Daily Mashriq

خیبر پختونخوا بدل چکا ہے

خیبر پختونخوا بدل چکا ہے

جولوگ یہ بات نہیں مانتے کہ خیبر پختونخوا بدل گیا ہے ، انہیں کم از کم اب تو اپنی سوچ تبدیل کر لینی چاہیے ، گزشتہ روز کراچی کے مختصردورے کے دوران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کراچی میں پانی کے مسئلے پر بھی بات کی اور وہاں پانی چوری کرنے والوں کے خوب لتے لئے اور کہا کہ ''وہ پانامہ لیکس سے فارغ ہونے کے بعد کراچی پر توجہ دیں گے ، پانی کے مسئلے پر کراچی میں ایک چھوٹا سامافیا کرپشن کر رہا ہے ، پیسے بنا رہا ہے اور ہم اس صورتحال کے بعد کراچی میں مظاہرے کریں گے اور عوام کو پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے ''۔ آپ یقینا سوچ میں پڑگئے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی بات کرتے ہوئے اچانک عمران خان کے کراچی میں پانی کے مسئلے پر چند سطریں ہم نے گھسیٹ لیں تو ایسا کیوں ؟ آپ کی سوچ برحق ہے تاہم اس کی وضاحت ہم یوں کئے دیتے ہیں کہ گزشتہ روز اخبارات میں یہ خبر بھی چھپی ہے کہ پشاور میں واٹر میٹرز لگانے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے فرمزسے خدمات طلب کر لی گئی ہیں ۔ گھر وں اور ٹیوب ویلوں میں میٹر لگائے جائیں گے جبکہ جیو گرافک انفارمیشن سسٹم کے ذریعے گھر گھر سروے ہوگا ۔ اوریہی وہ تبدیلی ہے جس کی جانب ہم نے اشارہ کیا تھا ۔ 

چار جانب گونجتی آواز کے تیو ر سمجھ

دو گھڑی کو سوچ تیرے گھر میں کیا ہونے کو ہے

دوسروں کے گھر میں جھانکنے اور ان کے معاملات پر اعتراضات کرنے سے پہلے آکر خان صاحب پہلے اپنے گھر (خیبر پختونخوا ) کے معاملات کا جائزہ لیتے تو جس منفی تبدیلی کی باتیں کی جارہی ہیں کم از کم اس موقع پر وہ صوبائی اور ضلعی حکومتوں کو ایسی باتیں کرنے سے ضرور روکتے ، کیو نکہ اب انتخابات میں مدت ہی کتنی رہ گئی ہے یعنی صرف ڈیڑھ سال تاہم اگر تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی سوچ کو دیکھا جائے تو دن رات یہی راگ الاپتے رہتے ہیں کہ انتخابات اسی سال یعنی 2017ء ہی میں منعقد ہونے جارہے ہیں ، کیونکہ انہیں پکایقین ہے کہ پانامہ کے مسئلے پر حکومت گھر چلی جائے گی اور پھر نئے انتخابات کے انعقاد کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔بہر حال ان کی سوچ پر پہرے تو نہیں لگائے جا سکتے ، اس لئے اگر تحریک اور اتحادی جماعتوں کی پیشگوئی درست ہوجائے تو پھر عوام پر کر بلا نازل کرنے کی پاداش میں عوام ان کا محاسبہ ضرور کریں گے ، اس لیے پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔خدا جانے دنیا میں پانی فروخت کرنے کا دھند ا کس نے ایجاد کیا ، ہمارے بزرگ فرماتے تھے کہ انگریزوں کے دور میں پانی کو مسلمان پانی اور ہند و پانی کہہ کر ریلوے سٹیشنوں پر فروخت کیا جاتا تھا ، حالانکہ پشتو ضرب المثل ہے کہ پانی کو ڈانگ مار کر علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ، دریا کا پانی اسی طرح چلتا رہتا ہے ، آپ لاکھ کوشش کر یں کہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے مگر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ، اور پانی قدر ت کی طرف سے انسانوں کیلئے عطیہ ہے جبکہ انسانوں نے اس پر قبضہ جما کر اسے دو لت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا ہے ۔

دنیا بھر میں صاف پانی اور آلودہ پانی کی تخصیص کر کے صاف پانی کو منرل کے نام پر بوتلوں میں بند کر کے تجوریاں بھرنی شروع کرد ی گئی ہیں ، ایسے میں ہمارے جیسے ملکوں میں بھلا میونسپل ادارے کیوں پیچھے رہیں ، اگرچہ ان اداروں کی سر پرستی میں شہر وں کی گلی کو چوں میں سرکاری نلکوں سے مفت پانی کی فراہمی ایک انسانی خدمت کے طور پر کی جاتی تھی مگر اب شاید پورے شہر پشاور میںایسے سرکاری نلکے بہ مشکل ہی دکھائی دیتے ہیں ، جبکہ گھروں کے اندر پانی کی فراہمی پر ہر چھ ماہ بعد بل بھیج دیا جاتا ہے ، اور اب ان نلکوں پر میٹروں کی تنصیب کا منصوبہ تو شہر یوں پر ایک اور کربلا مسلط کرنے کی کوشش ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو آنے والے انتخابات میں عوام اس کا ''جواب'' ضرور دیں گے ۔ ہمیں یاد ہے کہ پہلی ضلعی حکومت کے ضلع ناظم اعظم آفریدی نے پشاور کو ورسک سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کیلئے بھر پور تگ و دو کرتے رہے مگر کچھ مسائل آڑے آتے رہے۔ ان کے بعد دوسرے ضلع ناظم حاجی غلام علی نے بھی اس منصوبے کوآگے بڑھانے کی بھر پور کوشش کی تاہم وفاقی حکومت نے روڑے اٹکائے حالانکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق قدرتی دریا جن علاقوں سے گزر تے ہیں ان پر ان دریائو ں کی گزرگاہ کے علاقوں کا حق فائق ہوتا ہے مگر پشاور کے باشندوں کا یہ عالمی حق تسلیم نہیں کیا گیا اس لیے اس منصوبے کو بھاری پتھر سمجھ کر چومنے سے انکار کر دیا گیا ہے ، تاہم ضلعی حکومت نے بجائے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لئے جہاں جہاں شہر کے مختلف علاقوں میں زنگ آلود پائپ لائنز پانی کو آلودہ بنا رہی ہیں ، وہاں ان پائپوں کو تبدیل کر کے عوام کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ بنانے کی فکر کر ے ، الٹا پانی کو میٹروں کے ذریعے ناپ تول کے پیمانوں سے گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس پر اگر عوام نے احتجاج کرنا شروع کردیا تو یقینا حق بجانب ہوگا ۔ یہ تو شکر ہے اور اللہ کا کرم کہ ملک اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اور اب انگریز وں کے دور کی طرح کوئی مسلمان پانی اور ہند و پانی کی آوازیں بلند نہیں ہو رہی ہیں ، تاہم پانی جو پہلے ہی عوام پر فروخت کیا جارہا ہے اگر ناپ تول کے پیمانوں کے ذریعے مزید مہنگا کر دیا گیا تو یہ کر بلا سے کم نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد اگر مودی سرکار نے بھی کہیں سندھ طاس معاہدے کے تحت باقی تین دریائوں کو ہندو پانی قرار دے کر ہمیں پانی سے محروم کر دیا تو ہمارے پاس اس کو روکنے کا کیا جواز ہوگا ، اس لئے ضلعی حکومت پانی کے میٹرلگوانے کی سوچ تج دے تو اچھاہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی اکثر یت ہے اور پانی پر سب کا حق ہے ۔

متعلقہ خبریں