Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

پٹواری سفیر،گورنر، بیوی کا ستایا شخص

خیبر پختونخوا کی انصاف شفاف اور دھلی سرکار کو آئینہ دکھانے پر بجائے اس کے کہ آئینہ میں اپنے گندے دانت آلودہ چہرہ اور مسخروں والی ٹوپی درست کی جاتی اسے بھی''پٹواری'' قرار دیا جارہا ہے ۔ جرمن سفیر جس طرح گھوم پھر کر جگہ جگہ لوگوں سے مل کر پاکستان کے حالات اور عوام کے خیالات وجذبات سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں اگر اس قسم کے''پٹوار پن'' کا مظاہرہ انصافی اور ناانصافی دونوں قسم کے ادوار حکومت میں ہوتا تو پاکستان کا حلیہ تبدیل ہوچکا ہوتا۔ ساون کے اندھوں کو شاید کم نظر آتا پر نظر ضرور آتا جن کی سوچوں پر پہرہ اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہو ان کو جرمن سفیر کی ٹویٹ سے تکلیف ہے جن کو ایسا نہیں وہ ٹویٹ کے جواب میں ننگی گالیاں سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ سیاسی بنیادوں پر اور سیاسی بحث وجائز تنقید پر گالیاں دینے کیلئے ایک نوجوان کی بڑی شہرت تھی۔ بنی گالہ کے مکین کی دیوانگی میں وہ آپے سے ایسے باہر ہوجاتے تھے کہ آپا آپا نہیں لگتی تھی زمانے کا ستم دیکھئے کہ دوسروں کو گالیاں دینے والا آخر کار مجسم گالی بن گیا اور تحریک انصاف سے دھتکار کر نکالا گیامجسم گالی بننے والوں کا انجام بالآخر گالی اور گالی اور بد ترین گالی کی صورت کے ساتھ قابل نفرین ٹھہرنا ٹھہرتا ہے لہٰذا اک گام احتیاط۔ ہمارے گورنر جن کا میرانشاہ میں انداز نشست اس قدرمہذبانہ ٹھہراتھا کہ اس طرز نشست کی تصویر یں دکھا کر سکولوں میں بچوں کی تربیت ہونے لگی ہے موصوف کا فرمانا ہے کہ ووٹ محض ایک پرچی نہیں کسی کے صادق اور امین ہونے کی گواہی ہے ۔ یقیناً ایسا ہی ہے جبھی تو لوگوں نے ان کے حلقے سے اے این پی کے امیدوار کو جتادیا اور گورنر ہونے کے باوجود ان کا امیدوار کامیاب نہ ہوسکا۔ حلقے کے عوام کو تھوڑا دیر سے احساس ہوا وگرنہ عام انتخابات میں ان کا فیصلہ بھی یہی ہوتا کرکٹ میں ہوم گرائونڈ اور سیاست میں آبائی حلقے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے مگر گورنر منہ درمنہ رابطے کی اہمیت جاننے کے باوجودبھی یہ نہ جان سکے کہ لاٹ صاحب ہوتا کیسا ہے۔ اسے کیسے اٹھنا کیسے بیٹھنا کیسے گفتگو کرنی چاہیئے۔ خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آہی جاتی ہے سیاست بھی عجیب چیز ہے کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے اور پھر جب گرادیتی ہے تو میر خوار پھرتے ہیں اور پوچھتا بھی کوئی نہیں ۔اور نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ بندے کو آزادی سے زیادہ قید سے محبت ہو جاتی ہے بالکل امریکہ کے اس 70سالہ شخص کی طرح جنہوں نے بینک لوٹ کر سب کو حیران کر دیا ۔جب عدالت میں اس نے اپنے جرم کی وجہ بتائی تو یہ اس کی ڈکیتی سے بھی زیادہ حیران کن نکلی، بے چارہ اپنی بیوی کا ستایا نکلا۔ جب اس سے تفتیش کی گئی تو اس نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی سے اس قدر تنگ تھا کہ سوچا کوئی جرم کر کے جیل ہی چلاجائے کیونکہ اس کے خیال میں جیل کی زندگی بیوی کے ساتھ رہنے سے زیادہ پرسکون ہوگی۔

متعلقہ خبریں