Daily Mashriq

قانون کی حکمرانی یا افراد کی؟

قانون کی حکمرانی یا افراد کی؟

ستمبر 2016 میں مصطفی امپیکس کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے میں نے یہ عنوان استعمال کیا تھا کیونکہ اس فیصلہ سے مجھے صاف نظر آیا تھا کہ اب افراد کی طاقت ختم ہو چکی ہے اور ہمارا آئین اب قانون کے تحت کام کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ سے مراد وزیر اعظم اور وزراء ہیں اور فیڈرل گورنمنٹ کے فیصلے سے مراد صرف وہی فیصلے ہوتے ہیں جو کابینہ سے مشاورت کے بعد کیے گئے ہوں۔ میں نے کہا تھا کہ اس فیصلہ میں کوئی بیانیہ نہیں ہے، کوئی پاپولزم نہیں ہے، اور نہ کسی تعریف وحمایت کے حصول کی تمنا ہے۔یہ عدالت چوہدری افتخار کی عدالت کی طرح حکومت کے کان مروڑنے کی کوشش نہیں کرتی۔ عدلیہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرتی۔

اپنے دور کے 45 دن باقی رہتے ہوئے چیف جسٹس کی پرفارمنس پر بات کرنے کا وقت قریب آ رہا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے سیاست میں کردار کو آرٹیکل 184(3) کے تناظر میں دیکھا جائے گا جس میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 199 کے مطابق سپریم کورٹ اگریہ دیکھے کہ کوئی معاملہ آئین کے حصہ دوم کے چیپٹر 1 کے مطابق بنیادی حقوق کا معاملہ توجہ کا مستحق ہے تو پھر سپریم کورٹ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس پرکاروائی کر سکتی ہے۔ کیا سپریم کورٹ کی طرف سے 184(3) کے استعمال کے معاملہ میں رائے کی وجہ سے چیف جسٹس عدالتی اختیارات سے تجاوز کے مرتکب ہو ئے ہیں؟مصطفیٰ امپیکس کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا: آرٹیکل 90 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ سے کیا مراد ہے۔

183(3)کی فطری نوعیت یہ ہے کہ آئین یہ اختیار صرف چیف جسٹس کو نہیں بلکہ پورے سپریم کورٹ کو دیتا ہے۔ آئین میں اس آرٹیکل کے استعمال کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے اپنے ضوابط بھی خاموش ہیں۔ اگر وزیر اعظم یا وفاقی وزراء ایسے فیصلے نہیں کر سکتے جو صوبائی وزراء کے اختیار میں ہیں تو پھر چیف جسٹس کیسے وہ فیصلہ کر سکتا ہے جو اسے آرٹیکل 184 (3) میں دیا گیا ہے؟ یہ معاملہ آئینہ کی طرف صاف ہے اور ا س پر دماغ لڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آرٹیکل 184 (3) کے اختیارات کے معاملے میں تین مسائل ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ قانون کی حکمرانی اور فرد کی حکمرانی کا فرق ختم کر دیتا ہے۔ اگر منتخب وزیر اعظم کھلے عام طاقت کو بے دریغ استعمال نہیں کر سکتا تو یہی پابندی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بھی عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس کے انتظا می اختیارات ہر لحاظ سے صرف عدالتی اختیارات سے جڑے ہیں۔ کیا چیف جسٹس کی ذاتی ترجیحات اور جذبات عدلیہ کے ایجنڈا اور سپریم کورٹ کے اختیارات کے سکوپ کا تعین کریں گے؟۔ا سکے دو نتائج نکل سکتے ہیں۔ یہ عدلیہ کو ایک درجہ بندی والا ادارہ بنا تا ہے جس میں چیف جسٹس انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور ہائی کورٹس پر انتظامی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ یہ نظام ہمارے آئین کے مطابق نہیں ہے کیونکہ آئین صوبائی ہائی کورٹس کو انتظامی اختیارات دیتا ہے تا کہ عدلیہ کی آزادی ہر سطح پر یقینی بنائی جا سکے۔ سپریم کورٹ کے اختیارات پر خصوصی کنٹرول اور چیف جسٹس کی طرف سے دوسرے ججز کی معاونت کے بغیر یہ اختیار استعمال کرنے کا عمل دوسرے ججز کو ماتحت بنا دیتا ہے اس سے ججوں کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آزادی برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔دوسری بات یہ ہے کہ چیف جسٹس کو دیا گیا 184 (3) کے تحت اختیار ادارہ جاتی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا ہے۔ یہ قانون کی حکمرانی اور عملداری کی حیثیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ سپریم کورٹ تمام عدالتوں کا سب سے بلند درجہ ہے اور اس کا فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا ہے لیکن جہاں چیف جسٹس تین ججز کے بنچ کے ساتھ خود ہی کسی مقدمے کا فیصلہ سنا دے اور نظر ثانی کی اپیلیں بھی خارج کر دے تو اس کے نتائج تسلی بخش نہیں ہو سکتے۔افرادی اختیارغیر یقینی کی صورتحال پیدا کرتا ہے جب کہ قانون کی حکمرانی سے امید اور یقین دہانی ہوتی ہے۔ عدلیہ کے ستون سے ریاست اور اس کے شہریوں کو تحفظ ملتا ہے۔تیسری بات یہ کہ عدلیہ کا حد سے گزرنا انتظامیہ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے جیسا ہے۔ اس کا تعلق اس چیز سے نہیں ہوتا کہ کونسی پارٹی حکومت میں ہے۔ یہ تھیوری کہ ایک ادارہ اگر صحیح کام نہیں کر رہا تو دوسرا اس کی جگہ لے لے کسی صورت قابل قبول یا فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی۔ پاپولسٹ سیوئیر ماڈل بھی ناکام ہو چکا ہے۔ سوموٹو کا طریقہ کار بھی مسائل کے حل کا ضامن نہیں بن پا رہا۔ کیتھارٹک ماڈل بھی اصلاحات کی بجائے اشتعال کا باعث بنتا نظر آتا ہے۔ ایک سسٹم کے کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر حصہ اپنے کام پر فوکس کرے اور دوسرے اجزا کے کام میں مداخلت نہ کرے۔ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ خود پر اور ہم سب پر سوموٹو اختیارات کے سکوپ کو جلد از جلد واضح کر پائے گی۔

(بشکریہ دی نیوز ،ترجمہ :سیدہ فصیحہ بتول)

متعلقہ خبریں