Daily Mashriq

کرائے کی بندوق اور توبہ کا سفر

کرائے کی بندوق اور توبہ کا سفر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف روایتی اور شکایتی انٹرویو کے جواب میں عمران خان کی ٹویٹ نے لگتا ہے شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کی بٹنوں اور میزائلوں والی دھمکی کا کام دیا کیونکہ اس کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی مزید واضح خرابی نظر نہیں آئی بلکہ حیر ت انگیر طور پر صدر ٹرمپ نے عمران خان کو ایک ذاتی خط لکھ کر پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کے علاوہ افغان مسئلے کے حل میں مدد طلب کی ہے ۔اس کے ساتھ ہی امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کو بھی سات دوسرے ملکوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دورے پر بھی بھیج دیا ۔زلمے خلیل زاد اب تک عمران خان اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مل کر چلے گئے۔ٹرمپ کے خط کے مندرجات تو پوری طرح سامنے نہیں آئے مگر حکومتی ذرائع نے جو کچھ بتایا ہے اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلاء اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے پاکستان کے تعاون کا طلب گار ہے۔کچھ عرصہ قبل امریکہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے معروف دانشور اور مصنف بروس ریڈل نے پیش گوئی کی تھی کہ امریکہ جلد ہی پاکستان کا درواز ہ کھٹکھٹاتا ہوا نظر آئے گا کیونکہ عالمی اور علاقائی سیاست میں پاکستان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ٹرمپ کا خط اور زلمے خلیل زاد کی آمد بروس ریڈل کی بیان کردہ دستک ہی ہے۔عمران خان نے صدر ٹرمپ کے الزام کے جواب میں ٹویٹ کرنے کے بعد کہا تھا کہ وہ مغربی ذہن کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔اس جملے کا مفہوم یہی تھا کہ مغرب کا مزاج یہ ہے کہ جو ان کے آگے جھکتا اور دبتا چلا جائے یہ اسے دباتے ہی چلے جاتے ہیں اور جو حرف انکار بلند اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے تو یہ اپنی مونچھ اور نظر نیچی کر لیتے ہیں۔عمران خان سے زیادہ مغرب کا مزاج آشنا اور کون ہو سکتا ہے وہ اس دنیامیں اپنا وسیع حلقہ احباب رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے خط کے بعدعمران خان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاک امریکہ تعلقات کی بھرپور انداز میں نوحہ خوانی کی ہے۔انہوںنے برسوں پر محیط اس تعلق کا پوسٹمارٹم بھی کیا اور پاکستان کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ۔عمران خان نے واضح کیا کہ پاکستان اب کسی کے لئے کرائے کے قاتل یا بندوق کا کردار ادا نہیں کر ے گا ۔ماضی میں ایک بار سردجنگ میں سوویت یونین کے خلاف اور دوسری باردہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان نے یہ کردار ادا کرکے غلطی کی تھی ۔پاکستان نے امریکہ کی خاطر مدتوں سے جو کردار ادا کیا ہے اسے عمران خان نے کرائے کے قاتل کا مناسب نام دیا ہے ۔اس کے ساتھ انہوں نے ''ہم باز آئے ایسی محبت سے''کے انداز میںاس ماضی سے منہ موڑ کر توبہ کے سفر پر چل نکلنے کی بات کی ہے۔حقیقت میں کرائے کے قاتل کا کردار شرمناک کردار ہے اور جس جس پاکستانی حکمران نے اپنے ملک کو اس کردار کا حامل بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے وہ سب قابل ِسزا ہیں ۔مسلمان دنیا کے ایک اہم ایٹمی ملک کو ایک بڑی طاقت کا دُم چھلا بنانا پاکستان کے نظریے اور اس کی خودی اور خود مختاری کے ساتھ ایک مذاق تھا ۔پاکستان نے اپنے اس کردار کی قیمت اپنا سماجی تانا بانا بکھرنے کی صورت میں چکائی ۔امریکہ کی جنگوں میں شریک ہو کر پاکستان نے کچھ پایا نہیں بلکہ اپنی عزت وقار ،امن امان سمیت بے شمار چیزیں کھو دیں ۔جس کاخمیازہ پاکستان کو اسی ہزارجانوںاور اربوں کے مالی نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔امریکہ نے نوے کی دہائی میں پاکستان کو بھارت کے ساتھ پیس پروسیس کی بے مقصد مشق کا حصہ اس اشارے کے ساتھ بنایا تھا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں ثالث کا کردار ادا کرے گا مگر بھارت سے تعلقات بہتر ہوتے ہی امریکہ یہ سب عہد وپیماں بھول کر بھارت کے ساتھ جا کھڑا ہوااور وہ مسئلہ کشمیر کو بھارت کی عینک سے دیکھنے لگا۔کشمیریوں کی جائز اور قانونی تحریک مزاحمت کو دہشت گردی قرار دلوانے میں امریکہ بھارت کا ہمنوا بن بیٹھا ۔افغانستان میں بھارت کو کھل کھیلنے کا موقع دے کر پاکستان کو محاصرے جیسی کیفیت سے دوچار کیا گیا۔اس طرح پاک امریکہ تعلقات میں بگاڑ بڑھتا چلا گیا ۔پاکستان میں امریکہ کے اس طرز عمل کے خلاف ردعمل جنم لیتا چلا گیا۔اب وہی ردعمل اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ عمران خان دوبارہ امریکہ کی جنگ نہ لڑنے کا بار بار اعلان کر رہے ہیں ۔امریکہ اس وقت بھیگی بلی اس لئے بن رہا ہے کہ سترہ برس کی مارا ماری کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیںاور یہ کہ طالبان کو طاقت سے کچلنا ممکن نہیں ۔اس تلخ حقیقت نے امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت کا احساس دلایا ہے ۔پاکستان امریکہ کی ضرورت کی خاطر اب اپنا قومی مفاد تج دینے پر تیار نہیں۔یہی تاثر واشنگٹن پوسٹ کے انٹرویو سے بھی عیاں ہے ۔پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں جو نئی لکیر کھینچی ہے اب اس کی سختی سے پابندی کی جانی چاہئے ایسا نہ ہو کہ پھر کسی مصلحت اور مجبوری کے نام پر یہ لکیر عبور کرنے کی نوبت آئے۔کرائے کے قاتل کے کردار سے واپسی کا جو سفر شروع ہوچکا ہے اسے استقامت کے ساتھ جا ری رکھاجانا چاہئے۔ پاکستانی عوام بھی مدت دراز سے مغربی ملکوں بالخصوص امریکہ کے اس رویے کا مشاہدہ اور تجربہ کر چکے ہیں۔پاکستان کے حکمرانوں نے اگر ابتدا میں ہی امریکیوں کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی حکمت عملی اختیارکی ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔

متعلقہ خبریں