Daily Mashriq

عالم اسلام کو درپیش سب سے بڑا چیلنج

عالم اسلام کو درپیش سب سے بڑا چیلنج

آج عالم اسلام کو انفرادی اور اجتماعی معاملات میں جو چیلنجز( تجدیات) درپیش ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن ہر صاحب نظر کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے اور اسی کے مطابق معاشرتی' سماجی' اقتصادی اور جدید دور کے دیگر معاملات کے حوالے سے مختلف مسائل کو چیلنجز قرار دے چکے ہیں۔ اس وقت نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کو زندگی کے مختلف میدانوں میں اتنے بڑے مسائل کا سامنا ہے کہ بعض اوقات تو حالات پر نظر رکھنے والے لوگ گھبرا کر پکار اٹھتے ہیں کہ قیامت قریب ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بعض لحاظ سے دیکھا جائے تو زندگی کے بعض شعبوں میں کیا مغرب اور کیا مشرق قیامت کاسامان ہے۔مغرب اور مشرق کے بڑے تقابلی مطالعے' جائزے اور مشاہدے ہوئے' ہزار ہا لیکچرز' کتب اور رسائل وجرائد لکھے گئے لیکن پھر بھی یہ بحث پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکی کہ اس وقت مغرب کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے اور مشرق کو درپیش بڑے مسائل کیا ہیں۔گزشتہ دو صدیوں سے مغرب اپنی سائنسی ایجادات و تخلیقات کے زور پر پوری دنیا پر غالب اور چھایا ہواہے۔ چین' جاپان' کوریا اور روس وغیرہ صنعتی میدانوں میں بہت آگے جا کر بھی امریکہ' یورپ( جرمنی' فرانس اور برطانیہ وغیرہ) اور اسرائیل کا ٹیکنالوجی (بالخصوص جنگی ٹیکنالوجی) اور سیاسیات میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اسی بناء پر اس وقت امریکہ اور مغرب کا سیاسیات( جمہوری طرز حکومت) معاشیات ( سرمایہ دارانہ نظام) اور معاشرت( تہذیب و ثقافت) میں طوطی بول رہا ہے۔ چین جیسا کمیونسٹ ملک ایک ہی ملک( اپنے ملک) میں دو نظام ہائے معیشت اپنانے پر مجبور ہوچکا ہے۔ ہانگ کانگ چین کا حصہ بن کر طرز حکمرانی اور معاشی نظام کے حوالے سے ایک الگ جزیرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزی زبان کی اہمیت سے دنیا میں کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا۔ مغربی طرز بود و باش دنیا کے ہر ملک کے نوجوانوں کی مشترک ملکیت (Common property) بن چکا ہے۔

اسلامی ملکوں میں انفرادی اور بعض ملکوں میں ریاستی سطح پر امریکہ' مغرب اور اسرائیل کے ساتھ نظام سیاست' نظام فکر و فن اور بالخصوص معاشرت و معیشت کے میدانوں میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے۔ اسلامی ملکوں اور امریکہ اسرائیل' بھارت اور مغرب میں اس بات پر فکری ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ عالم اسلام میں اب بھی ایسے مفکر' سیاستدان اور علماء موجود ہیں جو اپنے سارے مسائل کاحل اسلام ہی میں مانتے ہیں اور اس بات میں کوئی شک بھی نہیں کہ مسلمان ملکوں کی ترقی' دفاع اور بقا اسلام پر پورا پورا عمل کرنے کے سوا اور کسی چیز میں ہے ہی نہیں۔لیکن مغربی طاقتوں نے کمال حکمت' دانائی اور ہوشیاری سے بالکل یہ بات صحیح طور پر سمجھی کہ دنیا پر غلبہ و استیلا برقرار رکھنے کے لئے ہر اس قوت اور قوم کو سلائے رکھنے اور غلامانہ ذہنیت میں محو رکھنے کا منظم نظام بنانا ہوگا کیونکہ محض فوجی و عسکری برتری' سیاسی نظام و استحکام اور نت نئے اسلحہ کے انبار اور طریقہ ہائے جنگ مستقل طور پر کافی نہیں ہوسکتے اور مغرب کے سیاسی و مذہبی مفکرین کو یہ بات بخوبی معلوم ہے اور سموئیل ہنٹنگٹن نے بالکل ماضی قریب میں یہ بات ان ''کلیش آف سولائزیشن'' میں سمجھا دی تھی کہ مغرب کے نظام فکر و سیاست کو علمی و فکری لحاظ سے اگر کوئی چیلنج کرسکتا ہے تو وہ مسلمانوں کے متحد و موثر وجود کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ان کے عالمی معاشی و سیاسی غلبے کے امکان کو مسلمانوں کے دینی و ملی جذبہ حریت کے سوا اور کوئی چیلنج و خطرہ درپیش نہیں ہوسکتا۔ اس خطرہ سے نمٹنے کے لئے تسلیم شدہ فارمولا اور اصول یہ ہے کہ کسی بھی قوم کو مستقل طور پر غلامانہ کیفیت میں مبتلا رکھنے کے لئے ان کے نظام تعلیم کو اپنے زیر اثر رکھنے کے جامع انتظامات کئے جائیں تاکہ ان کے ہاں سے جو تعلیم یافتہ و مہذب لوگ پیدا ہوں وہ عالمی استیلا و غلبہ رکھنے والی قوت حاکمہ سے ذہنی و فکری طور پر اس حد تک مرعوب ہو کہ بقول علامہ اقبال

حرارت ہے بلا کی بادہ تہذیب حاضر میں

بھڑک اٹھا بھبو کا بن کے مسلم کا تن خاکی

تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی پشت پر بر صغیر کے علمائ' محققین اور شعراء بالخصوص مولانا الطاف حسین حالی' اکبر الہ آبادی اور علامہ محمد اقبال جیسی شخصیات تھیں جنہوں نے محکم دلائل اور استدلال کی قوت سے کام لے کر مغربی افکار و علوم کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت کو نہایت عمدہ طریق و اسلوب کے ساتھ مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل کے ذہنوں پر واضح کیا جس سے نئی نسل کی بہت بڑی کھیپ متاثر ہوئی۔ اس کے برعکس اس زمانے میں عرب دنیا کے نوجوان انگریزی اور فرنچ فکر و تہذیب سے لٹریچر کے ذریعے اتنے متاثر ہوئے کہ اس کے اثرات آج بھی مصر' مراکش' الجزائر' لبنان وغیرہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ آج عالم عرب کا تعلیم یافتہ اور حکمران طبقہ (قیادت) سخت احساس کمتری میں مبتلا ہو چکا ہے اور اس حد تک کہ گویا اسلام کے مستقبل سے مایوس دکھائی دینے لگا ہے۔ اس میں مصر' الجزائر اور مراکش پیش پیش ہیں۔ اسی بناء پر وہاں حکومتوں اور اسلام پسند طبقات کے درمیان سخت کشمکش برپا ہے۔ اور یہی وہ چیلنج ہے جو اس وقت کم و بیش پورے عالم اسلام کو درپیش ہے اور میرے نزدیک یہ آج کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس سے صحیح طور پر نمٹنے کے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو ناقابل تلافی نقصانات کا خدشہ موجود ہے۔

متعلقہ خبریں