Daily Mashriq

شہیدہونیوالی6سالہ خولہ کاسکول میں پہلادن تھا

شہیدہونیوالی6سالہ خولہ کاسکول میں پہلادن تھا

پشاور(کرائمزرپورٹر)آرمی پبلک سکول میں دسمبر سولہ2014کو دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والی خولہ کی عمر چھ سال اور نو مہینے تھی اور اسکا سکول میں پہلا دن تھا لیکن تصویر نہ ہونے کیوجہ سے وہ کلاس میں نہ بیٹھ سکی تھی اسکا والد اسے لیکر کلرک کے کمرے میں گیا جس نے تصویر لے کر اسکا پرنٹ نکالنا تھا کہ اس دوران فائرنگ شروع ہوگئی۔ خولہ کا والد الطاف حسین بھی اے پی ایس میںانگلش کا ٹیچر تھا اور اسنے خولہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل کر دیکھا تو پھر واپس آگیا وہ سمجھا کہ سکیورٹی والے ڈرل کررہے ہیںلیکن اسی دوران کسی نے کہا کہ فائرنگ ہال کے اندر ہورہی ہے اس موقع پر ایک خاتون ٹیچر سعدیہ خٹک نے آکر خولہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اللہ کے حوالے اور میرے حوالے اور یہ کہہ کر بچی کو لے گئی۔دہشت گردوں کے حملے میں خولہ اور سعدیہ خٹک دونوں شہید ہوگئیں جبکہ خولہ کا والد الطاف گولیا ں لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا جو دومہینے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل رہا اور ڈاکٹروں کو اسکا ایک پھیپھڑ ا نکالنا پڑا۔

متعلقہ خبریں