Daily Mashriq

نابینا آنکھوں کے خواب

نابینا آنکھوں کے خواب

ہم اپنے معاشرتی مسائل کے حوالے سے ہر وقت روتے رہتے ہیں۔کرپشن، بددیانتی، جھوٹ ، ملاوٹ، رشوت، فراڈ وغیرہ ان تمام حوالوں سے ہم اچھے خاصے خود کفیل ہیں۔ یہ سب معاشرتی برائیاں کہاں نہیں ہوتیں؟کہیں کم اور کہیں زیادہ جب تک حضرت انسان موجود ہے یہ سلسلے چلتے رہیں گے اچھے برے لوگوں سے ہی یہ دنیا آباد ہے۔ جب برائی سامنے لائی جاتی ہے تو مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ یہ وہ پودا ہے جس پر کبھی بہار نہیں آتی یہ ہمیشہ مرجھایا ہی رہتا ہے جس نے اس پودے کی آبیاری کی وہ ہمیشہ بے سکون ہی رہا۔ اس سے سکون چین و آرام روٹھ جاتے ہیں وہ لاکھوں کروڑوں کما کر بھی پریشان ہی رہتا ہے اور پھر خالق کائنات کی اس خوبصورت دنیا میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر رہتا ہے لیکن لالچ کی چربی ہماری مت ماردیتی ہے۔ ہماری بینائی کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔

اس طرح کے بیسیوں واقعات ہم ہر روز دیکھ دیکھ کر اب ان کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اب کسی پر اعتماد ہی نہیں کرتے لیکن اس دنیا کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ یہاں نیکی بدی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں جب کبھی ان خزاں رسیدہ فضائوں میں تازہ ہوا کا جھونکا چلتا ہے تو دل و دماغ معطر ہوجاتے ہیں۔ محمد انور کی کہانی ایسی ہی خوشبو کی ایک داستان ہے ایک ایسا انسان جو صبح سویرے اٹھ کر اپنے کاندھے پر خطوط کا تھیلا لاد کر اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں مصروف ہوجاتا ہے۔ ضلع ہری پور کے ایک دور دراز گائوںکا یہ محنت کش باسی تقریباً بارہ کلومیٹر کا پہاڑی راستہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے عصا کی مدد سے ہر روز طے کرتا ہے اگرچہ وہ مکمل طور پر نابینا ہے لیکن اس نے اپنی معذوری کو مجبوری بننے نہیں دیا وہ پچھلے 44برسوں سے بطور پوسٹ مین یہ فرض انجام دے رہا ہے۔ علاقے کے لوگ اس کا بہت زیادہ احترام کرتے ہیںاور اسے احتراماً حافظ صاحب کہتے ہیںوہ لوگوں کو ان کی آواز سے پہچان لیتا ہے۔ پیدائش کے وقت انور کی نظر انتہائی کمزور تھی اس کی ماں جی اور چار بہن بھائی پیدائشی طور پر نابینا ہیں۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داری اس کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی ۔باپ کے بعد اس کا بڑا بھائی بھی جوانی میں انتقال کرگیا جس کے چار بچوں کی پرورش بھی اب اس کی ذمہ داری ہے۔ ماں کی مامتانے اسے شادی کے بندھن میں جکڑ ڈالا اس کی بیوی نابینا نہیں ہے اب اس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جو مکمل طور پر صحت مند ہیں اسے دو خاندانوں کے نان نفقے کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف تو نابینا محمد انور کی ہمت کی داستان ہے اور دوسری طرف ہم لوگوں کی بے حسی ! وہ 1973ئمیں اس ملازمت میں آیا اس کا تقرر عارضی ملازم کے طور پر ہو ا لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج 44سالوں بعد بھی اس کی ملازمت مستقل نہیں ہوئی ! ڈاکخانے کے افسروں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ کسی نے بھی ایک دیانت دار ملازم جو اپنا کام انتہائی خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہا ہے بارش ہو آندھی ہو یا طوفان وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف نظر آتا ہے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی !بطور عارضی ملازم اس کی تنخواہ 1973میں صرف 55روپے تھی آج 44برس گزر جانے کے بعد اس کی تنخواہ ایک ہزار چالیس روپے ہے ! جی ہاں دو ہزار سترہ میںصرف ایک ہزار روپے تنخواہ !یقینا یہ بے حسی اور خودغرضی کی انتہا ہے ۔محمد انورنے اپنی جوانی خطوط تقسیم کرتے ہوئے گزار دی ہے وہ اب تھک چکا ہے لیکن علاقے کے لوگ اس کے کام سے مطمئن ہیں اس سے پیار کرتے ہیں۔ وہ اسے ریٹائر ہونے نہیں دیتے۔ محکمے کا یہ حال ہے کہ ہر پانچ سال بعد اس کی تنخواہ میں تھوڑا سا اضافہ ہوجاتا ہے آج مزدور کی دیہاڑی پانچ سو روپے روز تک پہنچ چکی ہے جو صبح آٹھ بجے سے عصر چار بجے تک کام کرتا ہے لیکن محمد انور صبح سے شام تک کام کرتا ہے اپنی بے نور آنکھوں سے پہاڑی راستے طے کرتا ہے لیکن اکیسویں صدی میں اس کی روزانہ کی اجرت صر ف 33.3روپے بنتی ہے یعنی صرف تینتیس روپے! حد ہوتی ہے ظلم اور بے حسی کی !مگر لگتا ہے کہ محمد انور کے حوالے سے ہم ساری حدیں پھلانگ چکے ہیں۔ وطن عزیز میں آئے دن سو موٹو ایکشن لیے جاتے ہیں کیا کوئی اس مظلوم انسان کے لیے سو موٹو ایکشن لینے کی زحمت گوارا کرے گا ؟ اس لاچار اور غریب انسان جس کی تنخواہ تینتیس روپے روز بنتی ہے کے لیے کون سوچے گا؟یہ اگر کسی زندہ معاشرے کا فرد ہوتا تو اس کے بچوں کی تعلیم بھی مفت ہوتی اور اس کی ملازمت ہنگامی بنیادوں پر مستقل کی جاچکی ہوتی۔ ہمیں دیانت داری اور دیانت دار انسان کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں یقینا ایسے لوگ موجود ہیں جو غریب بہن بھائی کی محنت کی قدر بھی کرتے ہیں اور ان کا ہاتھ بھی پکڑتے ہیں ایک ہزار چالیس روپے ماہوار لینے والا ملازم اپنے گائوں کے لوگوں کے تعاون سے محروم نہیں ہوگا لیکن اس نے جس محکمے کی خدمت نصف صدی تک کی ہے اس کے ارباب اختیار کو کیا ہوا ہے ؟ پوسٹ آفس کا محکمہ اگر محمد انور جیسے عظیم انسان کی قدردانی بھی نہیں کرتا اس کی خدمات کے اعتراف میں اس کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کرتا اس کے لیے کوئی فنڈ مخصوص نہیں کرتا تو یقینا یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ہمارے ارباب اقتدار کو بھی اس حوالے سے آگے آنا چاہیے ایک بے لوث ،انتھک اور دیانت دار کارکن کی خدمت کے صلے میں دل کھول کر نوازنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں