Daily Mashriq

ڈونلڈ ٹرمپ کے انقلابی اقدامات

ڈونلڈ ٹرمپ کے انقلابی اقدامات

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 25ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے فوراً بعد امریکہ کے کئی شہروںسمیت دُنیا کے کئی ممالک میں مظاہروں کا آغازہو گیا ۔امریکی تاریخ میں یہ پہلاموقع تھا کہ منتخب صدر کے خلاف اُس کے مخالفین کی جانب سے کھلا کھلم احتجاج کیا گیا ۔عوام سڑکوں پر آگئے۔توڑ پھوڑ کی۔گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔پہلی مرتبہ امریکی صدر کے جارحانہ رویہ کے خلاف برہمی کا اظہار کیا گیا ۔امریکہ میں اس سے قبل عام طور پر انتخابات کے دوران سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی ایک روایتی طریقہ رہا ہے۔لیکن انتخابات کے بعد عوامی سطح پر اتنی مخالفت نہیں کی گئی ۔جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد صورتحال پیش آرہی ہے۔دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف برداری کے بعد اپنے منشور پر عمل درآمد کرنا شروع کردیا ہے۔پہلا فرمان جو جاری کیا گیا وہ سابق امریکی صدر اُوبامہ کا ہیلتھ کئیر بل کے بارے میں تھا۔اس بل پر امریکی عوام کے کئی تحفظات ہیں۔لیکن یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی ایجنڈے میں شامل تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کے تجارتی مفادات پر تحفظات ہیں۔ان کا خیال ہے کہ امریکہ سے سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکال کر ترقی پذیر ممالک میں پیداوار شروع کی ہے۔جس کی وجہ سے امریکہ میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور ٹیکس کی مد میں آمدنی میں کمی واقع ہو گئی ہے۔لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ جن سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ چین اور ویت نام منتقل کیا ہے اُس کی بڑی وجہ تجارت میں منافع ہے۔امریکہ میں پیداواری لاگت ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔اس لئے کارخانہ داروں نے غریب ممالک میں اشیاء کے پیداواری یونٹس لگائے ہیں۔جس پر بہت کم خرچہ آتا ہے۔کیا سرمایہ کار اپنا سرمایہ واپس لا کر امریکہ میں سرمایہ کاری کرینگے؟ جس سے امریکی میں کارخانوں میں پیداوار بڑھ جائیگی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔یہ سوچ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ان تمام ممالک سے ہمیشہ سرمایہ کاری غریب ملکوں کی طرف جارہی ہے۔یہ تجارتی سوچ ہے کہ غریب ممالک میں مینو فیکچرنگ کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کما یا جائے۔یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں ہے۔بلکہ پاکستان سے بھی سرمایہ بنگلہ دیش منتقل ہورہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے 12ملکوں کی تجارتی تنظیم ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ (TPP)سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ (TPP)تجارتی معاہدہ بارہ ممالک آسٹریلیا، برونائی، کینیڈا،چلی ،جاپان، ملائیشیا، میکسیکو، نیوزی لینڈ،پیرو،سنگا پوراورامریکہ پر مشتمل تھا۔اب امریکہ کے نکل جانے کے بعد یہ صرف گیارہ ممالک پر مشتمل رہ گیا ہے۔اب چین کیلئے ایک زبردست موقع ہے کہ امریکہ کے اس معاہدے سے نکل جانے کے بعد اس خلاء کو پر کرنے کیلئے سازگار ماحول بن گیا ہے۔حالیہ ڈیوس(سوئٹرز لینڈ)میں منعقدہ کانفرنس میں چین کے صدر نے اپنے خطاب میں گلوبلائزیشن کی حمایت کی اور پرزور انداز میں عالمی تجارتی روکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات میں چین کا کردار بیان کیا ۔یہ دو بالکل متضاد اقدامات پہلی دفعہ سامنے آگئے کہ چین عالمی تجارت کو کھولنا چاہتا ہے۔جبکہ امریکہ آزاد تجارتی معاہدوں کو ختم کرنے کے درپے ہے۔امریکہ (NAFTA)نارتھ امریکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے بارے میں دوبارہ مذاکرات کیلئے فضاء ہموار کررہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی ایجنڈے کا تیسرا نعرہ اسرائیل کے ساتھ وعدہ تھا کہ وہ برسرا قتدار آکر امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرینگے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر میکسیکو کے ساتھ سرحد بند کردینگے۔جس کے جواب میں میکسیکو کے صدر کے مجوزہ دورے کو منسوخ کردیا گیا ۔امریکہ اور میکسیکو کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سخت رویے کے منفی اثرات نظر آئینگے۔صاف ظاہر ہے کہ اس عمل سے کیا امریکہ مضبوط ہوگا؟ یا اُس کے مخالفین میں اضافہ ہوگا؟صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مہذب دُنیا کے دوسرے ممالک بھی امریکہ کے اس رویے پر تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ روس اور امریکہ کے تعلقات کیا شکل اختیارکرتے ہیں۔اگر روس امریکہ کے ساتھ قافلے میں شامل نہیں ہوا تو پھر مشرقی یورپ ،شمالی یورپ اور مرکزی یورپ کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جائیگا۔بہرحال یہ امریکن پالیسی ہے ۔جیسے وہ چاہیںملک کو چلائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مینڈیٹ ہے ۔اُس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جو بھی پالیسی اختیار کریں۔ لیکن عالمی سطح پر اقوام اور ممالک کے مابین اختلافات کی خلیج بڑھتی جارہی ہے۔جو عالمی امن کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں