Daily Mashriq

پشاورکے روایتی چپلی کباب ذائقے اورلذت کیلئے دنیابھرمیں مشہور

پشاورکے روایتی چپلی کباب ذائقے اورلذت کیلئے دنیابھرمیں مشہور

پشاور(صابر شاہ ہوتی) پشاور کے روایتی چپلی کباب اپنے ذائقے اور لذت کیلئے پوری دنیا میں مشہور ہیں مو سم سرما میں ان کی مانگ میں اضافہ ہو جا تا ہے ۔ خیبر پختونخوامیںموسمِ سرماکے آغاز کیساتھ ہی چپلی کباب کے شوقین افرادکی ایک بڑی تعداد کبابوں کی دکانوںکارخ کرنے لگتی ہے۔سردی کے موسم میں جسم گرم رکھنے کیلئے گرماگرم چپلی کباب کھاتے ہیں اورموسم سرما میں لوگ گرم خوراک کھاتے ہیں۔ دوسرے شہروںسے لوگو ں کی ایک بڑی تعداد کباب کھانے پشاور آتی ہے پشاورکے روایتی کھانوں میں چپلی کباب پہلے نمبرپر ہیں موسم سرما میں انکی مانگ میں حد درجہ اضافہ ہو جاتا ہے ان میںتاروجبہ میں قائم کباب کی دوکانیں سب سے قدیم ہیں جو تقریباًڈیڑھ سو سال پرانی ہیں اب بھی لوگوں میں اسی طرح مقبول ہیں جہاں پر لوگ روزانہ بڑی تعدادمیںکباب کھانے کیلئے آتے ہیںاس کی پسندیدگی کی اصل وجہ اس کا سادہ اور منفرد طریقے سے پکانا ہے۔پشاور کے ان روایتی کھانوں کی مانگ شہر میں بڑے بڑے فوڈ چینزآجانے کے باوجودبھی کم نہیں ہوئی۔ تاروجبہ میں قائم دوکان کے مالک رامبیل جنکی عمر ستر سال ہے کا کہنا ہے کہ آج سے ساٹھ سال قبل یہاں پر کباب 5روپے فی کلو تھے جو کہ اب بڑھ کر 460روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں ۔ پشاور میں اب جگہ جگہ کبابوں کی دوکانیں ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سرد موسم میں کباب کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کبابوں کی یہ دوکانیں سیاحوں کی بھی توجہ کا مرکز ہیں جہاں ہر روز باہر سے آنے والے لوگوں کو بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ پشاور جہاں پر پہلے باہر سے سیاح سکیورٹی خدشات کی وجہ سے آنے سے کتراتے تھے لیکن اب حالات بہتر ہوجانے کے بعد ان کے یہاں آنے کی اگر کوئی بڑی وجہ ہے تو پشاور کے روایتی کھانے سر فہرست ہیں۔یہاں کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہاں پر مقامی لوگوں کی نسبت باہر سے لوگ زیادہ کباب کھا نے آتے ہیں ۔ کباب کھانے کے لئے آنے والے سرگودھا سے آنے والے عبدالشکور نے مشرق کو بتایا کہ وہ مہینہ میں ایک مرتبہ ضرور دوستوں کے ساتھ خاص طور پر کباب کھانے کیلئے آتے ہیں کیونکہ پشاور کے کباب کا ذائقہ بہت منفرد ہیں اور یہ پہت خالص ہوتے ہیں۔ رامبیل کاکا نے بتایا ہے کہ موسمِ سرما میں ان کی دکان پر کباب کھانے اور لے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، لیکن جب بارش اور ٹھنڈ ہو تو پھر غیر معمولی رش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں