Daily Mashriq

سنہری آوازیںاور ریڈیو پاکستان کا غلط فیصلہ

سنہری آوازیںاور ریڈیو پاکستان کا غلط فیصلہ

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد

کسی استاد شاعر کے کہے ہوئے شعر یہ مصرعہ یاد آنے کی وجہ ہے ،اردو شاعری میں اکثر اشعار ایسے ہیں جن کا ایک ایک مصرعہ ضرب الامثل کی صورت زندہ ہیں اور اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں ، درج بالا مصرعہ بھی ایسا ہی ہے ، تو میں بات کر رہا تھا اس مصرعہ کے یاد آنے کی اور وہ یہ ہے کہ بعض پیشے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی کیونکہ انگریزی زبان کے حوالے سے ان کو Professionکا نام دیا جاتا ہے ، جیسے کہ قانون کا پیشہ ہے ، ایک وکیل تا دم آخر اگر اس کی صحت اجازت دے تو وہ عدالتوں میں مقدما ت لڑتا رہتا ہے ، جج بھی انہی سینئر وکلاء میں سے چنے جاتے ہیں، اور امریکہ کے علاوہ کچھ دیگر مغربی ممالک میں تو جج خود نہ چاہے تو انہیں کوئی ریٹائر نہیں کرتا، ہاں ہمارے ہاں ججوں کیلئے65سال کی عمر تک اپنے عہدوں پر کام کرنے کے بعد ریٹائرکر دیا جاتا ہے تاہم اگر وہ چاہیں تو پھر عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کرتے ہیں، یا پھر سرکار انہیں مختلف جلیل القدر عہدے پیش کردیتی ہے ، اکثر کسی ٹریبونل یا کمیشن کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دینے کیلئے مقرر کر دیتے ہیں ، یعنی ان کی اہمیت اور افادیت کا اعتراف کیا جاتا ہے ، ایسا ہی دیگر اہم پیشوں کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے ، پروفیسروں کو دیکھ لیجئے ۔ اکثر یونیورسٹیاں ایسے نابغہ روزگار پروفیسروں کو پروفیسر آف ایمریٹس کے طور پر عزت افزائی کے قابل سمجھتی ہیں،کہنے کا مقصد یہی ہے کہ جسے انگریزی میں پروفیشن کہتے ہیں ان کی ہر جگہ اہمیت بھی ہے اور ان کی قدر بھی کی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں ایک پیشہ ایسا ہے جس سے وابستہ افراد کو سرکاری ملازمت کی طرح یعنی 60سال کی عمر تک پہنچ جانے کے بعد بے یارومددگار چھوڑنے کا حکم صادر کیا جا چکا ہے ، اس صورتحال پر میتھیو آرنلڈ کایہ قول صادق آتا ہے کہ'' اور ہم یہاں اندھیرے میں اس میدان میں بھٹک رہے ہیںجہاں پیش قدمی اور مراجعت کے سمجھ میں نہ آنے والے نعروں کے شوروغل میں ناسمجھ قوتیں برسرپیکار ہیں''۔ حالانکہ انہی ناسمجھ قوتوں کیلئے ہی تو یہ مصرعہ سمجھ لینا کافی ہے کہ

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد

بات سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ریڈیو پاکستان کے ایک نامور براڈ کاسٹر شکیل ارشد کے اس بیان پر غور کرنا پڑے گا جو گزشتہ روز اخبار مشرق میں نمایاں طور پر شائع ہوا ہے اور انہوں نے ریڈیو کے صدا کاروں' فنکاروں اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے ساتھ ریڈیو انتظامیہ کے روا رکھے جانے والے سلوک پر احتجاج کیا ہے کہ ساری عمر صدا کازری سے وابستہ افراد پر 60 سال عمر کی حد لاگو کرکے ان کا داخلہ ریڈیو پروگراموں میں بند کردیاگیا ہے۔حالانکہ ریڈیو انہیں پروگراموں میں حصہ لینے کے عوض مہینے بھر کے بعد چند ہزار روپے ہی دیتا تھا مگر بڑھتی ہوئی اس مہنگائی کے دور میں یہ بھی غنیمت ہی تھا۔ شکیل ارشد جیسے سینئر اور ہر دلعزیز صداکار اور فنکار کی خدمات کو دیکھتے ہوئے اب ان اور ان جیسے دیگر پروفیشنلز کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر غلام محمد قاصر کے بقول یہی کہا جاسکتا ہے کہ

کروں کیا جومحبت میں ہوگیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

ساری زندگی نشریات کے شعبے سے محبت کرکے لاکھوں کی تعداد میں سامعین کا حلقہ بنانے والوں سے اب کہا جا رہا ہے کہ بھائی تمہاری عمر اب 60سال ہوگئی ہے اب تم بس کرو' جائو گھر بیٹھ جائو' کھانے کو کچھ نہیں ہے تو کوئی بات نہیں بھیک مانگو' تمہیں پاگل کتے نے کاٹا تھا جو اس شعبے میں چلے آئے تھے؟

کہاں تو ڈھونڈنے آیا گل اخلاص کی خوشبو

یہاں تو بغض اگتا ہے محبت کی زمینوں میں

خدا جانے یہ کس لال بجھکڑ کا فیصلہ تھا جس نے سرکاری ملازمت کی عمر 60سال کی حد کا اطلاق پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر لاگو کرکے ان لوگوں سے زیادہ جو اس حکم کی زد میں آچکے ہیں خود اس ادارے کے ساتھ زیادتی کی ہے اس لئے کہ اتنی مدت تک اس میدان میں شہسواری کرنے والے تو نشریات کی بھٹی سے گزر کر کندن بن جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں نشریاتی ادارے ایسے نابغہ افراد سے استفادہ کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ' ان کے ساتھ نئے آنے والوں کو نتھی کرکے صداکاری کے اسرار و رموز سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور سننے والے بھی ان کی ''سنہری آوازوں'' کے اس قدر رسیا ہوتے ہیں کہ جب تک ان کے پروگرام نہ سن لیں انہیں ایک کل چین نہیں آتا۔ مگر ایک پیشہ ورانہ سر گرمی کو سرکاری ملازمت کے لئے آخری یعنی 60سال کی حد کے اندر قید کرکے ریڈیو جیسے ادارے کے ساتھ زیادتی روا رکھنے والوں کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ انہی پروفیشنلز سے ہی تو ادارے کی پہچان ہے۔ ادارے کی ساکھ کو بلندی پرپہنچانے میں انہی صدا کاروں کی صلاحیتوں کا اہم کردار ہے۔ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں شکیل دادا( 65ء کی جنگ کے نیوز ریڈر)' انیتا غلام علی' انور بہزاد اور ایسے ہی نابغہ روز گار براڈ کاسٹرز کی آوازیں گونجتی ہیں۔ صدا کاروں پر سرکاری ملازمت کی حد لگا کر نہ صرف غریب صداکاروں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے بلکہ ریڈیو جیسے ادارے کو بھی اچھی آوازوں سے محروم کیا جا رہا ہے اس لئے اس پر احتجاج کرنے کا جواز تو بنتا ہے۔

ویراں ہے پورا شہرکوئی دیکھتا نہیں

آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

متعلقہ خبریں