Daily Mashriq

بی آر ٹی منصوبہ ۔ خدشات ، تحفظات

بی آر ٹی منصوبہ ۔ خدشات ، تحفظات

ایک زمانہ تھا جب اخبارات میں عمومی طور پر خبریں چھپتی تھیں جو مختلف ذرائع سے صحافیوں کو کسی نہ کسی طور دستیاب ہوجاتی تھیں اور ان اخبارات میں واقعات کو جوں کا توں پیش کیا جاتا ، مگر وقت کیساتھ ساتھ تحقیقاتی رپورٹنگ کا آغاز ہوا ، خبروں کے اصل پس منظر اور حقائق کی تلاش کے بعد ایک اچھا صحافی اپنی رپورٹیں زیادہ محنت سے تیار کر کے اپنے قارئین کو باخبر رکھنے کی تگ و دو کرتے رہے اور اب دنیا بھر میں Investigative Reportingکی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں میڈیا کیساتھ سوشل میڈیا کو بھی ایک اہم مقام حاصل ہے اور ایسی باتیں جو عمومی طور پر میڈیا پرنظرنہیں آتیں انہیں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہوئے گھنٹوں کی بجائے منٹ بلکہ سیکنڈ ز لگتے ہیں ، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ہر چیز پر یقین اور اعتماد کی چھتری تنی ہوئی نہیں ہوتی ، اور ان خبروں یا اطلاعات کو بسا اوقات سیاسی اختلاف کا باعث بھی سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ روز فیس بک پر ایک پوسٹ پر نظر پڑی جو امان اللہ حقانی کے نام سے سامنے آئی ہے ، اس میں جن حقائق کا ذکر کیا گیا ہے وہ یقینا قابل توجہ ہیں اور اگر یہ محض کسی سیاسی مخالفت پر مبنی نہیں تو ان پر متعلقہ حکومتی حلقوں اور ادارے کو سنجید گی سے تو جہ دینی چاہئے بلکہ ان اعتراضات کا جواب بھی فرض بنتا ہے اور اگر حقائق کے برعکس ہیں تو بھی اس کی سرکاری طور پر وضاحت لازمی ہے ، تاکہ اصل صورتحال عوام کے سامنے آجائے ۔ جناب امان اللہ حقانی کی پوسٹ جو ’’یہی تو ہونا تھا‘‘ کے عنوان سے سامنے آئی ہے۔ درج ذیل ہے ۔۔ ’’میں نے بی آر ٹی منصوبے کی خامیوں کی اس وقت نشاندہی کی تھی جبکہ ابھی دس گززمین بھی نہیں کھودی گئی تھی ۔ روز روز کی تبدیلیوں کی وجہ سے اب یہ منصوبہ پاکستان کا سب سے مہنگا ترین منصوبہ بنتا جارہا ہے ۔ ارباب سکندر فلائی اوور کے سائیڈ پر بی آر ٹی کوریڈور بنانے پر کام شروع ہوا تو احساس ہوا کہ اس سے تو پانچ اہم یوٹرن مکمل بند ہو جائیں گے لہٰذا اس میں فوری تبدیلی کر کے ارباب سکندر فلائی اوور کے متوازی ایک دوسرا فلائی اوور بنانے کا فیصلہ کیا گیا ،جس کیلئے تیزی سے کام شروع کر کے 35 سے زیادہ پائلز بھی کھودے گئے اور اب اس کا بہت کام ہو چکا تھا کہ اسی اثنا میں اے ڈی بی والے آگئے اور متوازی پل بنانے سے انکار کر دیا، یوں کوریڈور پھر زمین پر لایا گیا اب اس سے نقصان یہ ہوا کہ ایک تو چالیس کے قریب پائلز کو بند کرنے کی وجہ سے کروڑوں روپے ضائع چلے گئے جبکہ دوسری طرف اربوں روپے کے اخراجات سے بنایا گیا ارباب سکندر فلائی اوور اور بھی بے معنی ہو کر رہ گیا کیونکہ اس کے نیچے بنائے گئے پانچ یوٹرن بند ہو جائیں گے اسی طرح جناح پارک کے قریب طویل انڈر پاس بنانے کیلئے پورا علاقہ کھودا گیا لیکن جونہی یہ کام آگے بڑھا تو انکشاف ہوا کہ شاہی کھٹہ یہاں سے نیچے گزر رہا ہے حالانکہ پشاور کا بچہ بچہ اس حقیقت سے باخبر ہے مگر منصوبہ بندی کرنے والے بے خبر تھے، پی ڈی اے نے اس پر کام روک کر اس کو اوور گرائونڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس تبدیلی کو بھی اے ڈی بی نے مسترد کر کے انڈر پاس کو بہتر صورت میں برقرار رکھنے کے احکامات صادر کئے اور اب یہ فیصلہ کیا گیا کہ شاہی کھٹہ کو یہاں سے نکال کر پیچھے لے جایا جائے گا جو ایک طویل اور مہنگے پراسیس کا متقاضی ہے، اب اس پر مزید کثیر اخراجات سے قومی خزانے کو کتنا بڑا ٹیکہ لگے گا یہ ایک اہم سوال ہے۔ اسی طرح امن چوک میں بسوں کیلئے انڈر پاس کی تعمیر جب آخری مراحل میں داخل ہوگئی تو اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ اس میںتو بس ہی نہیں گزرپائے گی جس کی وجہ سے وہ پورا انڈر پاس ضائع ہوگیا۔ یہی صورتحال حیات آباد میں تاتارا پارک کے قریب پل کی تعمیر کے دوران پیش آئی ۔ پل کی تعمیر زور و شور کیساتھ جاری تھی کہ اچانک تعمیر کو روک کر50 سے زائد مکمل شدہ پائلز کو دوبارہ بند کرنا پڑا جس سے خطیر رقم ضائع ہو کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت پریشانی کے عالم میں ٹیکسٹ بک بورڈ کے6 ارب روپے بی آر ٹی کیلئے نکال رہی ہے جس کا خمیازہ آنیوالی حکومتوں کو بھگتنا پڑے گا اور پھر یہی پیسے صحت یا تعلیم کیلئے مختص فنڈز سے کم کئے جائیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے اس ناقص منصوبہ بندی پر چالیس کروڑ روپے خرچ کئے تھے اب ان پر اخراجات در اخراجات کا ذمہ دار کون ہوگا؟ جناب امان اللہ حقانی نے اپنی پوسٹ میں جن حقائق کی نشاندہی کی ہے اگر وہ واقعی درست ہیں تو یہ چشم کشا ہیں، خاص طور پر ارباب سکندر فلائی اوور کے نیچے جن پانچ یوٹرن کے بند ہونے کے خدشات سامنے آئے ہیں ان سے شہر کے عوام ایک نئے اور مستقل عذاب سے دوچار ہو جائیں گے اور انہیں جی ٹی روڈ پر آنے کیلئے طویل مسافت طے کرنا پڑے گی جبکہ اس سے ٹریفک کے رش میں بھی اضافہ ہو جائے گا، اس لئے عوام اس صورتحال کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ یوں ان سارے سوالات کا جواب اور خدشات کی وضاحت سرکاری سطح پر لازم ہو جاتی ہے اور اگر یہ حقائق کے منافی بلکہ محض الزامات ہیں تو بھی صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ وہ حقائق سامنے لاکر عوام کو مطمئن کرے تاکہ اسے سیاسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسی طرح حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اس ضمن میں اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اسمبلی میں آواز اٹھائیں، ان کی خاموشی کو بھی عوام منفی رویئے سے تعبیر کریں گے۔

اداریہ