Daily Mashriq

پاک افغان سرحدی انتظام اور افغان مہاجرین

پاک افغان سرحدی انتظام اور افغان مہاجرین

وزیر اعظم نواز شریف کے زیرِ صدارت وفاقی کابینہ نے جہاں ایک طرف افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت رواں سال کے آخر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے وہاں پاک افغان سرحدی انتظام کے حوالے سے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ کسی کو بغیر ویزا کے پاکستان میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ افغان مہاجرین کے لیے اس سال کے آخر تک پاکستان میں قیام کی اجازت سے جہاں مہاجرین کی ان مشکلات میں کمی آئے گی جن کا سامنا انہیں گزشتہ کئی ماہ سے تھا جب سے انہیں واپس جانے کے لیے مختلف ترغیبات دی جا رہی تھیں اور اکثر غیر رجسٹرڈ مہاجرین کو شکایت تھی کہ انہیں افغانستان واپس جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اونے پونے اپنا سامان فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اب وہ 31دسمبر تک اپنے معاملات سمیٹ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا کام جاری رکھا جائے گا۔ اس فیصلے میں یہ واضح نہیں کہ کس تاریخ تک پاکستان آنے والے غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت پاکستان میں تقریباً 16لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ اگر غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کرنی ہے تو یہ کب تک جاری رکھی جائے گی اور کب پاکستان میں داخل ہونے والے افغان باشندوں کو مہاجرین قرار دیا جائے گا۔ یہ اہم سوال ہیں جن کے جواب حکام کی طرف سے آنے چاہئیں۔ جب افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کے لیے 31دسمبر 2017ء آخری تاریخ طے کر دی گئی ہے تو کیا یہ تاریخ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی رجسٹریشن کی تاریخ بھی ہے؟ پاکستان اور افغانستان کی طویل سرحد پر دسیوں ایسے راستے ہیں جن سے جیپیں اور ٹرک آ جا سکتے ہیں۔ سینکڑوں ایسے راستے ہیں جن سے لوگ پیدل آ جا سکتے ہیں۔ اس وجہ سے کوئی پتہ نہیں کہ اپنے آپ کو افغان مہاجرین کہنے والا افغانستان میں ماضی میں ہونے والی جنگی کارروائیوں سے جان بچا کر پاکستان میں داخل ہوا تھا یا ایک دو روز پہلے زندگی کے بہتر مواقع یا کسی دوسری ترغیب کے باعث پاکستان آ یا تھا۔ غیر قانونی طور پر پاکستان میں آباد افغانوں کی بطور افغان مہاجرین رجسٹریشن کے لیے کوئی شرائط ہونی چاہئیں۔ اور کھلی سرحد کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں داخل ہونے والوں کو مہاجر کی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے۔ وفاقی کابینہ نے پاک افغان سرحد کے انتظام کے حوالے سے جو اہم ترین فیصلہ کیا ہے اس پر عمل درآمد سے غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے مسئلے کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرحد سے پاکستان میںآنے والے ہرشخص کے لیے ویزا حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اس فیصلہ کی افادیت میں کلام نہیں۔ اس طرح سرحد پر غیر قانونی آمدورفت رک جائے گی۔ سمگلنگ رک جائے گی۔ فیصلے میں ویزا کی شرط پر عملدرآمد کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے تاہم توقع کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں داخل ہونے والے افغانوں کے لیے ویزے جاری کرنے کا کام جلدی شروع ہو جائے گا۔ اس طرح ویزا پر پاکستان آنے والے افغان ویزے پر درج مدت کے دوران پاکستان میں رہ سکیں گے ۔ لیکن جو لوگ اس پابندی کے باوجود بغیر ویزا کے پاکستان میں داخل ہوں گے وہ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہونے کا دعویٰ کر سکیں گے۔ جیسا کہ سطور بالا میں کہا جا چکا ہے کہ پاکستان میں غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 16لاکھ کے قریب ہے۔ ویزہ کی پابندیوں پر عمل درآمدسے پہلے ان کی نشان دہی ہونی چاہیے۔ ان کی نشان دہی کی ایک اور بڑی وجہ ملک میں 15مارچ سے شروع ہونے والی مردم شماری ہے۔ بلوچستان کی سیاسی پارٹیاں بطور خاص کہہ رہی ہیں کہ مردم شماری ایک سال کے لیے ملتوی کردی جائے ۔ اس مطالبہ کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اس وقت تک افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہوں گے۔ اور افغان مہاجرین کے صوبے کی آبادی میں شمار کیے جانے کے احتمال کی بدولت مردم شماری کے ایسے نتائج مرتب نہ ہو سکیں گے جو بلوچ آبادی کے مفادات کے منافی ہوں۔ لیکن مردم شماری اگلے ماہ شروع ہو نے والی ہے۔ ایک تجویز بلوچستان حکومت کی طرف سے یہ آئی ہے کہ افغان مہاجرین کا شمار مردم شماری کے دوران الگ فارم پرکیا جائے تاکہ ان کی نشاندہی ہو جائے اور مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کو ان کا شمار متاثرنہ کر سکے۔ خیبرپختونخوا میں بھی مردم شماری کے دوران اگر غیر رجسٹرڈ مہاجرین کا پاکستانی باشندوں کے طور پر شمار کیا جاتا ہے تو اس سے مردم شماری کے نتائج خلط ملط ہو جائیں گے۔ جیسے کہ ان خبروں سے ظاہر ہے کہ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں اور نادرا نے بھاری تعداد میں ایسے شناختی کارڈ منسوخ کیے ہیں۔ اس لیے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پار کرنے کے لیے ویزا کی شرط پر عمل درآمد کے حوالے سے اگر غیر رجسٹرڈ افغانوں کو عارضی ویزے جاری کر دیے جائیں تو ان کی نشاندہی ہو جائے گی۔ یا الگ فارم پر شمار کیا جائے گا اور خود یہ غیر رجسٹرڈ افغان غیر قانونی طور پر مقیم ہونے کی وجہ سے دباؤ اور خوف میں رہنے سے بچ جائیں گے ، انہیں ایک باقاعدہ حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ ان پر بھی پابندی عائد کی جا سکے گی کہ جب یہ وطن واپس جائیں تو اپنے ویزے واپس کر دیں جس طرح رجسٹرڈ افغان مہاجرین پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ وطن واپس جاتے وقت اپنی بطور افغان مہاجر شناخت پی او آر کارڈ واپس کر دیں گے تاکہ ان کے بار بار واپس جانے کا امکان باقی نہ رہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مستحسن ہے کہ طلبہ' بیماروں کے علاج معالجہ کے لیے آنے والوں' تاجروں اور کاروباری لوگوں کے لیے خصوصی عارضی ویزے جاری کیے جائیں گے۔ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کے لیے بھی مخصوص مدت کے ویزے جاری کرنے سے ان کی مشکلات بھی ختم ہو جائیں گی اور مردم شماری کے حوالے سے جو تحفظات ظاہرکیے جا رہے ہیں ان کا بھی ازالہ ممکن ہو گا۔

متعلقہ خبریں