Daily Mashriq

عالم پناہ !ایک قرارداد اِدھر بھی

عالم پناہ !ایک قرارداد اِدھر بھی

چین اور امریکہ کے درمیان رقابت اور مخاصمت کا جام اب چھلک جانے کو بے تاب ہے ۔امریکہ نے سرد جنگ کا ایک پورا دور سوویت یونین کو نظریاتی اور عملی طور پر پچھاڑنے میں صرف کیا اور وہ مسلمانوں کی مددسے یہ معرکہ سر کرنے میں کامیاب بھی ٹھہرا ۔سرد جنگ کا آخری گرم معرکہ افغانستان کی سرزمین پر لڑا گیا اور مسلمان اس جنگ کا ایندھن بن گئے۔المیہ یہ ہوا کہ سردجنگ ختم ہوئی تو اس کا سارا بوجھ بھی مسلمانوں پر ہی ڈال دیا گیا اور انہیں مغرب کے لئے ایک نئے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔مسلمانوں کے بطور خطرہ سامنے آنے کی بات کو مبالغہ آرائی کی حد تک افسانوی اور پر کشش بنا کر پیش کیا اور یوں اس کے نتیجے میں سخت گیر مسلمان مخالف ذہنیت وجود میں آگئی ۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ سے افریقہ تک مسلمانوں پر جو بیتی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔امریکہ اس عرصے میں مسلمان خطرے کے سائے کا پیچھا کرتا رہا اور اسے یہ خبر ہی نہ ہوسکی کہ ماوزے تنگ کا چین اقتصادی اور فوجی دیو بن کر اس کے راستے میں کھڑا ہوچکا ہے ۔وہ دنیا بھر میں امریکہ کا تجارتی اور ایشیا میں عسکری رقیب بن چکا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اس بار بھی مسلمانوں کے کندھے پر رکھ کربندوق چلانا چاہتاہے اور اس کے لئے سنکیانگ کے اویغورکے مسائل اور معاملات امریکہ کے ہاتھ میں ایک ٹرمپ کارڈ کی صورت اختیار کر گئے ہیں ۔اویغور مسلمانوں کے حالات کو بنیاد بنا کر امریکہ چین کے خلاف بین الاقوامی طور پر ایک فضاء بنا رہا ہے ۔انسانی حقوق کے وہ تمام سبق جو مشرق وسطیٰ سے کشمیر تک بھلائے جا چکے ہیں سنکیانگ میں پوری قوت سے رٹے جا رہے ہیں۔ریاستی جبر ،ریاستی دہشت گردی کی جو اصلاحات فلسطین اور کشمیر کے تناظر میں متروک ہو چکی تھیں سنکیانگ میں اپنی بہار دکھا رہی ہیں اور امریکہ اور مغربی میڈیا ان اصطلاحات کا روانی سے استعمال کر رہا ہے۔تازہ دھماکہ امریکی ایوان نمائندگان میں اویغور ہیومن رائٹس پالیسی ایکٹ 2019کے نام سے چین کے خلاف پابندیوں کے ایک بل کی متفقہ منظور ی ہے ۔یہ بل اگلے مرحلے میں ایوان بالا میں جائے گا اور وہاں سے منظوری کی صورت میں صدر کے پاس دستخطوں کے لئے پہنچے گا ۔صدر اس بل پر دستخط کرے گا تو امریکہ کی طرف سے چین پر مختلف پابندیوں کا آغاز ہو جائے گا۔اس سے پہلے امریکہ نے ایک اور بل ہانگ کانگ میں چین مخالف جمہوریت پسندوں کی حمایت پر بھی منظور کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اس بل پر دستخط کرکے اسے قانون کی شکل دی تھی۔ اس بل کو ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی ایکٹ کا نام دیا گیا تھا ۔اس بل کی منظوری کے بعد چین نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑوں اور جہازوں کی ہانگ کانگ آمد پر پابندی عائد کردی تھی ۔ سنکیانگ کے معاملے میں بھی امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اویغور مسلمانوں کو جبر وتشدد کا نشانہ بنارہا ہے اور ان کی برین واشنگ کے لئے جیلیں قائم کی گئی ہیں ۔ ان مراکز میں لوگوں کو جبری طور پر بند رکھا جاتا ہے ۔چین ان مراکز کو تربیتی کیمپ قرار دے رہا ہے۔اویغوروں کے بارے میں منظور کئے گئے بل میں صدر ٹرمپ پر زورد یا گیا ہے کہ وہ اویغوروں سے ہونے والی بدسلوکی کی مذمت کریںاور چین سے مطالبہ کریں کہ وہ ایسے کیمپ بند کرے اور حقوق انسانی کا احترام یقینی بنائے۔ چین نے اویغور مسلمانوں کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان میں بل کی منظوری کی مخالفت کی ہے اور امریکہ کو اس بل کو روکنے کا کہا ہے۔اس بل میں کمیونسٹ پارٹی کے ایک راہنما کو جو حراستی مراکز کے معاملات کے اصل حکمت کار مانے جاتے ہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔چین نے امریکہ پر اس بل کو قانون بننے سے روکنے پر زور دیا ہے ۔اس بل کی منظوری کے بعد چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ میں تیزی آنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔امریکہ کی طرف سے ہانگ کانگ کے جمہوریت پسندوں کے بعداویغور مسلمانوں کی حمایت بل کی منظوری کی کوششیں بظاہر انسان دوستی اور جمہوریت پسندی کا شاہکار ہیں مگر فلسطین اور کشمیر میں تو ذہن سازی اور جبری مشقت سے بھی زیادہ سنگین صورت حال درپیش ہے وہ ہے نسل کشی ۔لوگوں کو دربہ در کرنے کی طویل المیعاد حکمت عملی ۔برسوں پہلے افغانستان میں لڑنے والے ایک معروف کمانڈر مولانا فضل الرحمان خلیل نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ امریکہ ہم سے اس سے لئے ناراض ہے کہ ہم نے سنکیانگ میں جہاد کرنے کی پیشکش شکریہ کے ساتھ مسترد کی تھی ۔بات تو مفادات کی ہوئی کہ چین کا بازو مروڑنا مقصود ہوا تو مسلمانوں سے ہمدردی کے سوتے پھوٹ پڑے اور بھارت کو سکون پہنچانا مطلوب ہو تو یہ سوتے خشک ہوکر ماحول کو بنجر بنادیتے ہیں ۔یہ اصول اور انسانی اقدار اور اخلاقیات کا معاملہ تو نہ ہوا کہ بلکہ اچھے اوربرے مسلمان کی تفریق ہوئی اور یہ تفریق بھی سیاسی اور معاشی مفادات سے جنم لے چکی ہے۔ امریکہ کی اصول پسندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایک قرارداد ایوان بالااور وائٹ ہائوس سے ہوتی ہوئی قانون کا درجہ حاصل کرتی جس میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈرچین چوانگو کی طرح نام لے کر امیت شاہ کی مذمت کی جاتی کہ جس نے ہندوتوا کے نظریہ کے زیر اثر اسی لاکھ انسانوں کو تہاڑجیل کا قیدی بنا دیا ہے اور یہ قیدی سراپا سوال ہیں کہ عالم پناہ ایک قرارداد اِدھر بھی۔

متعلقہ خبریں