Daily Mashriq

آئین پاکستان کا احترام

آئین پاکستان کا احترام

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جب قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہیں وہ ’’وسائل اور ذرائع جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے‘‘ تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا ’’جو بھی فیصلہ آیا اسے من و عن تسلیم کریں گے۔‘‘ ان سے ہی توقع کی جانی چاہیے تھی کیونکہ وہ آئین کے تحت قائم ہونے والے ادارے قومی اسمبلی میں‘ آئین کے تحت حلف اٹھانے والے وزیر اعظم کی حیثیت سے‘ آئین کے تحت قائم ہونے والی سپریم کورٹ کے فیصلے کے قابلِ تسلیم ہونے کے بارے میں بات کر رہے تھے یعنی وہ آئین کی وفاداری اور احترام کے تقاضوں کے مطابق بات کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت ہوئی ان کے اور ان کے اہل خانہ کے وکلاء میاں نواز شریف کے اس دعوے کو صحیح ثابت نہ کر سکے کہ یہ’’ ہیں وہ وسائل اور ذرائع…‘‘ اور لندن فلیٹس کی خریداری میں کام آنے والی رقم کی منی ٹریل عدالت میں پیش نہ کر سکے۔ جس کی وجہ سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔ جے آئی ٹی کو کارکردگی کے دوران سابق وزیر اعظم کا اقامہ دستیاب ہو گیا جس کے تحت وہ بیرون ملک ایک کمپنی کے تنخواہ دار ملازم رہے۔ یہ تنخواہ ان کے اثاثوں میں شامل ہوتی رہی۔ سابق وزیر اعظم نے یہ حقیقت اپنے انتخابی گوشواروں میں (آئین کے تقاضوں کے مطابق) ظاہر نہیں کی تھی اس لیے انہیں آئین کے تقاضوں کے مطابق آئین کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے عوامی نمائندگی کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد سابق وزیر اعظم نے اپنا وہ اعلان شاید بھلا دیا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی وہ اسے من و عن تسلیم کریں گے۔ انہوں نے ’’ووٹ کے تقدس‘‘ کے نام سے ایک مہم شروع کر دی ہے ۔ اور ووٹروں کے دیے ہوئے مینڈیٹ کو آئین کے تحت قائم ہونے والی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر فائق قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ بظاہر یہ بڑی سادہ سی بات نظر آتی ہے کہ ووٹروں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جانا چاہیے لیکن یہ مینڈیٹ جمہوری پارلیمانی نظام میں جو ہمارے ہاں رائج ہے کسی پارٹی کو اس کے منشور کی روشنی میں ملک کے آئین کے تحت حکومت کا نظم و نسق چلانے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یعنی ووٹ کے احترام کا مطلب سیدھے سادے الفاظ میں یہ ہے کہ جسے ووٹ دیے جائیں گے وہ ملک کے آئین کے تقاضوں کے مطابق حکومت کا انتظام چلائے گا یااس میں معاون ہو گا۔ لیکن میاں صاحب کا استدلال کچھ اور ہے وہ شکوہ کرتے ہیں کہ پانچ ججوں نے بیس کروڑ عوام کے مینڈیٹ کے حامل (یعنی خود انہیں) چلتا کر دیا۔ یہ پانچ ججوں اور بیس کروڑ عوام کے مینڈیٹ کا موازنہ ہی گمراہ کن ہے۔ پانچ یا ایک جج کا مطلب سپریم کورٹ ہے جو آئین پاکستان کے تحت قائم ہونے والا ادارہ ہے۔ اس کا منصب یہ ہے کہ وہ آئین پاکستان کے مطابق فیصلہ دے۔ سپریم کورٹ نے اگر میاں نواز شریف کو عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا ہے تو وہ آئین کی شق کے مطابق دیا ہے کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کا منصب یہی تقاضا کرتا ہے۔ اور پاکستان کے شہری کی حیثیت سے آئین پاکستان میاں نواز شریف سے بھی تقاضا کرتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں جیسے کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں محولہ یا بیان میں اعلان کیا تھا ۔ اور بطور رکن پارلیمنٹ اور منتخب وزیر اعظم ان کی آئین کی پاسداری کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ وہ عوام کے ووٹ کی بنا پر وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ عوام نے یہ مینڈیٹ انہیں اپنی آئینی ذمہ داری کے تحت دیا تھا اور خود میاں نواز شریف بطور سابق وزیر اعظم آئین کے تحت آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا حلف اٹھا چکے تھے اور پاکستان کے عام شہری کی حیثیت سے بھی ان پر آئین پاکستان سے وفاداری اور اس کا احترام لازم ہے۔ لیکن اس کے برعکس میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ عوام نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا ہے۔ ان کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے کوئی شواہد نہیں ہیں محض اپنے باطن کی آواز کو عوام کی آواز کہا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’عوام کی عدالت‘‘ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مختلف ہے ۔ یہ بہت خطرناک راستہ ہے۔ عوامی عدالتوں کے مظاہرے حالیہ چند مہینوں میں دیکھنے میں آئے جب لوگوں نے از خود کسی کو چوری کے الزام میں یا کسی اور جرم کے الزام میں پکڑااور مار ڈالا یا پھر ادھ موا کر دیا۔ عوامی عدالتوںکا مطلب سیدھا سادہ جنگل کا قانون ہے یا فوری گروہی ردِعمل ہے۔ اس طرح ملک سے انصاف کے ادارے ختم ہو جاتے ہیں۔ فوری گروہی ردِ عمل کو عوامی عدالت کہنے کا مطلب نہ صرف نظام عدل کی توہین ہے بلکہ پاکستان کے آئین کی توہین ہے جس کے تحت پاکستان میں نظامِ عدل قائم ہے۔ میاں صاحب نے پشاور کے حالیہ جلسہ عام میں عام لوگوں کو بھی توہینِ عدالت اور توہین آئین پر اکسانے کی کوشش کی جب انہوں نے دو وزراء کے ہاتھ کھڑے کر کے کہا کہ ان پر بھی توہین عدالت لگ گئی ہے۔ اور مجمع سے پوچھا کیا آپ اسے مانتے ہیں؟ اور مجمع سے نحیف سی ’’نہیں‘‘ سننے کے بعد کہا ’’عوامی عدالت کا فیصلہ آگیا ہے۔‘‘ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت معاملے پر پبلک جلسہ کی رائے طلب کرنا صریح توہین عدالت اور توہین آئین ہے کیونکہ سپریم کورٹ آئین کے تحت قائم ادارہ ہے ‘پاکستان کا آئین متفقہ آئین ہے ۔ اس کی وفاداری اور اس کا احترام ہر پاکستانی پر لازم ہے ۔ایک سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار چوہدری نے کہا تھا کہ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام ان کے فیصلوں کی حفاظت کریں گے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ عوام آئین اور سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ’’عوامی عدالتیں‘‘ اب تک بہت کچھ کر چکی ہوتیں۔ عوام کو آئین پاکستان کی حفاظت کیلئے آواز اٹھانی ہوگی۔

اداریہ