ کہا جا چکا ہے کہ جس پولیس اہل کار کی ایف آئی آر عدالت میں غلط ثابت ہو جائے اسے قابلِ مواخذہ ہونا چاہیے۔ جس سرکاری وکیل کی پیروی میں سقم نظر آئے اس کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ جس منصف کا فیصلہ بڑی عدالت میں غلط ثابت ہو جائے اس کی بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔ جس گواہ کی شہادت جھوٹی ثابت ہو جائے اس پر بھی مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔ ان سب پیش بندیوں کے لیے ریکارڈ کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ایسا خود کار نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس میں یہ ریکارڈ محفوظ کیا جا سکے۔ایسے محکمے جہاں پبلک ڈیلنگ ہوتی ہو وہاں گفتگو کے ریکارڈ کرنے کا بندوبست یا رواج ہو جائے تو بہت لوگ محتاط ہو جائیں گے ۔ بڑے معاملات فائلوں یا میٹنگوں میں طے پاتے ہیں۔ ہر معاملے کی فائل ہوتی ہے اور اس پر ماتحت افسر اور فیصلہ ساز افسر اپنی رائے درج کرتے ہیں جس سے کسی بھی وقت یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ معاملہ کن مراحل سے گزرا اور اس معاملہ کے کن پہلوؤں پر غور کیا گیا اور کن کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس سے بچنے کے لیے ایک گنجائش فوری فیصلے کی ضرورت کے بہانے رکھ لی جاتی ہے جس میں افسر فائل پر لکھ دیتا ہے کہ گفتگو کیجئے (پلیز سپیک) اور گفتگو میں فیصلہ کے بعد فائل پر فیصلہ لکھ دیاجاتا ہے۔ اس کے لیے قواعد میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ دورانِ گفتگو معاملے کے کن پہلوؤں پر کیا کیا دلائل پیش کیے گئے اور کون سی رائے کو تمام شرکائے گفتگو نے اہمیت دی۔ قاعدہ یہ ہے کہ گفتگو کو ریکارڈ کرکے اس پر شرکاء کے دستخط لیے جاتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی کو اختلاف ہو تو وہ قاعدے کے مطابق ا س کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن اس قاعدے پر عمل نہیں کیا جاتا۔ اور یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ میٹنگ میں یہ طے پایا۔ اسی طرح ایک یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ ''معاملے کی فوری نوعیت کے پیشِ نظر'' زبانی احکامات صادر کر دیے جاتے ہیں۔ جن کی تعمیل ماتحت اہل کاروں پر فرض سمجھی جاتی ہے۔ یہ ضروری ہونا چاہیے کہ زبانی احکامات کا طریقہ ختم کیا جائے اور تمام اہلکاروں پر لازم کر دیا جائے کہ وہ زبانی احکامات کی تعمیل سے انکار کر دیں یا زبانی ہدایت کی تعمیل کے فوراً بعد ہدایت دینے والے افسر سے اس کی تحریری توثیق حاصل کریں اور احکامات دینے والے افسروں پر یہ توثیق لازمی قرار دی جائے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ سرکاری ملازمت کے قواعد اور طریق کار پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے جس میں یہ طے کیا جانا چاہیے کہ سرکاری اہل کاروں کے مقدمات محکمانہ انکوائریوںمیں طے کرنے کی بجائے قانون کی عدالتوں میں طے ہوں گے۔ صدر مملکت سے امید کی جانی چاہیے کہ وہ ایسی نظر ثانی اور کارکردگی کے ریکارڈ کے نظام کے لیے حکومت کو مشورہ دیںگے۔ کرپشن کا خاتمہ موجودہ حکومت کا بنیادی اعلان ہے ۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان کا نقطۂ نظر یہ دکھائی دیتا ہے کہ بڑے سکینڈلز کے بارے میں کارروائی کی جائے تو چھوٹی سطح کی کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی۔ لیکن کرپشن محض عبرت سے ختم نہیںہوتی۔ ایسا ہوتا تو سعودی عرب میںمنشیات کی سمگلنگ کب کی ناپید چکی ہوتی۔ اس کے لیے قواعد و ضوابط اور طریق کار میںمناسب تبدیلیاں کی جائیں گی تو لوگوںکو مواخذے کا خوف ہو گا اور وہ ایک طرف چھوٹی سطح کی کرپشن سے باز رہنے کی کوشش کریں گے تو دوسری طرف بڑی کرپشن میں معاونت سے انکار کا حوصلہ پائیں گے۔

متعلقہ خبریں