Daily Mashriq

نواز شریف کو علاج کیلئے 16 دسمبر کو امریکا منتقل کیے جانے کا امکان

نواز شریف کو علاج کیلئے 16 دسمبر کو امریکا منتقل کیے جانے کا امکان

لاہور: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو علاج کے لیے 16 دسمبر کو امریکا منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

 اس ضمن میں خاندانی ذرائع نے بتایا کہ انہیں بلڈ پلیٹلیٹس کی کمی کے باعث قوت مدافعت کی خرابی کا مرض لاحق ہے جس کا علاج لندن میں بھی موجود نہیں لہٰذا سابق وزیراعظم کو امریکا منتقل کیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ لندن میں کیے گئے نواز شریف کے میڈیکل ٹیسٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پلیٹلیٹس کی کمی کے باعث ان کے دماغ کو خون کی فراہمی میں کچھ رکاوٹ ہے جس کے لیے آپریشن کیا جائے گا اور اس کا علاج صرف امریکا کے بوسٹن میں ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم گزشتہ ماہ اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ ایئر ایمبولینس میں علاج کے لندن پہنچے تھے۔

انہیں اکتوبر میں خرابی صحت کے باعث قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے بلڈ پلیٹلیٹس میں مسلسل کمی کے باعث صحت پیچیدہ ہورہی تھی۔

ماہر امراض خون نے نواز شریف کو ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) نامی بیماری لاحق ہونے کی تشخیص کی تھی جو خون کے خلیات میں خرابی کی علامت ہے۔

بعدازاں نواز شریف کے علاج کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ نے بتایا تھا کہ ان کے کچھ طبی ٹیسٹس اور علاج بیرونِ ملک ہی ممکن ہیں۔

جس پرالعزیزیہ ریفرنس کیس میں قید کی سزا کاٹنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بیرونِ ملک روانگی کی اجازت کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

8 نومبر کو شہباز شریف وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے تحت روانگی سے قبل انہیں 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز جمع کروانے تھے۔

تاہم انہوں نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کی جانب سے علاج کے بعد وطن واپسی کی ضمانت کے لیے 7 ارب روپے کے انڈیمیٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط پر بیرونِ ملک جانے سے انکار کردیا تھا۔

جس کے بعد ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت میں تحریری طور پر اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ نواز شریف کی صحت یابی کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے سفر کی اجازت ملنے پر وہ ان کی وطن واپسی یقینی بنائیں گے جس پر عدالت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی.

چنانچہ وزارت داخلہ سے 18 نومبر کو بیرون ملک سفر کے لیے گرین سگنل ملنے کے بعد 19 نومبر کو قائد مسلم لیگ (ن) خصوصی طور پر بلائی گئی ایئر ایمبولینس میں علاج کے لندن پہنچ گئے تھے۔

متعلقہ خبریں