پاک امریکہ تعلقات کے معمول پر آنے کا عندیہ

پاک امریکہ تعلقات کے معمول پر آنے کا عندیہ

پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے امریکہ کے ساتھ تعاون کو جاری رکھنے کا اشارہ کرتے ہوئے قوم کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کورکمانڈرز کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لئے تمام شراکت داروں سے تعاون جاری رکھنے کیساتھ قومی مفادات اولین ترجیح رہے گی۔ خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیا اور افغانستان کے لئے اعلان کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں شدت دیکھنے میں آئی تھی اور پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی صدر کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ہم نے پاکستان کو امداد دے کر بے وقوفی کی اور اب ایسا نہیں چلے گا، جس کے بعد پاکستان کی سیکورٹی امداد معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ اسی دوران سیکورٹی امداد کی معطلی کے فوری بعد پینٹاگون کی جانب سے سیکورٹی تعاون کے معاملات پر جنرل ہیڈ کوارٹر سے بات چیت کا ایک اور دور کھولا گیا اور جی ایچ کیو اور سینٹ کا کمانڈر جنرل جوزف ووٹل اور ایک نامعلوم امریکی سینیٹر کے درمیان رابطہ بھی ہوا تھا۔ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے امریکہ سے تعاون جاری رکھنے کا عندیہ اس پیشرفت کے بعد ہی سامنے آیا ہے جس میں امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کانگریس کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد روک کر دباؤ ڈالنے کا حربہ بری طرح شکست سے دوچار ہوا اور اسلام آباد تاحال اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔ امریکہ کی نئی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کے حوالے سے سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی میں امریکی حکام اور پارلیمانی وفد نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام ناممکن ہے۔ دریں اثناء وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد نہیں روکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ میں (پالیسی کے لحاظ سے) نئے تجربات کئے جا رہے ہیں لیکن پاکستان اور افغانستان کا جغرافیہ ایک ہی ہے اسلئے امریکہ کیلئے افغانستان میں امن کی کوششوں میں دنیا میں کوئی ملک پاکستان سے زیادہ اہم اور مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خطے میں امریکہ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اہم ہیں اس لئے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ افغان پالیسی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ بے شک نیا ہو مگر بداعتمادی کے پیچھے الزام تو وہی پرانا ہے کہ پاکستان مخصوص انتہا پسندوں کو محفوظ پناگاہیں مہیا کر رہا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا جو عنصر حال تک محسوس کیا جانے لگا تھا اس وقت سے ہی اس امر کا اندازہ تھا کہ امریکی عہدیدار دھمکیوں کے باوجود اس امر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ امریکی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے عہدیداروں کو بھی اسی وقت ہی اس امر کا بخوبی ادراک ضرور ہوگا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ ٹویٹ اور بعض عہدیداروں نے جو دھمکی آمیز لب ولہجہ اختیار کیا اس کو بھی امریکی حکومت کی جانب سے سخت ترین دباؤ کا حربہ قرار نہ دیئے جانے کی کوئی وجہ نہیں جس میں ان کو نہ صرف بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دونوں ہی کی جانب سے قومی اُمنگوں کی جراتمندانہ انداز میں ترجمانی پر مبنی مئوقف اختیار کیا گیا اس سے امریکیوں کو پاکستان کے تیور اور اداروں کا بخوبی اندازہ ہونا فطری امر تھا۔ اگر دیکھا جائے تو پانی گدلا کرنے کا آغاز بھی واشنگٹن ہی سے ہوا اور پھر اسے فلٹر کرنے کی ذمہ داری بھی امریکیوں کو ہی نبھانا پڑی۔ بہرحال اس حوالے سے دوسری رائے نہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی اہمیت وضرورت دونوں کیلئے ہی مسلمہ اور ضروری ہیں جو اُتار چڑھاؤ پر مبنی حالات سے متاثر ضرور ہوتے آئے ہیں مگر اس مجبوری کے بندھن کو نبھانے کی ضرورت کا بالآخر قائل ہونا ہی پڑتا ہے۔ خطے کے دیگر معاملات سے قطع نظر جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے اور افغانستان میں ان کے مفادات اور معاملات کا سوال باقی رہتا ہے اس وقت تک امریکہ پاکستان کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا جبکہ پاکستان کی دفاعی اور دیگر ضروریات کی وابستگی کی اہمیت سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔

اداریہ