Daily Mashriq


یوم یکجہتی اور ’’ کیوں نکالا ‘‘ کی صدائیں

یوم یکجہتی اور ’’ کیوں نکالا ‘‘ کی صدائیں

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف مظفر آباد میں ایک بڑے جلسہ عام میں کھل کرکشمیریوں کی حمایت میں بات نہ کر سکے۔انہوں نے بہت مبہم انداز میں کشمیریوں کی حمایت کا اعادہ کیا ۔نوازشریف نے کشمیریوں کے ساتھ خون کے رشتے کا ذکر کیا ۔انہوں نے سری نگر کے عوام کو مخاطب کر کے حمایت کا پیغام دیااور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان کے عوام آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔میاںنوازشریف عدالتی فیصلوں کے بعد ملک بھر میں جلسوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پشاورکے جلسے نے ان کا اعتماد بظاہر بڑھا دیا تھا اوراس کے دوسرے روز ہی مظفر آباد میں ان کا جلسہ منعقد ہوا ۔خیال یہی تھا کہ ملک کے دوسرے شہروں میں منعقد ہونے والے جلسوں کے برعکس مظفر آباد میں ان کی تقریر کا محور اور مرکز مقبوضہ کشمیر کے حالات ہوں گے ۔ مثبت اور قابل تقلید رویہ تو یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے قومی راہنما کشمیر کی سرزمین پر ہوں تو انہیں اپنے ذاتی اور جماعتی معاملات کوہالہ اور منگلا پار ہی چھوڑ نے چاہئے ۔یہاں ان کی توجہ کا مرکز کشمیر ہی رہنا چاہئے مگر یہ توقع بہت کم ہی پوری ہوتی ہے ۔نوازشریف نے آزادکشمیر کی تعمیر وترقی کے حوالے سے ذاتی حیثیت میں بھی کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا حتیٰ کہ انہوں نے آزادکشمیر میں اپنارول طلب کرکے وزیرا عظم فاروق حیدر کی حکومت پر بھی ایک تلوار لٹکا دی ۔بھارت نے روزاول سے ہی پاکستان کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کی روش اختیار کرلی ۔پھر پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔کشمیر جیسی مسلمان اکثریتی ریاست پر حیلوں بہانوں سے قبضہ کرنا بھارت کی اسی سوچ کا عکاس تھا ۔کشمیریوں کے ساتھ حق خودارادیت کے وعدے کر کے بھارت کا مکر جانابھی اسی ذہنیت کا عکاس تھا ۔ایک وقت تو وہ آیا جب بھارت نے پاکستان کو دولخت کرکے اپنا سارا غصہ اتارنے کی کوشش کی ۔اس کے بعدبھی بھارت کا غصہ پوری طرح اتر نہ سکا۔بھارت نے حیلوں بہانوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں جا ری رکھیں ۔بھارت کی سوئی عملی طور پر تقسیم ہند کے عمل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ستر سال بیت گئے ۔اس عرصے میں زمانہ ہی نہیں دنیا بدل گئی ۔دنیا کے جغرافیے تبدیل ہوئے ۔سلطنتیں اُبھر کرڈوب گئیں۔صدیوں کی بادشاہتیں زوال کا شکار ہوگئیں۔انسان ترقی کرتا ہوا کہاں سے کہاں جا پہنچا۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔دونوں نے میزائل سازی کے ذریعے اسلحہ کے انبار لگا دئیے مگربھارت آج بھی بدلنے کو تیار نہیں ۔بھارت آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں وہ 1947میں تھا ۔یعنی پاکستان کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچایا جائے کشمیریوں کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبایا جائے۔جب تک نیت تبدیل نہیں ہوتی عمل اور رویہ بھی نہیں بدلتا ۔بھارت کو اپنی سوچ اور فکر میں تبدیلی لانا ہوگی ۔اس کے بغیر پاکستان سے نہ ماننے کا گلہ بے سود ہے۔اس وقت بھارت خوفناک تکبر کا شکار ہے ۔چین کے اخبار نے کچھ عرصہ قبل اپنے اداریے میں بجا طور پر لکھا تھا کہ امریکہ اورمغربی ملکوں کی تعریفوں نے بھارت کو تکبر کا شکار کیا ہے۔اسی لئے نریندر مودی ہوا کے گھوڑے پر سوا رہیں۔وہ مصالحت اور مفاہمت کی کسی کوشش کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے لئے خود سپردگی اختیا ر کرے ۔یہ ناممکن بات ہے ۔پاکستان کی ساری جدوجہد بھارتی بالادستی کے خلاف جاری رہی ہے ۔آج روزانہ کشمیر کا کوئی نہ کوئی جوان بھارتی گولیوں کا نشانہ بن کر منصب شہادت پر فائز ہوتا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ بھارت کی گردن کشمیر میں پھنس کر رہ گئی ۔دنیا نے کسی نہ کسی انداز میں کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لیا ہے۔جس کی وجہ سے بھارت مجبور ہوکر اب نظربند اور اسیر حریت قیادت کی منت ترلے پر اُتر آیا ہے ۔ بھارت کشمیر کی تحریک کو کچلنے کے لئے آخری حد تک جانے کو تیار ہے ۔کشمیری بھارت کے قبضے کو قبول کرنے کو تیار نہیں ۔مغربی طاقتیں بھارت کی محبت میں گرفتار ہیں۔پاکستان اب کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹ جانے کا فیصلہ کر چکا ہے،چین ایک نئے کھلاڑی کے طور پر کھل کر سامنے آچکا ہے۔ اس لئے پاکستان میں ایک مربوط کشمیر پالیسی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام اور آزادکشمیر کے روابط کو انتظامی معاملات میں بہتری اور اختیارات میں اضافہ کرکے مضبوط بنانا ضروری ہے۔میاں نوازشریف کا کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی اور تعلق کا زیادہ موثر پیغام اسی صورت میں ملتا کہ اگر وہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر بات کرتے ۔کشمیریوں کی قربانیوں کا پرُ زور انداز میں تذکرہ کرتے مگر انہوں نے یہاں بھی تھوڑا مختلف انداز میں کیوں نکالا ؟کی ہی گردان جاری رکھی ۔میاں نوازشریف شاید اب ردعمل کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے خیال میں مسئلہ کشمیر اب فوج کا مسئلہ اور دردِ سر ہے ۔ان کی یہ ذہنی کایا پلٹ دوسرے پہلے دور اقتدار میں ہی شروع ہو چکی تھی ۔

متعلقہ خبریں