Daily Mashriq


جاں بحق ملازمین کو نظر انداز کرنے کا معیوب رویہ

جاں بحق ملازمین کو نظر انداز کرنے کا معیوب رویہ

ایک جانب جہاں میڈیا، حکمران، سیاستدان اور معاشرہ بعض معاملات میں حساسیت کا مظاہرہ کرتا ہے تو دوسری جانب محولہ بالا عناصر کی بے حسی پر ماتم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں فرض کی ادائیگی کے دوران جو شخص بھی جان کی بازی ہار جاتا ہے اس کی تحسین ریاست وحکومت اور عوام سبھی کی مشترکہ ذمہ داری ہے مگر بدقسمتی سے ایسا کرنا تو درکنار اس کی روایت ہی نہیں۔ لواری ٹاپ میں مواصلات کی بحالی کی سعی میں پی ٹی سی ایل کے اہلکار باپ بیٹے کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا بھی وطن اور اہل وطن کی خاطر فرض نبھاتے ہوئے جان کی قربانی دینا ہے۔ ہمارے تئیں اس طرح کے بہادر اہلکار بھی شہید ہی کہلانے کے مستحق ہیں اور ان کو بھی شہداء پیکج دینے کی ضرورت ہے مگر اس ضمن میں بے حسی کا عالم یہ دیکھنے میں آیا کہ ریسکیو اہلکاروں نے چند دن کی کوشش کے بعد ہاتھ کھڑے کر دیئے لیکن مقامی لوگوں نے ہمت نہ ہاری اور برف کے تودے تلے دبی لاشوں کو نکالنے میں بالآخر کامیاب ہوگئے۔ اس امر کی وضاحت نہیں کہ باپ بیٹا دونوں پی ٹی سی ایل کے ملازمین تھے یا پھر ایک دوسرے کی مدد کیلئے اکٹھے گئے تھے، بہرحال ہر دو صورتوں میں ان کے اہل خاندان کو سخت نقصان کا سامنا کرنا پڑا، بعید نہیں کہ یہی باپ بیٹا خاندان کی کفالت کے ذمہ دار بھی ہوں گے، جن کی موت سے دو زندگیاں ہی نہ چلی گئی ہوں گی بلکہ دو خاندانوں کے زیر کفالت افراد بے یارومددگار ہو چکے ہوں گے۔ اس کا احساس نہ تو کسی حکومتی شخصیت وعہدیدار نے کیا اور نہ ہی کروڑوں روپے ماہوار کمانے والی کمپنی نے ان مرحومین کے اہل خاندان اور لواحقین کیلئے دم تحریر کسی مدد کا اعلان کیا ہے۔ جب تک حکومت اور ادارے اپنے کارکنوں کے حوالے سے حساسیت سے کام نہیں لیں گے اور ان کی عملی حوصلہ افزائی اور حکومتی وادارہ جاتی ذمہ داریوں کی ادائیگی تعجیل کیساتھ سامنے نہیں آئے گی اور ملازمین کو یہ خدشہ رہے کہ دوران ڈیوٹی خدانخواستہ کسی حادثے کے بعد ان کے اہل خاندان کو دربدر ہونا پڑے گا، اس وقت تک وہ دلجمعی کا مظاہرہ کرنے سے معذور ہوں گے۔ پی ٹی سی ایل اور صارفین کی خدمت کرتے ہوئے دشوار گزار اور شدید برفیلے اور خطرناک ترین علاقے میں خطرہ مول کر اور جان پر کھیل کر جن کا رکنوں نے مثال قائم کی ہے اس کا عملی اعتراف ہونا چاہئے اور فوری طور پر ان کے اہل خاندان کیلئے شہداء پیکج کے مساوی مراعات کا اعلان کرنے اور جلد سے جلد اس پر عملدر آمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ صاحب بس مزید تاخیر نہ ہو

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی مدت اقتدار کی تکمیل کے وقت محکمہ صحت وخزانہ کو صوبے بھر میں تمام ہسپتالوں کو عملے اورآلات کی سو فیصد فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ صوبے کے ہسپتالوں میں بہتری کے دعوئوں میں کمی رہ گئی تھی ایسا ہونا ناممکن اس لئے نہیں کہ صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں کی ضروریات کی ایک دور حکومت میں تکمیل ممکن ہی نہیں ۔تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں رنگ وروغن تو بہت کئے گئے مگر تشخیصی آلات اور علاج معالجے کی سہولتوں اور عملے کی کمی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے ۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات و اقدامات کی کمی اور خلاء کا احساس ہوتا ہے ۔ اس موقع پر اجلاس میں صحت کے شعبوں میں ہونے والے جن اقدامات کا تذکرہ کیا گیا ان کا عدم اعتراف بھی انصا ف نہ ہوگا لیکن بہر حال اس ساری تپسیا کے باوجود اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ صوبے کے عوام کو صحت کی بہترسہولتوں کی فراہمی کا خواب ابھی بہت دور ہے جس کی تعبیر پانے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بزرگ شہریوں اور معذور افراد کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے اس ضمن میں فوری طور پر محکمہ صحت اور سماجی بہبود کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں پوری تیاری کے ساتھ شریک ہوں اور ان کے مسائل حل کئے جائیں ۔ بزرگ شہری اور معذور افراد ہماری خصوصی توجہ اور ہمدردی کے منتظر ہیں ان کے پاس زیادہ انتظار کاوقت اور حوصلہ بھی شاید باقی نہ رہا ہو۔بنابریں جتنا جلد اس ضمن میں اقدامات کئے جائیں اتنا ہی مستحسن ہوگا ۔ وزیراعلیٰ نے بزرگ شہریوں اور معذور افراد کے حوالے سے محکمہ صحت اور سماجی بہبود کوجو ہدایت کی ہے اور پوری تیاری کا کہا ہے یہ از خود اور اپنی جگہ اس خاص شعبے میں دونوں سرکاری محکموں کی کارکردگی کا عکاس ہے جس پر دعوئوں کے باوجود توجہ نہ دینا تو درکنار ان محکموں کی تیاری اور منصوبہ بندی تک درست نہیں کجا کہ بزرگ شہریوں اور معذور افراد کا خیال رکھا جائے ۔

متعلقہ خبریں