Daily Mashriq

وفاقی کابینہ کی سفارشات

وفاقی کابینہ کی سفارشات

وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی متعدد سفارشات کی منظوری دی جبکہ حتمی منظوری تو پارلیمنٹ سے لی جائے گی۔ ان سفارشات میں اہم سیاسی جماعتیں خواتین کو پانچ فیصد ٹکٹ دینے کی پابند ہوں گی۔ زائد بیلٹ پیپرز نہیں چھاپے جائیں گے۔ انتخابی حلقے بڑھانے کا فیصلہ مردم شماری کے بعد کیا جائے گا۔ افغان مہاجرین کی 31دسمبر تک واپسی کی پالیسی کی بھی منظوری دی۔ 31دسمبر2017ء کے بعد افغان سرحد پر امیگریشن قوانین کا نفاذ ہوگا۔ خواتین ووٹروں کے دس فیصد ووٹ پول کرنے کو یقینی بنانے اور سیاسی جماعتوں کے خواتین کو پانچ فیصد ٹکٹ دینے کے اقدام سے جہاں خواتین کو اسمبلیوں میں مزید نمائندگی ملے گی وہاں خواتین حقیقی معنوں میں انتخابی سیاست میں داخل ہوں گی جن کے نتیجے میں خواتین ووٹروں کا ووٹ دینے کا رجحان خود بخود بڑھے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کو سیاست میں فعال کرنے اور ان کو حقیقی و با اختیار نمائندگی اسی وقت ہی مل سکتی ہے جب وہ باقاعدہ انتخاب لڑ کر اسمبلیوں میں پہنچیں جو جو خواتین انتخابی پنجہ آز مائی سے گزر کر اب تک اسمبلیوں میں پہنچتی رہی ہیں ان کی کارکردگی اور ان کے با اثر ہونے کا خواتین کے کوٹے پر آنے والی ارکان اسمبلی سے کوئی موازنہ ممکن ہی نہیں اور نہ ہی ایسا مناسب ہوگا۔ ایک ہی اسمبلی میں بیٹھی ہوئی اراکین اسمبلی میں اگر زمین و آسمان کا فرق بتایا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جو خواتین خصوصی کوٹے پر آتی ہیں ان کی اکثریت میرٹ پر سیاسی ورکروں کو دئیے گئے ٹکٹ پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ وہ سیاسی جماعتوں کے قائدین ' عزیزو اقارب میں سے ہوتی ہیں۔ ان میں نمائندگی کی صلاحیت اور اپنی صنف کے مسائل کو یا تو آگے بڑھانے میں دلچسپی کا عنصر ہی قدرے کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی خواتین اسمبلیوں میں بنچوں پر دکھائی بھی دیں تو ان کی ایوان میں فعال موجودگی کی توقع نہیں ہوتی۔ بہت کم مثالیں ایسی ہوں گی کہ ان نشستوں پر آنے والی خواتین ممبران نے بھرپور پارلیمانی کردار کا مظاہرہ کیا ہو۔ ان کے مقابلے میں جو خواتین روایتی انتخاب لڑ کر ووٹوں سے منتخب ہوتی ہیں وہ کسی کی مرہون منت نہیں ہوتیں۔ نیز ان میں حقیقی عوامی نمائندے کے طور پر اعتماد ہوتا ہے۔ اسی بناء پر ان کو عہدے بھی ملتے ہیں اور اسمبلی میں بھی وہ فعال کردار کی حامل ہوتی ہیں۔ بناء بریں یہ ایک مثبت فیصلہ ہوگا جس پر سیاسی جماعتوں کو بھی چنداں اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ خواتین جس طرح دیگر شعبوں میں میدان عمل میں نکل کر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اس کامظاہرہ انتخابی میدان اور اسمبلیوں میں بھی ہونا چاہئے تاکہ ان کی دیکھا دیکھی دیگر خواتین بھی میدان عمل میں مزید اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ ان خواتین کی آمد سے اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوگا اور خواتین کے حوالے سے قانون سازی اور ان کے مسائل کے حل کے بارے میں مزید اقدامات کے مواقع میسر آئیں گے۔ انتخابات کی شفافیت ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہا ہے بلکہ پاکستان میں کم ہی انتخابات ایسے ہوں گے جو قابل قبول نتائج کے حامل رہے ہوں۔ گزشتہ انتخاب میں بیلٹ پیپروں کی تعداد اور اضافی بیلٹ پیپروں کی وجہ سے جن مسائل کا سامنا ہوا اور معاملات عدالتوں تک گئے اس سے بچنے کے لئے بیلٹ پیپروں کی چھپائی میں احتیاط اور ضرورت سے بہت زائد بیلٹ پیپروں کے اجراء کے عمل کو ہی محدود بنایا جائے تاکہ شفافیت کا سوال کم سے کم اٹھے۔ نئی حلقہ بندیوں کا معاملہ مردم شماری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات بلا وجہ نہیں۔ مردم شماری کے نتائج اور حلقہ بندیوں میں تبدیلی اور حلقوں میں اضافہ پر ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے خدشات اور تحفظات کا اظہار بلا وجہ نہیں ۔ پنجاب کو آبادی کی بنیاد پر ہی ملک میں اختیارات اوروسائل میں وافر حصہ ملتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پنجاب کی آبادی میں اضافہ کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے پنجاب پر براہ راست اثرات پڑنے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں پنجاب کی نشستوں میں کمی کا امکان ہے جو دیگر وفاقی اکائیوں میں ٹرانسفر کردی جائیں گی۔ افغان مہاجرین کے دسمبر 2017ء تک قیام میں توسیع اور رجسٹریشن کے فیصلے کو عوامی سطح پر خوشگوار رد عمل نہیں ہوگا۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے دبائو بڑھانے کا حکومت نے جو اقدام کیا تھا اور خیبر پختونخوا سے جس بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کی واپسی شروع ہوگئی تھی اگر حکومت دبائو میں نہ آتی اور صورتحال کو اسی طرح برقرار رکھا جاتا تو آج صوبے سے مزید افغان مہاجرین کا بوجھ کم ہو چکا ہوتا۔ بہر حال وفاقی کابینہ کی ان سفارشات کو پارلیمنٹ سے منظوری ملتی ہے تو اس کے بعد مزید ایک سال افغان مہاجرین کو واپسی کے لئے ملے گا۔ اس موقع کو حتمی اور مزید گنجائش نہ ہونے سے مشروط کردیا جائے اور پارلیمنٹ سے باقاعدہ اور حتمی پالیسی کی منظوری کے بعد افغان مہاجرین اور بین الاقوامی اداروں کو پیغام جائے کہ مزید توسیع کا امکان اصولی اور قانونی طور پر معدوم کردیاجاتا ہے تو یہ سنجیدہ عمل ہوگا ۔ فی الوقت کے سرحدی انتظامات سے ہی نمایاں فرق پڑا ہے۔ دسمبر 2017ء کے بعد امیگریشن قوانین کے موثر نفاذ کے بعد اگر اس امر کو مزید یقینی بنایا جاتا ہے کہ پاک افغان سرحد پر آمد و رفت کسی بھی بین الاقوامی ملک میں آمد و رفت کے مماثل ہوگی تو بہتر ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے ہماری حکومتوں کی مصلحت پسندانہ پالیسیاں ہی ان کی وطن واپسی کی راہ کی رکاوٹیں ہیں۔ اب تو افغانستان میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر پاکستان کے حوالے سے جو فضا پائی جاتی ہے اس میں مصلحت کی گنجائش ہی دکھائی نہیں دیتی۔ بہتر ہوگا کہ ہم بھی اس حوالے سے اسی کردار و عمل کا مظاہرہ کریں جو سرحد کے اس پار ہمارے بارے میں دیکھنے میں آتا ہے۔

متعلقہ خبریں