میڈیا خبریں توپہنچا رہا ہے لیکن!

میڈیا خبریں توپہنچا رہا ہے لیکن!

پاکستان ان دنوں مشکل حالات کا شکار ہے عوام کی جان اور خون اتنے ارزاں ہیں کہ ایک طرف سے امریکہ اور دوسری طرف سے دہشت گرد اس پر حملہ آور ہیں۔ نہ سڑک محفوظ نہ مارکیٹ نہ حجرہ نہ مسجد۔ میڈیا بڑی تندہی سے یہ خبریں عوام تک پہنچا رہا ہے بلکہ ہر چینل دوسرے سے پہلے نیوز بریک کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ انتہائی سرعت کے ساتھ ہر خبر ہم تک پہنچ جاتی ہے۔ حکومت کی بد انتظامی کے پول بھی عوام کے سامنے کھل رہے ہیں اور ہمارے ماورائی خوبیوں کے ساتھ مشہور ہونے والے رہنما اپنی اصل حقیقت اور کردار کے ساتھ عوام کی عدالت میں کھڑے ہیں یہ اور بات کہ اس عدالت میں ملزم ہی طاقتورہے۔ عوام کے مالیاتی سے لے کر معاشرتی مسائل تک سامنے آرہے ہیں ۔ یہ ہمارے میڈیا کا وہ رخ ہے جو قابل ستائش ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارا میڈیا معاشرے کی شکست وریخت کا بھی ذمہ دار بن رہا ہے کسی بھی ملک و قوم کی مضبوطی کے لیے سب سے پہلے اس کی معاشرتی روایات کو مضبوط ہونا چاہیے اور اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کو مذہب کے ساتھ ساتھ معاشرت کے بھی اصول دیئے ہیں اور درحقیقت یہی اصول اسلامی معاشروں کی بنیاد بنتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حیا کو نصف ایمان قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ، رسول اللہﷺ پر ایمان اور عبادات کے بعد یہ اہم ترین احکامات میں سے ہے بلکہ اسے ایمان و عبادت میں ضروری قرار دیا گیا۔ نماز شروع کرنے سے پہلے سر اور جسم کو ڈھانپنا ضروری ہے یوں اسے عبادت کا جز بنا دیا گیا ہے ۔ مخلوط محافل اور غیر ضروری رابطوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ اسلام عورت کو گھر میں بند نہیں کرتا لیکن اسے نمائش کی چیز نہیں سمجھتا کیونکہ اسلام اُسے عزت دیتا ہے اور اُسے ایک نیک اور سلجھے ہوئے معاشرے کا ذمہ دار سمجھتا ہے لیکن بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے بزعم خود پختہ ذہن ، روشن خیال اور ترقی پسند کہلانے والے میڈیا نے ٹاک شوز کے ذریعے سیاسی اصلاح کا تو بیڑا اٹھایا ہوا ہے لیکن معاشرتی سدھار اور سنوار کو اپنی ذمہ داریوں سے خارج کر دیا ہے، بیرونی چینلز کے اوپر کوئی چیک نہیںہر قسم کے مناظر دکھا کر میڈیااس بگاڑ کا مرتکب ہورہا ہے۔ پیمرا کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا ہوگا ورنہ ہمارے معاشرے میں بچ جانے والی چند ایک معاشرتی قدروں کا خاتمہ بھی عنقریب ہوجائے گا۔ ہم جو بڑے فخر سے اپنی اخلاقیات کا ذکر کرتے تھے وہ قدریںتو ویسے ہی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ اِن غیر ملکی چینلز کے بعد ذرا اپنے ڈرامہ چینلز پرنظر ڈالیے تو بھی آپ کوبسا اوقات پاکستانیت ڈھونڈنا پڑتی ہے۔ بیرونی چینلز کو تو آپ لاک کر دیجئے، انڈین ڈرامہ چلانے اور دیکھنے پر پابندی لگا دیجئے لیکن نیوز چینلز کے ساتھ کیا کیا جائے کہ خبریں چلتے چلتے کسی انڈین فلم کا کوئی ایسا منظر سکرین پر نظر آئے گا کہ شریف گھر انے کا ہر فرد چینل کی تبدیلی تک ایک دوسرے سے نظریں چرانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ بھارتی اداکار ائیں شاید اتنا اپنے چینلز پر نظر نہ آتی ہوں گی جتنا ہمارے میڈیا پر۔ ہمارے ہاں چلنے والے اکثر اشتہارات برائے نام تو کو پروڈکشن کے ہیں لیکن درحقیقت بھارتی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہیں کیونکہ جو لباس اور طور طریقے ان میں دکھائے جاتے ہیں وہ کسی بھی طرح ہمارے نہیں۔ اب ذرا آئیے ان اشتہارات کی طرف جن میں ہماری ماڈلز ماڈلنگ کرتی نظر آتی ہیں لیکن انتہائی مختصر اور بیہودہ لباس میں۔ چلیں مان لیا کہ تصویر کائنات میں رنگ اسی سے ہے لیکن رنگ بھرنے کا بھی ایک ہنر ایک طریقہ ہوتا ہے اور اس بند کا کمال آج یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ عورت کو نیم عریاں لباس میں کسی بھی پر اڈکٹ کی مشہوری کے لیے استعمال کر لیا جائے بلکہ خبروں اور میڈیا چینلز کی شہرت کے لیے بھی اور اگر یہ ماڈلز بھارتی ہوں تو پھر تو کیا ہی بات ہے اگر چہ ہماری اپنی اداکارائیں بھی کچھ کم نہیں تا ہم یہ تو کسی تر درد کسی تکلف کی قائل نہیں، اُن کا معاشرہ، ان کا مذہب اور انکی فلمی صنعت جانے اور وہ جانے لیکن ہم نے کیوں اپنے الیکٹرانک میڈیا، اشتہارات، اخبارات، میگزینز ہر چیز کے لیے انہیں ضروری سمجھ لیا ہے بلکہ اسی پر کیا موقوف بڑے فخر سے ہر چوک میں بورڈ آویزاں کر کے انہیں اپنے ملک اور معاشرے کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا خود کو اسلامی معاشرہ کہنے کے بعد ان مصنوعات کو یوں سرعام مشتہر کرنا مناسب بھی ہے۔ اعتراض کی صورت میں جواب یہ دیا جاتا ہے کہ دور جدید میں یہ سارے ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں تو ذرائع سے اختلاف نہیں ہے بلکہ طریقے سے اختلاف ہے۔ ایک معاشرہ جو مذہب اور تہذیب دونوں کی بنا پر اس قسم کی حرکات کو معیوب سمجھتا ہے وہاں ان مناظر کے بعد جو خرابی جنم لیتی ہے اس کا علاج ناممکن ہو جاتا ہے۔ موبائل ہی کو لیجئے کہ ہر شخص اسے کان سے لگائے ہوئے نظر آتا ہے اور جو لوگ بھوک کے مارے خود کشی پر آمادہ ہیں وہ بھی موبائل پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں اور نوجوان اسے اُسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جیسا وہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں اور اس میں ماڈرن اور بیک ورڈ اور پڑھے لکھے یا ان پڑھ کی کوئی تخصیص نہیں۔ ہم اپنی روایات بڑی حد تک کھو چکے ہیں لیکن حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے ہمیں ان کی بازیافت کرنا ہوگی۔ جو باقی ہیں ان کو بچانے کے لیے ہمیں سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی دراصل ہمارے بہت سے مسائل کی جڑیں انہیں اقدار و روایات سے روگردانی سے جڑی ہوئی ہیں ۔ جس کے لیے حکومت اور عوام دونوں ذمہ دار ہیں پیمرا کو چینلز اور کیبل آپریٹرز دونوں کے لیے ایک معتدل اور اخلاقی حدوں کا حامل ضابطہ بنانا ہوگا ورنہ ہم اپنی آخری پونجی سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

اداریہ