Daily Mashriq

اُمت مسلمہ ، اصول ، مفادات اور خود غرضی

اُمت مسلمہ ، اصول ، مفادات اور خود غرضی

اس بات میںکوئی شک نہیں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ '' بے شک مومن آپس میں بھائی ہیں '' نبی ۖ نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تعلیمات کے مطابق مدینہ طیبہ میں جو معاشرہ اور ریاست تشکیل فرمائی اُ س کے شہری ، عوام اور افراد آپس میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند تھے ۔ آپ ۖ نے مسلمان امت کے افراد کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے اور اس کے ہر فرد کو دیوار کی اینٹ کی مانند قرار دیکر فرمایا کہ جس طرح ایک اینٹ دوسرے کو مضبوط کرتی ہے ، اسی طرح مسلمان معاشرہ اور امت کے افراد ایک دوسرے کو نیکی اور معروف کے کاموں میں تقویت پہنچا تے ہیں اور ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں ۔اگر چہ جناب خاتم النبیین اور خلافت راشدہ کے مبار ک ادوار کے بعد اسلامی اُخوت اتنی مضبوط تو نہ رہی لیکن پھر بھی آج کی صورت حال سے بہت بہتر تھی ۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے درمیان اگرچہ خون ریزجنگیں ہوئیں اور اسلامی اُخوت اور اُمت کا تصور بُر ی طرح مجروح ہوا ، لیکن دوسری طرف دونوں ادوار میں بہر حال بحیثیت مجموعی امت کا تصور موجود رہا ۔ اُمت اور اسلامی اُخوت کے تصور کو اُس وقت شدید نقصان پہنچا جب مسلما نوں کو اقتدار و مادیات نے بُری طرح گھیر لیا ۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے درمیان جنگیں بھی اس تناظر میں ہوئیں ۔ لیکن جب کبھی قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے والے حکمران اقتدار میں آئے ، تو مسلمانوں کے درمیان اُخوت کے رشتے اُستوار ہونے لگے یا جب کبھی مسلمانوں پر کوئی آفت و مصیبت نازل ہوئی تو اسلامی تعلیمات ہی نے اُن کو ایک لڑی میںپرو کر مقابلے کے لئے یک جان بنا دیا ۔تقریباً ڈیڑھ صدی کی بد ترین غلامی کے بعد اسلامی ملکوں میں ایسی شخصیا ت سامنے آئیں جنہوں نے مسلمان ممالک اور خطوں کو استعمار کی غلامی سے نجات کے لیے قومیت اور عصبیت کے نام پر جمع کیا لیکن اس کے پیچھے اسلامی تعلیمات کی قوت اور استعمار کے خلاف لڑائی میں جہاد کا جذبہ شامل تھا ۔ عثمانی خلافت کے بعد ایک معجزہ یہ رونما ہو ا کہ عرب ممالک میں ترکوں کی خلافت سے چھٹکارا پانے کے لئے عرب قومیت اس حد تک بڑھی کہ مغربی استعمار سے نجات کے بعد ایک زبان ، ایک تاریخ و ثقافت اور ایک ہی دین کے پیروکار ہوتے ہوئے تقریباًاکیس عرب ممالک وجود میں آئے ، اور ایک طویل عرصے تک عرب نیشنلزم کا جا دو سر چڑھ کر بولتا رہا ، یہاں عرب لیگ کے نام پر عرب ممالک کاایک اتحاد تو قائم ہوگیا ، لیکن عجمی دنیا کے مسلمانوں سے وہ بے نیاز ہو کر رہ گئے ۔ دوسری طرف بر صغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے مختلف النوع نسلوں قبائل اور تہذیب و ثقافت اور زبانوں کے باوجود خیبر سے راس کماری تک لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر اکٹھے ہونے لگے اور انگریز ی استعمار سے آزادی کے ساتھ وسیع وعریض ہندوستان میں مسلمان اکثریت کے علاقوں پر مشتمل الگ ملک کے مطالبے پر جمع ہوئے ۔

مسلمانان ہند کے درمیان کلمہ توحید کی بنیاد پر اُخوت کا درس دینے میں جہاں علماء ہند کا شاندار کردار رہا وہاں سب سے توانا آواز شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے بلندکی ۔ آپ کی اُخوت اور امت پر مشتمل نغموں اور نظموںنے ایک ایسی تحریک بر پا کی جس کی قوت کے سامنے برطانیہ اور ہندو مل کر بھی نہ ٹھہر سکے ۔ عرب ممالک اور دیگر اسلامی دنیا میں قومی ریاستیں ایک عرصے تک چلتی رہیں اور آج بھی قومیت کو فوقیت حاصل ہے ۔ لیکن 1969ء میں جب اسرائیل نے بیت المقدس کے ایک حصے کو آگ لگادی تو عرب ہی ایک شخصیت (شہید شاہ فیصل ) قومی ریاست کے پرستاروں کو اُمت کی لڑی میں ایک دفعہ پر ونے کے لئے دیوانہ وار نکلی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ آئی سی کے پر چم تلے اُمت بنا کر دکھایا ، لیکن ہائے افسوس کہ اُن کو اس لئے ہٹا یا گیا کہ استعمار کو خطرہ پیدا ہو ا کہ یہ تو وہی مشیر ہے جو اگر بیدار ہو ا تو تاریخ دہرائی جا سکتی ہے ۔ آج ایک دفعہ اُخوت اور ملت واحد کے سبق کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ پاکستان کا اولین فرض ہے کہ اُمت کو بیدا کرے اور اس کی قیادت کرے ۔ اگرچہ ہمارے ہاں بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں جو پاکستان کو اُمت اور اُخوت کے تصور کے حامل اور علمبر دار ہونے پر مطعون کرتے رہتے ہیں ۔لیکن ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ اگر سارے اسلامی ممالک سرتاپا قومیت میں ڈوب جائیں تب بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم پاکستان پاکستان کا مقصد کیا؟ لا الہ الااللہ کا درس نہ بھولیں اور اسی بنیاد پر اُمت کو اکٹھا کرنے کے لئے ہر جتن کریں ۔آج ٹرمپ کی جارحانہ اور مسلمان ممالک کے لئے خطرناک پالیسیوں کے آگے بند باندھنے کے لئے اُمت کی سطح پر سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ دو اہم اسلامی ممالک ٹرمپ کی پالیسیوں کی تائید کر بیٹھے ہیں اور باقی اسلامی دنیا منقار زیر پر ہے ۔ ایران نے سخت اور بجا رد عمل کا اظہار کیا ہے لیکن اکیلے ایران نقصان اُٹھا ئے گاجو پہلے بھی اُٹھا چکاہے ۔ پاکستان گو مگو کی حالت میں ہے اس لئے احقر کی ایران سے درخواست ہے کہ شام ، یمن اور عراق میں اپنی پالیسی کو اُخوت اسلامی کی بنیا د پر آگے بڑھا کر پاکستان اور ترکی کو اپنے ساتھ ملائے اور مسلمان ملکوں کے درمیان اختلافات کو حل کرکے ٹرمپ کیخلاف متفقہ مئوقف سامنے لائے ۔ اس کے لئے o,i,cسے بہتر فورم کہاںہے ؟ ایران اور پاکستان پہل کرے ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور امت کا تصور نیست ونا بود ہو ۔

متعلقہ خبریں