Daily Mashriq

عالمی اردو کانفرنس: انور مقصود نے میلہ لوٹ لیا

عالمی اردو کانفرنس: انور مقصود نے میلہ لوٹ لیا

کراچی کے آرٹ کونسل میں ہونے والی اردو کی عالمی کانفرنس کے آخری روز انور مقصود نے طز و مزاح کا طوفان برپا کرکے میلہ لوٹ لیا۔

 عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز اختتامی سیشن کے بات اسٹیج پر انور مقصود صاحب کا جیسے ہی نام پکارا گیا۔ پورا ارٹس کونسل تالیوں سے گونج اٹھا۔ انور صاحب نے مائیک سنبھالا اور اپنی روایتی ہلکی مسکان اور خوبصورت آواز کے ساتھ اپنی تحریر پڑھنے کا آغاز کیا۔

 کانفرنس میں انور مقصود نے مختلف موضوعات کو ہلکے پھکے مزاح کے انداز میں حاضرین کے گوش گزار کیا۔ جسے شرکا کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔ انور مقصود نے قومی کرکٹ اور آصف زرداری کا بھی ذکر کیا، جب کہ قومی بیمار سیاست دانوں سے متعلق جملوں نے محفل لوٹ لی۔ انور مقصود کا کہنا تھا کہ آج کل جن سیاست دانوں کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں وہ بیمار ہو کر ملک سے باہر چلے گئے ہیں یا باہر جانا چاہتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جن سیاست دانوں کو یہ لگتا ہے کہ اب اگلی باری ان کی ہے، انہوں نے بھی ڈاکٹرز کے کلینک اور اسپتالوں کے چکر لگانا شروع کردیئے ہیں۔ ایسے سیاست دانوں کی ڈاکٹرز سے خاص فرمائش ہوتی ہی کہ انہیں کوئی بیماری تجویز کی جائے اور وہ بیماری بھی ایسی ہو کہ اس کا علاج پاکستان میں نہ ہوسکے۔

 اپنے بیان میں انور مقصود صاحب نے مرزا غالب کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر مرزا غالب سے مکالمہ پیش کیا۔ انہوں نے شاعرہ فہمیدہ ریاض اور فیض احمد فیض کے درمیان مکالمے کو بھی دلچسپ انداز میں پیش کیا، انہیں سننے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد آرٹس کونسل پہنچی۔

 زبان، مکالموں، واقعات کی ایسی ادائیگی اور تفریح انور مقصود کی جانب سے بیان کی گئی، جو مدتوں یاد رہے گی، اس عالمی اردو کانفرنس کا یہ ہی خاصا ہے کہ اس کے اختتام پر لوگوں کو شدت سے اگلے سال کی کانفرنس .

متعلقہ خبریں