Daily Mashriq

تعلیمی اداروں کی سیکورٹی ہے کہاں؟

تعلیمی اداروں کی سیکورٹی ہے کہاں؟

پولیس کی جانب سے پشاور میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو حفاظتی اقدامات کی بہتری کے لئے بار بار ہدایت دینے اور ان ے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن اس طرح کے اجلاس لا حاصل اور وقت کا ضیاع ضرور گردانے جاسکتے ہیں کیونکہ مشاہدے کی بات ہے کہ جن سکول مالکان اور تعلیمی اداروں کے سربراہوں نے سیکورٹی گارڈز رکھے تھے اب ان کو فارغ کردیاگیا ہے۔ سیکورٹی کے جو انتظامات ان کی دانست میں ضروری تھے اس میں ذرا تبدیلی اور بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ جن جن سکولوں میں ابتداء میں جو اقدامات کئے گئے اب بھی وہی دکھائی دیتے ہیں۔ سکولوں میں حفاظتی اقدامات کی بھی درجہ بندی سکول کے معیار اور آمدنی کے مطابق ہونی چاہئے یا نہیں اس کا توہمیں علم نہیں البتہ واضح طور پر دیکھا ضرور جا سکتا ہے کہ بعض سکولوں میں صرف صدر دروازے کے سامنے بیرئیر لگانے ہی کوسیکورٹی انتظامات سمجھ رکھا ہے۔ نسبتاً بہتر انتظامات میں زیادہ سے زیادہ دیواروں کے اوپر خار دار تاریں لگا دی گئیں اور کیمرے لگا دئیے گئے ۔ اس طرح کے حفاظتی انتظامات کو اگر اس طرح کی رکاوٹ قرار دیا جائے کہ سکول کے طالب علم ان کو پھلانگ کر باہر نہ جاسکیں یا کوئی اندر داخل نہ ہوسکے تو درست ترجمانی ہوگی۔ سیکورٹی کے انتظامات میں اہم ترین معاملہ ماہر اور تجربہ کار سیکورٹی گارڈز کاجدید اسلحہ اور لوازمات کے ساتھ مناسب مقامات پر تعین ہے جہاں سے ماہر نشانچی بوقت ضرورت صدر دروازے اور دیواروں سے پھلانگنے والوں کو نشانہ بنا سکیں اور ابتدائی مقابلے اور روک تھام کی ضرورت پوری ہو ۔کم ہی سکول ایسے ہوں گے جہاں اس درجے کی سیکورٹی موجود ہو اگر کہیں نظر بھی آتی ہے تو کوئی ایک سیکورٹی گارڈ ہی کسی بالائی منزل اور چھت پر دکھائی دیتا ہے جو کافی نہیں۔ سرکاری سکولوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں تو سیکورٹی گارڈز کی سرے سے کوئی آسامی ہی موجود نہیں۔ ابتداً کلاس فور اور اساتذہ نے رضا کارانہ طور پر یہ خدمات انجام دیں اب وہ انتظامات بھی نظر نہیں آتے۔ ہر سکول کو سرکاری اسلحہ بھی فراہم نہیں کیا گیا ایسے میں سیکورٹی کاسوال ہی بے معنی ہے۔ پولیس کو ان حالات میں ان تمام تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے خلاف کارروائی کرلینی چاہئے نا کہ ان کو ترغیب دی جائے۔

جعلی نوٹوں کا معاملہ

فیز تھری چوک میں واقع ایک معروف اور بڑے نجی بینک کی شاخ کی اے ٹی ایم سے جعلی نوٹ نکلنے کو انسانی غلطی قرار دینے کی گنجائش ضرور ہے لیکن صارف کی شکایت پر بنک منیجر کی جانب سے ثبوت لانے کا کہہ کر بری الذمہ ہونے کی روش ٹھیک نہیں۔ صارف کے پاس اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ اس نے مذکورہ بنک کی اے ٹی ایم سے رقم نکلوائی اس کی اس کے پاس رسید موجود گی اور اگر وہ پیش نہ کرتے ہوئے دعویٰ کر رہا ہے تب بھی اس کے اے ٹی ایم کارڈ کے نمبر اور اس سے نکالی گئی رقم بنک ریکارڈ میں موجود ہوگی۔ صارف کے دعوے کو سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ سے بھی جانچا جاسکتا ہے۔ ہمارے تئیں کسی صارف کی شخصیت اور اس کا قول و فعل بھی جانچ کر اس کے دعوے کی حقیقت کو ابتداً جانچنا مشکل نہیں۔ ان سارے لوازمات کو ایک طرف رکھ کر صارف کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرنا اور اپنی ذمہ داریوں سے سراسر انکار نہ تو پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی مناسب۔ اگر کسی بنک میں اس طرح کی شکایت آجائے تو خود بنک کی ساکھ کا سوال ہے کہ وہ اس کو اخفاء میں رکھے۔ سٹیٹ بنک کے حکام اور متعلقہ بنک کے منتظمین کو اس معاملے کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور شہر میں جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لئے سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں